Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #983 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.2K Views

امامت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ از مفتی محمد ارشاد رضا علیمی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

امامت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ از مفتی محمد ارشاد رضا علیمی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

امامت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟

محترم جناب مفتی صاحب قبلہ ۔ امامت کی شرطیں کیا ہیں، اور امامت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ جو امام اکثرو بیشتر پینٹ شرٹ پہنتا ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے؟ المستفتی:محمد اسلم رضا نعیمی نقشبندی ،تھنہ منڈی، راجوری، جموں و کشمیر۔ باسمه تعالي وتقدس الجواب اللهم هداية الحق والصواب

امامت کی چھ شرطیں ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں

(۱) اسلام، (۲) بلوغ (۳) عاقل ہونا (۴) مرد ہونا، (۵) قراءت (۶) معذور نہ ہونا۔ امام مین مذکورہ چھ شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان میں سے ایک بھی شرط کم ہو تو اس کی امامت صحیح نہ ہو گی ۔ ہم نے یہاں امامت کی شرطیں اختصار کے ساتھ بیان کی ہیں ۔ تفصیل جاننے کے لیے، بہار شریعت حصہ سوم، اور فتاوی رضویہ جلد سوم کا مطالعہ کریں۔ رہا یہ مسئلہ کہ امامت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ۔ تو کبھی ایسا ہوتا کہ امامت کے مستحقین کئی افراد بیک وقت ایک ہی جگہ موجود ہوتے تو اس وقت یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ ان میں امامت کا زیادہ حقدار کون ہے۔ تو اس سلسلہ میں اعلحضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔ “امامت میں بعد اس کے کہ دو شخص جامع شرائط سنی العقیدہ غیر فاسق مجاہر ہوں، قرآن عظیم صحیح پڑھتے ہوں، حروف مخارج سے بقدر تمایز ادا کرتے ہوں، سب سے مقدم وہ ہے کہ نماز وطہارت کے مسائل کا علم زیادہ رکھتاہو، پھر اگر اس علم میں دونوں برابر ہوں تو جس کی قراءت اچھی ہو پھر جو زیادہ پرہیز گار ہو، شبہات سے زیادہ بچتا ہو، پھر جو عمر میں بڑا ہو، پھر جو خوش خلق ہو، پھر جو تہجد کا زیادہ پابند ہو، یہاں تک شرف نسب کا لحاظ نہیں جب ان باتوں میں برابر ہوں تو اب شرافت نسب سے ترجیح ہے” ۔ ( فتاوی رضویہ ج۳ ص۱۹۷) اور رہا یہ مسئلہ کہ جو امام اکثر وبیشتر پینٹ شرٹ پہنتا ہے، آیا اس کی امامت درست ہے یا نہیں ۔ تو اعلحضرت علیہ الرحمہ اسطرح کے کپڑوں کو سخت حرام قرار دیتے ہیں، اور انہیں پہن کر نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں، اور آپ علیہ الرحمہ ان کی حرمت کی علت یہ بیان فرماتے کہ یہ انگریزوں کا شعار ہے لیکن آج عموماً مسلمان اس لباس کو اچھا سمجھ کر پہنتے ہیں کوئی بھی اسے ناجائز وحرام نہیں سمجھتا لہذا آج یہ لباس کسی قوم کا شعار نہ رہا۔ جب یہ کسی کا شعار نہ رہا تو اس کا پہننا جائز ہو گا۔ اب اگر کوئی امام اسطرح کا لباس پہنتا ہے اور وہ مذکورہ شرائط امامت کا جامع ہے تو اس کی امامت درست ہو گی، مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے۔ “مگر آج وہ لباس انگریزوں کا شعار نہیں رہ گئے اور عام طور پر اقوام عالم نے اس لباس کو اختیار کر لیا ہے ۔ اور اب یہ کسی قوم کی پہچان نہیں۔ غرض یہ کہ جس بنیاد پر فتاوی رضویہ میں اسے حرام یا سخت تر حرام قرار دیا گیا تھا وہ بنیاد ہی باقی نہ رہی اس لیے کوئی بھی رمز شناس عالم آج کے زمانے میں اسے حرام نہیں کہ سکتا”(ص۵۲۰) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفر لہ، پلانگڑ،تھنہ منڈی،راجوری،جموں وکشمیر ۸ رمضان المبارك ۱۴۴۱ھ مطابق ۲ مئی ۲۰۲۰ء الجواب صواب والمجیب نجیح واللہ اعلم محمد اسلم رضا مصباحی عفی عنہ،مرکزی دار الافتا اہلسنت صوبہ جموں

Kutubahu & Verified by:

<h2>امامت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟</h2> محترم جناب مفتی صاحب قبلہ ۔ امامت کی شرطیں کیا ہیں، اور امامت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ جو امام اکثرو بیشتر پینٹ شرٹ پہنتا ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے؟ المستفتی:محمد اسلم رضا نعیمی نقشبندی ،تھنہ منڈی، راجوری، جموں و کشمیر۔ باسمه تعالي وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللهم هداية الحق والصواب</strong></span> <h3>امامت کی چھ شرطیں ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں</h3> (۱) اسلام، (۲) بلوغ (۳) عاقل ہونا (۴) مرد ہونا، (۵) قراءت (۶) معذور نہ ہونا۔ امام مین مذکورہ چھ شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان میں سے ایک بھی شرط کم ہو تو اس کی امامت صحیح نہ ہو گی ۔ ہم نے یہاں امامت کی شرطیں اختصار کے ساتھ بیان کی ہیں ۔ تفصیل جاننے کے لیے، بہار شریعت حصہ سوم، اور فتاوی رضویہ جلد سوم کا مطالعہ کریں۔ رہا یہ مسئلہ کہ امامت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ۔ تو کبھی ایسا ہوتا کہ امامت کے مستحقین کئی افراد بیک وقت ایک ہی جگہ موجود ہوتے تو اس وقت یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ ان میں امامت کا زیادہ حقدار کون ہے۔ تو اس سلسلہ میں اعلحضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔ "امامت میں بعد اس کے کہ دو شخص جامع شرائط سنی العقیدہ غیر فاسق مجاہر ہوں، قرآن عظیم صحیح پڑھتے ہوں، حروف مخارج سے بقدر تمایز ادا کرتے ہوں، سب سے مقدم وہ ہے کہ نماز وطہارت کے مسائل کا علم زیادہ رکھتاہو، پھر اگر اس علم میں دونوں برابر ہوں تو جس کی قراءت اچھی ہو پھر جو زیادہ پرہیز گار ہو، شبہات سے زیادہ بچتا ہو، پھر جو عمر میں بڑا ہو، پھر جو خوش خلق ہو، پھر جو تہجد کا زیادہ پابند ہو، یہاں تک شرف نسب کا لحاظ نہیں جب ان باتوں میں برابر ہوں تو اب شرافت نسب سے ترجیح ہے" ۔ ( فتاوی رضویہ ج۳ ص۱۹۷) اور رہا یہ مسئلہ کہ جو امام اکثر وبیشتر پینٹ شرٹ پہنتا ہے، آیا اس کی امامت درست ہے یا نہیں ۔ تو اعلحضرت علیہ الرحمہ اسطرح کے کپڑوں کو سخت حرام قرار دیتے ہیں، اور انہیں پہن کر نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں، اور آپ علیہ الرحمہ ان کی حرمت کی علت یہ بیان فرماتے کہ یہ انگریزوں کا شعار ہے لیکن آج عموماً مسلمان اس لباس کو اچھا سمجھ کر پہنتے ہیں کوئی بھی اسے ناجائز وحرام نہیں سمجھتا لہذا آج یہ لباس کسی قوم کا شعار نہ رہا۔ جب یہ کسی کا شعار نہ رہا تو اس کا پہننا جائز ہو گا۔ اب اگر کوئی امام اسطرح کا لباس پہنتا ہے اور وہ مذکورہ شرائط امامت کا جامع ہے تو اس کی امامت درست ہو گی، مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے۔ "مگر آج وہ لباس انگریزوں کا شعار نہیں رہ گئے اور عام طور پر اقوام عالم نے اس لباس کو اختیار کر لیا ہے ۔ اور اب یہ کسی قوم کی پہچان نہیں۔ غرض یہ کہ جس بنیاد پر فتاوی رضویہ میں اسے حرام یا سخت تر حرام قرار دیا گیا تھا وہ بنیاد ہی باقی نہ رہی اس لیے کوئی بھی رمز شناس عالم آج کے زمانے میں اسے حرام نہیں کہ سکتا"(ص۵۲۰) واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفر لہ، پلانگڑ،تھنہ منڈی،راجوری،جموں وکشمیر</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۸ رمضان المبارك ۱۴۴۱ھ مطابق ۲ مئی ۲۰۲۰ء</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صواب والمجیب نجیح واللہ اعلم</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>محمد اسلم رضا مصباحی عفی عنہ،مرکزی دار الافتا اہلسنت صوبہ جموں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...