Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1729 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.1K Views

ادھار دے کر نفع لینا سود ہے از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ادھار دے کر نفع لینا سود ہے از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ادھار دے کر نفع لینا سود ہے

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته محترم مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ: ایک شخص نے مکان خرید لیا اور قیمت کی ادائیگی مکمل نہیں کی، بلکہ اس میں 4 لاکھ روپے باقی تھے، جس کی ادائیگی کے لئے مدت متعین کی گئی، ابھی اس نے وہ مکان آگے فروخت کردیا ادھار پر، اب چونکہ وہ متعینہ مدت مکمل ہوگئی، لیکن اس کے پاس پیسے نہیں ہے لہذا اس نے کسی اور سے 4 لاکھ اس غرض سے لئے کہ میں نے جو مکان آگے بیچ دیا ہےاس میں جتنا منافع آئے گا آپ کا بھی اس میں اپنی رقم کے حساب سے منافع ہوگا۔ کیا اس صورت میں رقم دے کر منافع حاصل شرعا کیسا ہے؟ جزاکم اللہ خیرا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں کسی اور سے وہ چار لاکھ روپیہ لے کر نفع میں شریک کرنا سود اور ناجائز وحرام ہے، کیوں کہ یہ تو واضح ہے کہ جس نے وہ چار لاکھ روپیے دیے وہ قرض کے طور پر دیا ہے اور وہ اپنا چار لاکھ قرض واپس لینے کے ساتھ اس نفع میں بھی حصہ لے گا جو نفع اس مکان بیچنے والے کو ملے گا اور یہ قرض دے کر نفع اٹھانا ہے جو سود ہے۔ حدیث شریف ہے: “کل قرض جرّ منفعة فھو ربا”(کنز العمال ٦ / ٢٣٨) ہاں! اگر مکان بیچنے والا اس چار لاکھ روپیے میں اپنا بھی کچھ پیسہ ملا کر بطور شرکت کوئی چیز خریدے اور پھر بیچ کر با ہم کسی فیصد پر مثلا آدھا آدھا نفع لیں تو یہ جائز وحلال ہوگا۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢۵/اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>ادھار دے کر نفع لینا سود ہے</h2> السلام عليكم ورحمة الله وبركاته محترم مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ: ایک شخص نے مکان خرید لیا اور قیمت کی ادائیگی مکمل نہیں کی، بلکہ اس میں 4 لاکھ روپے باقی تھے، جس کی ادائیگی کے لئے مدت متعین کی گئی، ابھی اس نے وہ مکان آگے فروخت کردیا ادھار پر، اب چونکہ وہ متعینہ مدت مکمل ہوگئی، لیکن اس کے پاس پیسے نہیں ہے لہذا اس نے کسی اور سے 4 لاکھ اس غرض سے لئے کہ میں نے جو مکان آگے بیچ دیا ہےاس میں جتنا منافع آئے گا آپ کا بھی اس میں اپنی رقم کے حساب سے منافع ہوگا۔ کیا اس صورت میں رقم دے کر منافع حاصل شرعا کیسا ہے؟ جزاکم اللہ خیرا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورتِ مسئولہ میں کسی اور سے وہ چار لاکھ روپیہ لے کر نفع میں شریک کرنا سود اور ناجائز وحرام ہے، کیوں کہ یہ تو واضح ہے کہ جس نے وہ چار لاکھ روپیے دیے وہ قرض کے طور پر دیا ہے اور وہ اپنا چار لاکھ قرض واپس لینے کے ساتھ اس نفع میں بھی حصہ لے گا جو نفع اس مکان بیچنے والے کو ملے گا اور یہ قرض دے کر نفع اٹھانا ہے جو سود ہے۔ حدیث شریف ہے: "کل قرض جرّ منفعة فھو ربا"(کنز العمال ٦ / ٢٣٨) ہاں! اگر مکان بیچنے والا اس چار لاکھ روپیے میں اپنا بھی کچھ پیسہ ملا کر بطور شرکت کوئی چیز خریدے اور پھر بیچ کر با ہم کسی فیصد پر مثلا آدھا آدھا نفع لیں تو یہ جائز وحلال ہوگا۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٣/رمضان المبارک</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ٢۵/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...