Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1622 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.1K Views

امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نماز ہوگی یا نہیں؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں ہم نےسناہےکہ امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نمازنہیں ہوگی اس کی کیاحقیقت ہے؟ سائل محمد وقاص کالاباغ پاکستان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب (مذکورہ صورت میں ایساہرگزنہیں ہے،امام اگرتنہاء نماز پڑھنے والے کی طرح صرف اپنی نماز کی نیت بھی کرلے تو اس کی اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی نماز ہوجائے گی، امام کے لئے اپنے مقتدیوں کی نیت کرنالازم نہیں ہےہاں البتہ بہتر یہ ہے کہ امام امامت کی نیت کرے.. فتاویٰ عالمگیری میں ہے الامام ینوی ماینوی المنفردولایحتاج الی نیۃ الامامۃ حتی لونوی ان لایوم فلانافجاء فلان واقتدی به جاز، ھکذفی فتاویٰ قاضی خان ، یعنی امام وہی نیت کرےجواکیلےنمازپڑھنےوالےکی ہوتی ہےاسےامامت کی نیت کی حاجت نہیں ہےحتی کہ اگرکسی نےیہ نیت کرلی کہ میں فلاں کاامام نہیں ہوں، پھراس شخص نےاس کی اقتداکی نیت کی تواس کی نمازبھی ہوجائےگی : فتاویٰ عالمگیری جلد1صفحہ66*) انوار الفتاویٰ جلد1صفحہ215*) بہار شریعت میں ہے مقتدی کو اقتدا کی نیت بھی ضروری ہے اور امام کو نیت اِمامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے لیے ضروری نہیں ، یہاں تک کہ اگر امام نے یہ قصد کرلیا کہ میں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز ہوگئی، مگر امام نے اِمامت کی نیت نہ کی تو ثوابِ جماعت نہ پائے گا اور ثوابِ جماعت حاصل ہونے کے لیے مقتدی کی شرکت سے پیشتر نیت کر لینا ضروری نہیں، بلکہ وقت شرکت بھی نیت کر سکتا ہے: بہارشریعت حصہ3 صفحہ495 مکتبۃ المدینہ کراچی مزید تحریر فرماتے ہیں : “ایک صورت میں امام کو نیتِ اِمامت بالاتفاق ضروری ہے کہ مقتدی عورت ہو اور وہ کسی مرد کے محاذی (برابر) کھڑی ہو جائے اور وہ نماز، نمازِ جنازہ نہ ہو تو اس صورت میں اگر امام نے اِمامت زناں/عورتوں کی امامت) کی نیت نہ کی، تو اس عورت کی نماز نہ ہوئی: (درمختار) اور امام کی یہ نیت شروع نماز کے وقت درکار ہے، بعد کو اگر نیت کر بھی لے، صحتِ اقتدائے زن کے لیے کافی نہیں: *(ردالمحتار)* بہارشریعت حصہ3 صفحہ 495مکتبۃ المدینہ کراچی *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ* کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمدعمران عطاری مدنی عفی عنہ

Kutubahu & Verified by:

<h2>امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نماز ہوگی یا نہیں؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں ہم نےسناہےکہ امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نمازنہیں ہوگی اس کی کیاحقیقت ہے؟ سائل محمد وقاص کالاباغ پاکستان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <strong>الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب</strong> (مذکورہ صورت میں ایساہرگزنہیں ہے،امام اگرتنہاء نماز پڑھنے والے کی طرح صرف اپنی نماز کی نیت بھی کرلے تو اس کی اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی نماز ہوجائے گی، امام کے لئے اپنے مقتدیوں کی نیت کرنالازم نہیں ہےہاں البتہ بہتر یہ ہے کہ امام امامت کی نیت کرے.. فتاویٰ عالمگیری میں ہے الامام ینوی ماینوی المنفردولایحتاج الی نیۃ الامامۃ حتی لونوی ان لایوم فلانافجاء فلان واقتدی به جاز، ھکذفی فتاویٰ قاضی خان ، یعنی امام وہی نیت کرےجواکیلےنمازپڑھنےوالےکی ہوتی ہےاسےامامت کی نیت کی حاجت نہیں ہےحتی کہ اگرکسی نےیہ نیت کرلی کہ میں فلاں کاامام نہیں ہوں، پھراس شخص نےاس کی اقتداکی نیت کی تواس کی نمازبھی ہوجائےگی : فتاویٰ عالمگیری جلد1صفحہ66*) انوار الفتاویٰ جلد1صفحہ215*) بہار شریعت میں ہے مقتدی کو اقتدا کی نیت بھی ضروری ہے اور امام کو نیت اِمامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے لیے ضروری نہیں ، یہاں تک کہ اگر امام نے یہ قصد کرلیا کہ میں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز ہوگئی، مگر امام نے اِمامت کی نیت نہ کی تو ثوابِ جماعت نہ پائے گا اور ثوابِ جماعت حاصل ہونے کے لیے مقتدی کی شرکت سے پیشتر نیت کر لینا ضروری نہیں، بلکہ وقت شرکت بھی نیت کر سکتا ہے: بہارشریعت حصہ3 صفحہ495 مکتبۃ المدینہ کراچی مزید تحریر فرماتے ہیں : "ایک صورت میں امام کو نیتِ اِمامت بالاتفاق ضروری ہے کہ مقتدی عورت ہو اور وہ کسی مرد کے محاذی (برابر) کھڑی ہو جائے اور وہ نماز، نمازِ جنازہ نہ ہو تو اس صورت میں اگر امام نے اِمامت زناں/عورتوں کی امامت) کی نیت نہ کی، تو اس عورت کی نماز نہ ہوئی: (درمختار) اور امام کی یہ نیت شروع نماز کے وقت درکار ہے، بعد کو اگر نیت کر بھی لے، صحتِ اقتدائے زن کے لیے کافی نہیں: *(ردالمحتار)* بہارشریعت حصہ3 صفحہ 495مکتبۃ المدینہ کراچی *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ* <strong>کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمدعمران عطاری مدنی عفی عنہ</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...