Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

آرٹی فیشل زیورات پہننا کیسا ہے؟

آرٹی فیشل زیورات پہننا کیسا ہے؟
Reference 1878 September 18, 2025 9,407 views
اصل سوالآرٹی فیشل زیورات پہننا کیسا ہے؟

آرٹی فیشل زیورات پہننا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ عورتوں کو آرٹیفیشل جیولری پہننا کیسا ہے کیا اس کو پہن کر نماز پڑھنے سے نماز ہوجائے گی اور کسی نے پہن کر نماز پڑھ لیا ہو تو کیا حکم ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں. سائلہ: عالمہ حفظیہ الہ آباد یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب آرٹیفیشل زیورات پر سونے یا چاندی کی خول ہو تو اس کا پہننا جائز ہے۔ اور اس میں سونے یا چاندی یا کانچ کے اجزاء غالب ہوں تو بھی جائز ہونا چاہئے بصورت دیگر اس کا پہننا ناجائز و مکرہ تحریمی ہے۔ اور ناجائز زیورات پہن کر نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے تو جو نمازیں اس حالت میں پڑھی گئیں ان کا دہرانا واجب ہے۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے: ” لا باس بان يتخذ خاتم حديد قد لوي عليه او البس بفضة حتي لايري ” اھ (ج٥، ص٤١٤، کتاب الکراھیۃ ، باب استعمال الذھب والفضۃ ، دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان) کتاب فیصلہ جات شرعی کونسل میں ہے: “اور اگر ان ( آرٹی فیشل) زیورات پر سونے یا چاندی کا خول چڑھا دیا جاۓ تو جائز” اھ (  ، ص ٢٤٧ ناشر جامعۃ الرضا بریلی شریف) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ” اما التمويه الذي لا يلخص فلا باس به بالإجماع لانه مستهلك فلا عبرة ببقائه لونا ” اھ (رد المحتار علی الدر المختار ، ج٩ ، ص٤٩٧، کتاب الحظر والاباحۃ، دار عالم الکتب الریاض) کتاب فیصلہ جات شرعی کونسل میں ہے:”اور اگر ان ( آرٹی فیشل زیورات ) پر محض سونے یا چاندی کا پانی چڑھایا گیا ہوتوان کا پہننا ناجائز۔ اس لئے کہ سونے کا پانی یا چاندی کی قلعی کر دینے سے اصل شیئ کا حکم نہیں بدلتا۔ ” اھ (ص٢٤٧، ناشر جامعۃ الرضا بریلی شریف) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کانچ کی چوڑیاں پہننے کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: “جائز ہے۔ لعدم المنع الشرعی (اس لئے کہ کوئی شرعی مانع نہیں ہے) بلکہ شوہر کے لئے سنگار کی نیت سے مستحب وانما الاعمال بالنیات بلکہ شوہر یا ماں یا باپ کا حکم ہو تو واجب :لحرمۃ العقوق ولوجوب طاعۃ الزوج فیما یرجع الی الزوجیۃ۔ (اس لئے کہ والدین اور شوہر کی نافرمانی حرام ہے اور شوہر کی فرمانبرداری بسلسلہ حقوق زوجیت واجب ہے) ” اھ (فتاوی رضویہ جدید ، ج٢٢، ص١١٥، کتاب الحظر والاباحۃ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء ” اھ (رد المحتار علی الدر المختار ، ج٩ ، ص٥١٨، کتاب الحظر والاباحۃ ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض) کتاب فیصلہ جات شرعی کونسل میں ہے: ” سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات کا استعمال ناجائز و مکروہ تحریمی ہے ۔ ” اھ (ص٢٤٧، ناشر جامعۃ الرضا بریلی شریف) احکام شریعت میں ہے: “جو چیزیں ممنوع کی گئی ہیں ان کو پہن کر نماز اور امامت مکروہ تحریمی ہیں” اھ (احکام شریعت، ص١٨١، نظامیہ کتاب گھر لاہور) الدر المختار مع ردالمحتارمیں ہے “کل صلاۃ أدیت مع كراهة التحريم تجب اعادتھا ” اھ (ج٢ ، ص: ١٤٧ /١٤٨ کتاب الصلاة ، باب صفۃ الصلاۃ ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض) یعنی ہر وہ نماز جو کراہت تحریم کے ساتھ ادا کی گئی اس کو دہرانہ واجب ہے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ  اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.