Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #402 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.1K Views

آنکھیں بند کرکے نماز پڑھناکیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

آنکھیں بند کرکے نماز پڑھناکیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

آنکھیں بند کرکے نماز ادا کرنا کیسا ہے ؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

آنکھیں بند کرکے نماز ادا کرنا مکروہِ تنزیہی (یعنی شرعاً ناپسندہ عمل) ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی حالت میں آنکھیں بند کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسلیے بھی کہ (حالتِ قیام میں) سجدہ کی جگہ کو دیکھنا سنت ہے اور آنکھیں بند کرنے سے یہ سنت ترک ہوجاتی ہے، اور اسلیے بھی کہ ہرعضو کیلیے نماز میں سے ایک حصہ ہوتا ہے اور آنکھیں بند کرنے سے آنکھیں وہ حصہ حاصل نہیں کرپاتیں ۔

البتہ اگر آنکھیں کھلی رکھنے سے خشوع و خضوع حاصل نہ ہوتا ہو بلکہ آنکھیں بند کرنے سے خشوع و خضوع حاصل ہوتا ہو تو پھر مکروہِ تنزیہی بھی نہیں بلکہ اس صورت میں تو آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا بہتر ہے ۔

چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے :

“ويكره أن يغمض عينيه في الصلاة ؛ لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن تغميض العين في الصلاة ؛ ولأن السنة أن يرمي ببصره إلى موضع سجوده وفي التغميض ترك هذه السنة ؛ ولأن كل عضو وطرف ذوحظ من هذه العبادة فكذا العين” ۔

یعنی اور اپنی آنکھوں کو نماز میں بند رکھنا مکروہ (تنزیہی) ہے، بوجہ اس کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں انکھ بند کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور اس لیے کہ (قیام کی حالت میں) اپنے سجدے کی جگہ پر اپنی آنکھ کے ساتھ دیکھنا سنت ہے، اور آنکھیں بند رکھنے میں اس سنت کا ترک ہے، اور اس لیے کہ ہر عضو اور طرف کیلئے اس عبادت میں سے حصہ ہوتا ہے پس آنکھ بھی ایسے ہی ہے ۔

(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع جلد اول صفحہ 507 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

نماز میں آنکھ بند رکھنا مکروہ ہے، مگر جب کھلی رہنے میں خشوع نہ ہوتا ہو تو بند کرنے میں حرج نہیں، بلکہ بہتر ہے۔ (درمختار ،ردالمحتار)

(بہارشریعت جلد اول، حصہ سوم، صفحہ 634 مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبید رضا مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">آنکھیں بند کرکے نماز ادا کرنا کیسا ہے ؟</h2> <p style="direction: rtl;"><strong>الجواب بعون الملک الوہاب:</strong></p> <p style="direction: rtl;">آنکھیں بند کرکے نماز ادا کرنا مکروہِ تنزیہی (یعنی شرعاً ناپسندہ عمل) ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی حالت میں آنکھیں بند کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسلیے بھی کہ (حالتِ قیام میں) سجدہ کی جگہ کو دیکھنا سنت ہے اور آنکھیں بند کرنے سے یہ سنت ترک ہوجاتی ہے، اور اسلیے بھی کہ ہرعضو کیلیے نماز میں سے ایک حصہ ہوتا ہے اور آنکھیں بند کرنے سے آنکھیں وہ حصہ حاصل نہیں کرپاتیں ۔</p> <p style="direction: rtl;">البتہ اگر آنکھیں کھلی رکھنے سے خشوع و خضوع حاصل نہ ہوتا ہو بلکہ آنکھیں بند کرنے سے خشوع و خضوع حاصل ہوتا ہو تو پھر مکروہِ تنزیہی بھی نہیں بلکہ اس صورت میں تو آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا بہتر ہے ۔</p> <p style="direction: rtl;"><strong>چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے :</strong></p> <p style="direction: rtl;">"ويكره أن يغمض عينيه في الصلاة ؛ لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن تغميض العين في الصلاة ؛ ولأن السنة أن يرمي ببصره إلى موضع سجوده وفي التغميض ترك هذه السنة ؛ ولأن كل عضو وطرف ذوحظ من هذه العبادة فكذا العين" ۔</p> <p style="direction: rtl;">یعنی اور اپنی آنکھوں کو نماز میں بند رکھنا مکروہ (تنزیہی) ہے، بوجہ اس کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں انکھ بند کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور اس لیے کہ (قیام کی حالت میں) اپنے سجدے کی جگہ پر اپنی آنکھ کے ساتھ دیکھنا سنت ہے، اور آنکھیں بند رکھنے میں اس سنت کا ترک ہے، اور اس لیے کہ ہر عضو اور طرف کیلئے اس عبادت میں سے حصہ ہوتا ہے پس آنکھ بھی ایسے ہی ہے ۔</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع جلد اول صفحہ 507 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)</strong></p> <p style="direction: rtl;">صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">نماز میں آنکھ بند رکھنا مکروہ ہے، مگر جب کھلی رہنے میں خشوع نہ ہوتا ہو تو بند کرنے میں حرج نہیں، بلکہ بہتر ہے۔ (درمختار ،ردالمحتار)</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(بہارشریعت جلد اول، حصہ سوم، صفحہ 634 مکتبۃ المدینہ کراچی)</strong></p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی ابواسیدعبید رضا مدنی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...