Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1942 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.6K Views

اشرفیہ کے چندے میں مبارک پور کی عورتوں کے حوصلوں کو سلام ایک بوڑھی ماں کا جذبہ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اشرفیہ کے چندے میں مبارک پور کی عورتوں کے حوصلوں کو سلام ایک بوڑھی ماں کا جذبہ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اشرفیہ کے چندے میں مبارک پور کی عورتوں کے حوصلوں کو سلام ایک بوڑھی ماں کا جذبہ

حضور حافظ ملت نے مسرت کے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں اور فرط جذبات سے لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اہل خانہ اور مبارک پور کے لیے دعا مانگنی شروع کی، دل جذبات کی آگ میں گداختہ ہوئ چکے تھے- سب نے پرخلوص سے آمین کہی، نارہ تکبیر و رسالت بلند ہوا- زندہ آباد کے نعرے لگے اور یہ قافلہ اب دوسرے دروازے پر جمع ہوگیا پھر تیسرے پھر پانچویں دروازے پر پہنچ گیا- یہ درمیان میں ایک گھر چھوڑ دیا گیا کیا کسی دوسرے فرقے کا ہے، نہیں سنی ہی ہے ایک دکھیاری بیوہ ہے جو دوسروں کے سہارے زندگی کے دن کاٹ رہی ہے- ِادھر وہ غریب جو بڑی دیر سے دروازے کھولے ایک ٹمٹماتا دیا رکھے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی لوگوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر لاٹھی ٹیکتی ہوئی باہر آئی اور ایک آدمی کو پکڑ کر بولی “بھیا ہو! کیا مدرسہ مالداروں کا ہی ہے غریبوں کا نہیں-” نہیں ماں غریب تو مالدار سے زیادہ حقدار ہیں- تب میرے گھر چندہ مانگنے کیوں نہیں آئے؟ بڑھیا نے بہت تیز نشتر لگایا تھا- سننے والا تڑپ اٹھا اور دوڑا ہوا ذمہ داروں کے پاس گیا اور ماجرا بیان کیا سارا مجمع اب اسی بیوہ کے گھر پلٹ پڑا- بڑھیا نے مرغی کے تین انڈے جمع کر رکھے تھے، پورے حوصلہ کے ساتھ نظم پڑھائی اور وہی انڈے دے دیے اللہ اللہ یہ بڑھیا تو بازار مصر کی بوڑھیا سے زیادہ حوصلہ نکلی کہ وہ بیچاری خریداری کی حسرت دل میں لیے گئ اور اس نے خرید بھی لیا اور دام بھی چکا دیںے- مجمع اس وقت ایسا جذباتی ہو گیا تھا کہ سب نے اصرار کرکے وہ انڈے نیلام کراۓ اور آج سے تیس سال قبل ١٥٠ روپے آۓ جس کی رسید اس بڑھیا کے نام سے بنی- یہ چندہ جمادی الاولیٰ ١٣٥٢ھ کے کسی جمعہ سے شروع ہوکر دو مہینہ چلا اور اس حساب سے جمادی آخرہ کی آخری تاریخوں میں مکمل ہوا- خود ذمہ درانے اشرفیہ نے اس پر جو تبصرہ شائع کیا اسے ہم یہاں دارالعلوم کی روداد ١٣٥٦ھ سے نقل کرتے ہیں- مدرسہ کے تمام (تعلیمی) اخراجات کا بار برداشت کرتے ہوئے مدرسہ کے تعمیری چندہ میں جس جذبہ سے حصہ لیا ہے، اس میں مسلمانانِ مبارکپور فی زمانہ اپنے آپی ہی نظیر ہیں۔ غریب مسلمانوں نے اپنی ہر چیز کو مدرسہ پر اس ذوق سے فربان کیا کہ خود وصول کنندگان جب ان کو روکتے تھے تو وہ اپنے جذبے میں مچل کر رہ جاتے تھے- اور دلی خواہش یہی ہوتی تھی کہ دنیا کی متاع قلیل جو کچھ ہے وہ رضائے الہی کیلئے مدرسہ پر قربان ہو جائے- روپیہ،پیسہ،گاۓ،بھینس، مرغی، بکری، گھوڑا، برتن، کپڑا، اور زیور ہر قسم کی چیز کو نثار کیا وہ کونسی اپنی ضروریات کی چیز ہے جو مسلمانانِ مبارک پور نے اپنے مدرسہ پر قربانی نہ کی ہو- ایثار و قناعت اسی کا نام ہے، زیور عورتوں کو کس قدر مرغوب و محبوب ہے، ہر چیز سے پیارا اور ہر چیز سے محبوب تر عورتوں کے لیے زیور ہے- مگر واہ رے جذبۂ دینی پہلی منزل کی تعمیر چندہ میں علاوہ طلائ زیور کے عورتوں نے تخمیناً ڈیڑھ من ¹پختہ زیور عورتوں نے مدرسہ پر نثار کیا²_ (مدرسہ اشرفیہ سے الجامعتہ الاشرفیہ تک) پیش کش: محمد حارث نوید مصطفائی مبارک پور

Kutubahu & Verified by:

<h3>اشرفیہ کے چندے میں مبارک پور کی عورتوں کے حوصلوں کو سلام ایک بوڑھی ماں کا جذبہ</h3> حضور حافظ ملت نے مسرت کے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں اور فرط جذبات سے لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اہل خانہ اور مبارک پور کے لیے دعا مانگنی شروع کی، دل جذبات کی آگ میں گداختہ ہوئ چکے تھے- سب نے پرخلوص سے آمین کہی، نارہ تکبیر و رسالت بلند ہوا- زندہ آباد کے نعرے لگے اور یہ قافلہ اب دوسرے دروازے پر جمع ہوگیا پھر تیسرے پھر پانچویں دروازے پر پہنچ گیا- یہ درمیان میں ایک گھر چھوڑ دیا گیا کیا کسی دوسرے فرقے کا ہے، نہیں سنی ہی ہے ایک دکھیاری بیوہ ہے جو دوسروں کے سہارے زندگی کے دن کاٹ رہی ہے- ِادھر وہ غریب جو بڑی دیر سے دروازے کھولے ایک ٹمٹماتا دیا رکھے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی لوگوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر لاٹھی ٹیکتی ہوئی باہر آئی اور ایک آدمی کو پکڑ کر بولی "بھیا ہو! کیا مدرسہ مالداروں کا ہی ہے غریبوں کا نہیں-" نہیں ماں غریب تو مالدار سے زیادہ حقدار ہیں- تب میرے گھر چندہ مانگنے کیوں نہیں آئے؟ بڑھیا نے بہت تیز نشتر لگایا تھا- سننے والا تڑپ اٹھا اور دوڑا ہوا ذمہ داروں کے پاس گیا اور ماجرا بیان کیا سارا مجمع اب اسی بیوہ کے گھر پلٹ پڑا- بڑھیا نے مرغی کے تین انڈے جمع کر رکھے تھے، پورے حوصلہ کے ساتھ نظم پڑھائی اور وہی انڈے دے دیے اللہ اللہ یہ بڑھیا تو بازار مصر کی بوڑھیا سے زیادہ حوصلہ نکلی کہ وہ بیچاری خریداری کی حسرت دل میں لیے گئ اور اس نے خرید بھی لیا اور دام بھی چکا دیںے- مجمع اس وقت ایسا جذباتی ہو گیا تھا کہ سب نے اصرار کرکے وہ انڈے نیلام کراۓ اور آج سے تیس سال قبل ١٥٠ روپے آۓ جس کی رسید اس بڑھیا کے نام سے بنی- یہ چندہ جمادی الاولیٰ ١٣٥٢ھ کے کسی جمعہ سے شروع ہوکر دو مہینہ چلا اور اس حساب سے جمادی آخرہ کی آخری تاریخوں میں مکمل ہوا- خود ذمہ درانے اشرفیہ نے اس پر جو تبصرہ شائع کیا اسے ہم یہاں دارالعلوم کی روداد ١٣٥٦ھ سے نقل کرتے ہیں- مدرسہ کے تمام (تعلیمی) اخراجات کا بار برداشت کرتے ہوئے مدرسہ کے تعمیری چندہ میں جس جذبہ سے حصہ لیا ہے، اس میں مسلمانانِ مبارکپور فی زمانہ اپنے آپی ہی نظیر ہیں۔ غریب مسلمانوں نے اپنی ہر چیز کو مدرسہ پر اس ذوق سے فربان کیا کہ خود وصول کنندگان جب ان کو روکتے تھے تو وہ اپنے جذبے میں مچل کر رہ جاتے تھے- اور دلی خواہش یہی ہوتی تھی کہ دنیا کی متاع قلیل جو کچھ ہے وہ رضائے الہی کیلئے مدرسہ پر قربان ہو جائے- روپیہ،پیسہ،گاۓ،بھینس، مرغی، بکری، گھوڑا، برتن، کپڑا، اور زیور ہر قسم کی چیز کو نثار کیا وہ کونسی اپنی ضروریات کی چیز ہے جو مسلمانانِ مبارک پور نے اپنے مدرسہ پر قربانی نہ کی ہو- ایثار و قناعت اسی کا نام ہے، زیور عورتوں کو کس قدر مرغوب و محبوب ہے، ہر چیز سے پیارا اور ہر چیز سے محبوب تر عورتوں کے لیے زیور ہے- مگر واہ رے جذبۂ دینی پہلی منزل کی تعمیر چندہ میں علاوہ طلائ زیور کے عورتوں نے تخمیناً ڈیڑھ من ¹پختہ زیور عورتوں نے مدرسہ پر نثار کیا²_ (مدرسہ اشرفیہ سے الجامعتہ الاشرفیہ تک) پیش کش: محمد حارث نوید مصطفائی مبارک پور

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...