Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1888 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.9K Views

اسپیکر سے آیت سجدہ سننے والوں کا حکم از مفتی محمد ارشد حسین الفیضی۔

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اسپیکر سے آیت سجدہ سننے والوں کا حکم از مفتی محمد ارشد حسین الفیضی۔

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اسپیکر سے آیت سجدہ سننے والوں کا حکم

مفتی محمد ارشد حسین الفیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز تراویح میں سجدے کی آیت آئی تو کیا جو لوگ حالت نماز ہوں صرف انہیں پر سجدہ ہے اور جو لوگ نماز میں تو نہ ہوں لیکن آیت سجدہ کی تلاوت سنیں ان پر سجدۂ تلاوت نہیں ہے؟ اور گھروں میں اسپیکر لگا ہوا ہے تو جو عورتیں اور مرد وغیرہ اسپیکر پر آیت سجدہ سنیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے آیا ان پر سجدہ واجب ہوگا یا نہیں؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں. المستفتی:محمد عرفان کھوجبل بھروچ گجرات انڈیا بسم ﷲ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب ببشرط سماع ان لوگوں پر بھی سجدۂ تلاوت واجب ہے جو نماز میں نہیں ہیں امام ابو بکر بن علی بن محمد حداد زبیدی تحریر فرماتے ہیں”ولو سمعھا من الامام اجنبی لیس معھم فی الصلاۃ ولم یدخل معھم فی الصلاۃ لزمہ السجود لانہ قد صح لہ السماع وھو ممن یصح منہ السجود کذا فی شرحہ” اھ(الجوھرۃ النیرۃ ج١ص٢٠٨،کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ) ایسا ہی فتاویٰ ھندیہ ج١ص١٣٣، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ میں بھی ہے. رہا وہ لوگ جو گھروں میں رہکر اسپیکر کی آواز پر سجدۂ تلاوت سنتے ہیں ان کو بھی احتیاطاً سجدہ کا حکم دیا جائے گا وجہ یہ کہ اسپیکر کے متعلق محققین کی دو مختلف رائیں رہی ہیں بعض اھل علم نے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو بعینہ متکلم کی آواز قرار دیا اس لیے اس کی آواز پر سجدۂ تلاوت واجب ہونا چاہیے. کتاب”لاوڈ اسپیکر کا شرعی حکم” میں صفحہ ٣٧ پر ہے”ظاہر ہے کہ لاؤڈ اسپیکر میں اعادہ سماع نہیں اور نہ اس غرض کے لیے اس کی ایجاد ہوئی ہے تو وہ آلہ مکبر الصوت ہے جس کا کام محض آواز کو بلند کرکے دور تک پہونچانا ہے اس لیے اس سے مسموع قرأت نہ صرف ایک مکلف وذی ہوش قاری کی قرأت ہے بلکہ اس کے سماع پر وجوب سجدہ کا حکم بھی ہونا چاہئے”اھ(ص٣٧) اور بعض علماء کے نزدیک لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز نہیں بلکہ صدا ہے اور صدا کا وہ حکم نہیں جو متکلم کی آواز کا ہے کہ متکلم کی آواز بغیر کسی چیز سے ٹکرائے صرف ہوا کے تموج سے سننے والے کے کان تک پہنچتی ہے اس لیے صدا سے آیت سجدہ سنے تو سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا اور یہی جمہور علماء اھل سنت اور اکابرین امت کا فتویٰ ہے. الجوھرۃ النیرۃ میں ہے”وان سمعھا من الصدی لم یجب علیہ شئی”اھ(ج١ص٢٠٨، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ) فتاویٰ ھندیہ میں ہے”وان سمعھا من الصدی لاتجب علیہ کذا فی الخلاصۃ” اھ(ج١ ص١٣٢،کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ) فتاویٰ فیض الرسول میں مراقی الفلاح مع طحطاوی سے ہے”لاتجب بسماعہ من الصدی وھو مایجیبک ومثل صوتک فی الجبال او الصحاری ونحوھا” اھ(ج١ص٢٦٠،کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ) لہذا ان علماء کے نزدیک لاؤڈ اسپیکر سے مسموع آیت سجدہ پر سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا علماء اور فقہاء کے اسی اختلاف کے سبب فقہی قائدۂ کلیہ” رعایت الخلاف مستحب”کے تحت لاؤڈ اسپیکر پر مسموع آیت سجدہ سے سجدۂ تلاوت کا حکم دیا جائے گا کہ یہی حکم احتیاط ہے ہاں اگر اسپیکر پر نشر ہونے والی تلاوت ریکارڈنگ وغیرہ کرکے نشر کی جارہی ہو تو اس سے کسی کے نزدیک سجدہ واجب نہیں ہوگا اس پر سبھی علماء اھل سنت کا اتفاق ہے جیسا کہ سیدی امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے فونو گراف کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ”ہم ثابت کرتے آئے ہیں کہ یہ جو فونو سے سننے میں آئی اسی مکلف عاقل ذی ہوش کی تلاوت ہے نہ کہ اس کی مثال وحکایت، پھر یہاں سجدہ نہ واجب ہونے کی کیا وجہ ہے. اقول:ہاں وجہ ہے اور نہایت موجہ ہے گنبد کے اندر یا پہاڑ یا چکنی گچ کردہ دیوار کے پاس اور کبھی صحرا میں بھی خود اپنی آواز پلٹ کر دوبارہ سنائی دیتی ہے جسے عربی میں صدا کہتے ہیں ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس کے سننے سے بھی سجدہ واجب نہیں ہوتا نہ خود قاری نہ سامع اول پر جس نے تلاوت سن کر دوبارہ یہ گونج سنی نہ نئے پر جس نے تلاوت نہ سنی تھی یہ صدا ہی سنی کہ حکم مطلق ہے”اھ(فتاویٰ رضویہ ج٩نصف ثانی، ص٢٠۔٢١،کتاب الحظر والاباحۃ، رسالہ الکشف شافیا حکم فونو جرافیا) اسی کے ایک صفحہ کے بعد تحریر فرماتے ہیں” مختصر یہ ہے کہ سجدہ سماع اول پر ہے نہ معاد پر اگرچہ خاص اس سامع کی نظر سے مکرر نہ ہو اور شک نہیں کہ سماع صدا سماع معاد ہے اور فونو کی تو وضع ہی اعادۂ سماع کے لیے ہوئی ہے لہذا ان سے سجدہ نہیں” اھ(فتاویٰ رضویہ ج٩نصف ثانی،ص٢٢، کتاب الحظر والاباحۃ، رسالہ الکشف شافیا حکم فونو جرافیا) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی

Kutubahu & Verified by:

<h3>اسپیکر سے آیت سجدہ سننے والوں کا حکم</h3> مفتی محمد ارشد حسین الفیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز تراویح میں سجدے کی آیت آئی تو کیا جو لوگ حالت نماز ہوں صرف انہیں پر سجدہ ہے اور جو لوگ نماز میں تو نہ ہوں لیکن آیت سجدہ کی تلاوت سنیں ان پر سجدۂ تلاوت نہیں ہے؟ اور گھروں میں اسپیکر لگا ہوا ہے تو جو عورتیں اور مرد وغیرہ اسپیکر پر آیت سجدہ سنیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے آیا ان پر سجدہ واجب ہوگا یا نہیں؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں. المستفتی:محمد عرفان کھوجبل بھروچ گجرات انڈیا بسم ﷲ الرحمٰن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> ببشرط سماع ان لوگوں پر بھی سجدۂ تلاوت واجب ہے جو نماز میں نہیں ہیں امام ابو بکر بن علی بن محمد حداد زبیدی تحریر فرماتے ہیں"ولو سمعھا من الامام اجنبی لیس معھم فی الصلاۃ ولم یدخل معھم فی الصلاۃ لزمہ السجود لانہ قد صح لہ السماع وھو ممن یصح منہ السجود کذا فی شرحہ" اھ(الجوھرۃ النیرۃ ج١ص٢٠٨،کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ) ایسا ہی فتاویٰ ھندیہ ج١ص١٣٣، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ میں بھی ہے. رہا وہ لوگ جو گھروں میں رہکر اسپیکر کی آواز پر سجدۂ تلاوت سنتے ہیں ان کو بھی احتیاطاً سجدہ کا حکم دیا جائے گا وجہ یہ کہ اسپیکر کے متعلق محققین کی دو مختلف رائیں رہی ہیں بعض اھل علم نے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو بعینہ متکلم کی آواز قرار دیا اس لیے اس کی آواز پر سجدۂ تلاوت واجب ہونا چاہیے. کتاب"لاوڈ اسپیکر کا شرعی حکم" میں صفحہ ٣٧ پر ہے"ظاہر ہے کہ لاؤڈ اسپیکر میں اعادہ سماع نہیں اور نہ اس غرض کے لیے اس کی ایجاد ہوئی ہے تو وہ آلہ مکبر الصوت ہے جس کا کام محض آواز کو بلند کرکے دور تک پہونچانا ہے اس لیے اس سے مسموع قرأت نہ صرف ایک مکلف وذی ہوش قاری کی قرأت ہے بلکہ اس کے سماع پر وجوب سجدہ کا حکم بھی ہونا چاہئے"اھ(ص٣٧) اور بعض علماء کے نزدیک لاؤڈ اسپیکر کی آواز بعینہ متکلم کی آواز نہیں بلکہ صدا ہے اور صدا کا وہ حکم نہیں جو متکلم کی آواز کا ہے کہ متکلم کی آواز بغیر کسی چیز سے ٹکرائے صرف ہوا کے تموج سے سننے والے کے کان تک پہنچتی ہے اس لیے صدا سے آیت سجدہ سنے تو سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا اور یہی جمہور علماء اھل سنت اور اکابرین امت کا فتویٰ ہے. الجوھرۃ النیرۃ میں ہے"وان سمعھا من الصدی لم یجب علیہ شئی"اھ(ج١ص٢٠٨، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ) فتاویٰ ھندیہ میں ہے"وان سمعھا من الصدی لاتجب علیہ کذا فی الخلاصۃ" اھ(ج١ ص١٣٢،کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ) فتاویٰ فیض الرسول میں مراقی الفلاح مع طحطاوی سے ہے"لاتجب بسماعہ من الصدی وھو مایجیبک ومثل صوتک فی الجبال او الصحاری ونحوھا" اھ(ج١ص٢٦٠،کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ) لہذا ان علماء کے نزدیک لاؤڈ اسپیکر سے مسموع آیت سجدہ پر سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا علماء اور فقہاء کے اسی اختلاف کے سبب فقہی قائدۂ کلیہ" رعایت الخلاف مستحب"کے تحت لاؤڈ اسپیکر پر مسموع آیت سجدہ سے سجدۂ تلاوت کا حکم دیا جائے گا کہ یہی حکم احتیاط ہے ہاں اگر اسپیکر پر نشر ہونے والی تلاوت ریکارڈنگ وغیرہ کرکے نشر کی جارہی ہو تو اس سے کسی کے نزدیک سجدہ واجب نہیں ہوگا اس پر سبھی علماء اھل سنت کا اتفاق ہے جیسا کہ سیدی امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے فونو گراف کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ"ہم ثابت کرتے آئے ہیں کہ یہ جو فونو سے سننے میں آئی اسی مکلف عاقل ذی ہوش کی تلاوت ہے نہ کہ اس کی مثال وحکایت، پھر یہاں سجدہ نہ واجب ہونے کی کیا وجہ ہے. اقول:ہاں وجہ ہے اور نہایت موجہ ہے گنبد کے اندر یا پہاڑ یا چکنی گچ کردہ دیوار کے پاس اور کبھی صحرا میں بھی خود اپنی آواز پلٹ کر دوبارہ سنائی دیتی ہے جسے عربی میں صدا کہتے ہیں ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس کے سننے سے بھی سجدہ واجب نہیں ہوتا نہ خود قاری نہ سامع اول پر جس نے تلاوت سن کر دوبارہ یہ گونج سنی نہ نئے پر جس نے تلاوت نہ سنی تھی یہ صدا ہی سنی کہ حکم مطلق ہے"اھ(فتاویٰ رضویہ ج٩نصف ثانی، ص٢٠۔٢١،کتاب الحظر والاباحۃ، رسالہ الکشف شافیا حکم فونو جرافیا) اسی کے ایک صفحہ کے بعد تحریر فرماتے ہیں" مختصر یہ ہے کہ سجدہ سماع اول پر ہے نہ معاد پر اگرچہ خاص اس سامع کی نظر سے مکرر نہ ہو اور شک نہیں کہ سماع صدا سماع معاد ہے اور فونو کی تو وضع ہی اعادۂ سماع کے لیے ہوئی ہے لہذا ان سے سجدہ نہیں" اھ(فتاویٰ رضویہ ج٩نصف ثانی،ص٢٢، کتاب الحظر والاباحۃ، رسالہ الکشف شافیا حکم فونو جرافیا) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. <strong>کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...