Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1012 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4K Views

امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟

سوال : امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر سورہ بقرہ کے آخری دو آیتیں پڑھیں اور آخر میں سجدہ سہو کیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ امام صاحب نے اگر ایسا غلط پڑھا کہ جس سے معنی فاسد ہوگئے تو اسے چھوڑ کر دوسری آیت کریمہ پڑھنے اور سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ہوئی اور اگر معنی فاسد نہ ہوئے تھے تو سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں سب کی نماز ہوگی. لیکن جس مقتدی کی کچھ رکعت چھوٹ گئی تھی اگر وہ امام کے ساتھ سجدہ سہو میں شریک رہا تو فعل لغو میں اتباع کے سبب اس کی نماز باطل ہوگئی. فتاوی قاضی خان میں ہے اذا ظن الامام ان عليه سهوا فسجد للسھو وتابعه المسبوق في ذلك ثم علم ان الامام لم يكن عليه سهوا الا شهران صلاتہ تفسد. و هو تعالى اعلم ۔ كتبـــــــــــــــــــــــه :جلال الدين احمد الامجدي ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 352

Kutubahu & Verified by:

<h3>امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟</h3> سوال : امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر سورہ بقرہ کے آخری دو آیتیں پڑھیں اور آخر میں سجدہ سہو کیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> امام صاحب نے اگر ایسا غلط پڑھا کہ جس سے معنی فاسد ہوگئے تو اسے چھوڑ کر دوسری آیت کریمہ پڑھنے اور سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ہوئی اور اگر معنی فاسد نہ ہوئے تھے تو <a href="https://masailworld.com/sajda-e-sahw-ke-masail/"><strong>سجدہ سہو</strong></a> کی بھی ضرورت نہیں سب کی نماز ہوگی. لیکن جس مقتدی کی کچھ رکعت چھوٹ گئی تھی اگر وہ امام کے ساتھ سجدہ سہو میں شریک رہا تو فعل لغو میں اتباع کے سبب اس کی نماز باطل ہوگئی. فتاوی قاضی خان میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>اذا ظن الامام ان عليه سهوا فسجد للسھو وتابعه المسبوق في ذلك ثم علم ان الامام لم يكن عليه سهوا الا شهران صلاتہ تفسد. </strong></span> و هو تعالى اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>كتبـــــــــــــــــــــــه :جلال الدين احمد الامجدي</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 352</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...