01
The questionSawaal
اصل سوالآیت اِسرا :اورشان نزول از کتاب معراج حبیب ﷺ مترجم مولانا مظہر حسین علیمی
02
The responseAl-Jawab
آیت اِسرا :اورشان نزول
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ (۱) (ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندۂ خاص کو رات کے تھوڑے سے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے گِردونواح ہم نے برکت رکھی تا کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بے شک وہی خوب سننے والاخوب دیکھنے والاہے)۔ اس آیت میں اُن مشرکین کا رد ہے جنہوں نے اِسرا کو جھٹلایا جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مشرکین کو اس کی خبر دی۔ آیت میں’’ سُبْحٰنْ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذات ہر عیب ونقص سے پاک ہے اور کوئی بھی شئی اس کی طرح نہیں۔ اہلِ اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں’’ عَبْدْ‘‘ سے مراد سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ اللہ رب العزت نے ’’بِعَبْدِہٖ‘‘ فرمایا اس لیے کہ عبودیت جس کی نسبت و اضافت اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف کی گئی ہے یہ سب سے زیادہ شرف والامقام ومرتبہ اور بلند ترین اعزاز ہے اور بندۂ مومن کے لیے اس سے بڑھ کرکمال والی کوئی اور صفت نہیں اور نہ عبودیت سے بلند کوئی مقام ومرتبہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مقاماتِ شرف و تکریم میں اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر عبدیت کا اِطلاق فرمایا۔ مثلا سورۃ الکہف میں ارشاد فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلیٰ عَبْدِہٖ الْکِتٰبَ۔(۲) (تمام خوبیاں اس اللہ کے لیے جس نے اپنے بندے پرکتاب نازل فرمائی۔) اور سورۂ فرقان میں فرمایا: ’’تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہٖ‘‘ (۱) (بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ ٔ خاص پرفیصلہ کرنے والی کتاب نازل فرمائی۔) اور سورۂ نجم میں : فَاَوْحیٰ اِلیٰ عَبْدِہٖ مَا اَوْحیٰ‘‘(۲)ارشاد فرمایا۔ ان تمام آیات میں ’’عبد‘‘ سے مراد سرور کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اہم معلومات
اس بات پر علما کا اتفاق ہے کہ اِسرا اور معراج کا واقعہ بعثتِ نبوی کے بعد واقع ہوا۔ مگر اس کے وقت ا ورزمانے کے تعین میں علماکا اختلاف ہے۔ بعض علما کے نزدیک ہجرت کے ایک سال قبل یہ واقعہ پیش آیا اور ایک قول یہ ہے کہ ہجرت سے پانچ سال قبل ماہِ رجب میں یہ واقعہ پیش آیا اور یہی مشہور ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ماہِ رمضان کاواقعہ ہے اور ایک قول کے مطابق یہ واقعہ ماہِ ربیع الاول میں دوشنبہ کی شب میں رونماہوا یہی آپ کی ولادت باسعادت کی تاریخ ہے اسی دن آپ نے اعلان نبوت فرمایا۔ اسی دن آپ نے ہجرت فرمائی، یہی آپ کے وصال کا دن ہے۔ علما اس پر متفق ہیں کہ ِاسرا اور معراج کاواقعہ روح اور جسم دونوں کے ساتھ حالت بیداری میںپیش آیا یہ نیند کا واقعہ نہیں ہے۔ اس پر آیاتِ کریمہ کا ظاہر دلالت کررہا ہے اور اس بارے میں صحیح احادیث بھی وارد ہیں اور یہ از روئے عقل بھی ممکن ہے اور قدرتِ الٰہیہ کی شایان شان بھی ہے۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہ‘‘۔اور عبد در حقیقت روح اور جسم کے مجموعے کو کہتے ہیں۔ دوسری دلیل: اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشادہے : مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَاطَغیٰ (۱) یہ آیت اِسرا ومعراج کے جسم کے ساتھ حالتِ بیداری میں ہونے پر نہایت صراحت کے ساتھ دلالت کر رہی ہے اس لیے کہ یہاں جس واقعے کاذکر ہے اس کی اضافت ونسبت بصر کی طرف کی گئی ہے اور یہ نسبت اسی وقت درست ہوگی جب کہ واقعہ اسرا ومعراج بیداری کی حالت میں جسم کے ساتھ ہو۔ اور اسی کی شہادت یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَقَدْ رَأیٰ مِنْ آیٰتِ رَبِّہٖ الْکُبْریٰ (۲) ( ترجمہ: بے شک اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھی)۔ معلوم ہوا کہ اِسرا ومعراج کا واقعہ اگر حالتِ خواب کا ہوتا تو اس میں نہ تو آیت ونشانی ہوتی اور نہ اس میں کوئی معجزہ ہوتا جو آپ کی سچائی پر دلالت کرتا۔ حضرات انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔لیکن خواب کے معاملات میں وہ کمال واعجاز نہیں ہوتا جو حالت بیداری کے معاملات میں ہوتا ہے۔یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو کفار ومشرکین اسے بعید خیال کرتے اسے نہ جھٹلاتے اور اس بات کو سن کر کچھ کمزور ایمان والے مرتد نہ ہوجاتے۔ لوگ اس بات کو سن کر فتنے میں مبتلا ہوگئے اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ عادت سے دور تھی اور یہ واقعہ ایسے زمانے میں پیش آیا جب کہ اسے بہت بعید سمجھا جارہا تھا۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ اس طرح کے خواب کا انکار نہیں کیا جاتا بلکہ کفار کی تکذیب، ان کا بعید سمجھنا اور بعض لوگوں کامرتدہوجانا اس بات پر سب سے قوی دلیل ہے کہ انھوں نے یہ سمجھاکہ صاحب معراج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خبر دی ہے اس کا تعلق حقیقی جسمانی بیداری سے ہے جس میں کسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں۔ حضرت امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی صحیح میں اور حضرت سعید بن منصور نے اپنے سنن میں حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد’’ وَمَا جَعَلْنَا الرُّء یَا الَّتِیْ اَرَیْنٰٰکَ اِلَّافِتْنَۃً لِلنَّاسِ‘‘ کے متعلق روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد اسراکی رات اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاماتھے کی آنکھوں سے دیکھنا ہے ۔اس روایت میں حضرت سعیدنے اتنااضافہ کیاہے کہ خواب کادیکھنامراد نہیں ہے۔(۱)نقطۂ آغازسے مسجد اقصیٰ تک
اِسرا کا آغاز مسجد حرام سے اُس وقت ہوا جب حضرت جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام اس گھر میں تشریف لائے جس میں حضور موجود تھے۔حضرت جبرئیل امین آپ کو مسجد حرام لے گئے مقام حجر تک۔ پھر شقِ صدر کا کام انجام دیا پھر براق تک لے گئے ،نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور آپ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی معیت میں اپنے اس مبارک سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ مبارک سفر اچانک پیش آیا پہلے سے اس بارے میں نہ کوئی وقت مقرر نہ تھا اور نہ اس کے لیے پہلے سے کوئی تیاری تھی ۔اسی جانب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول ’’بَیْنَمَا اَنَا‘‘ سے اشارا فرمایا ہے۔ بہر حال یہ واقعہ اچانک درپیش ہوا اوربغیر کسی سابقہ اطلاع اور اشارے کے رونماہوا۔ اس کے برخلاف حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ جومناجات وہم کلامی ہوئی تھی یہ وقتِ مقررہ پر ہوئی تھی جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: وَ وٰعَدْنَامُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ج وَقَالَ مُوْسٰی لِاَخِیْہِ ہٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ o(۱) (ترجمہ :اور ہم نے موسٰی سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا او ر موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا) ۔ پوری کتاب پڑھنے کے لئے کلک کریں ۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.