Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1081 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.9K Views

انتقال کے دوسرے دن تیجہ اور چوتھے دن چالیسواں کرنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

انتقال کے دوسرے دن تیجہ اور چوتھے دن چالیسواں کرنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

انتقال کے دوسرے دن تیجہ اور چوتھے دن چالیسواں کرنا کیسا ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کسی شخص کا انتقال ہوا اور اس کے انتقال کے دوسرے روز ہی اس کے سوئم کی فاتحہ دے دی جاتی ہے اور پھر مرنے کے چوتھے دن چالیسواں کی فاتحہ بھی دے دی جاتی ہے کیا ایسا کرنا درست ہے؟ مرنے کے بعد سوئم کی فاتحہ کتنے روز کے بعد ہونا چاہیے اور چالیسویں کی فاتحہ کب دلوانا چاہیے؟بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــ انتقال کے بعد خاص کر تیسرے دن سوئم دسویں دن دسواں اور چالیسویں دن چالیسواں کرنا ایک رسمی بات ہے. مردہ ڈوبتے ہوئے آدمی کی طرح ہوتا ہے اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے جتنی جلدی ہو سکے اسے ثواب پہنچایا جائے تو بہتر ہے. حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں ” اموات مسلمین کو ایصال ثواب قطعاً مستحب. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ” اور یہ تعینات عرفیہ ہیں. ان میں اصلا حرج نہیں جبکہ انہیں شرعاً لازم نہ جانے نا یہ سمجھے کہ انہیں دنوں ثواب پہنچے گا آگے پیچھے نہیں ۔ فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ 219 اور فقیہ اعظم ہند حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں ” فاتحہ خوانی کے لئے وقت مقرر کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ بغیر تعیین وقت لوگوں کو دقت ہو گی مگر یہ ضروریات شرع نہیں بلکہ تخصیص عرفی ہے فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ 347 لہذا انتقال کے دوسرے دن سوئم اور چوتھے دن چالیسواں کے نام پر ثواب کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت صفحہ 282

Kutubahu & Verified by:

<h2>انتقال کے دوسرے دن تیجہ اور چوتھے دن چالیسواں کرنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کسی شخص کا انتقال ہوا اور اس کے انتقال کے دوسرے روز ہی اس کے سوئم کی فاتحہ دے دی جاتی ہے اور پھر مرنے کے چوتھے دن چالیسواں کی فاتحہ بھی دے دی جاتی ہے کیا ایسا کرنا درست ہے؟ مرنے کے بعد سوئم کی فاتحہ کتنے روز کے بعد ہونا چاہیے اور چالیسویں کی فاتحہ کب دلوانا چاہیے؟بینوا و توجروا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> انتقال کے بعد خاص کر تیسرے دن سوئم دسویں دن دسواں اور چالیسویں دن چالیسواں کرنا ایک رسمی بات ہے. مردہ ڈوبتے ہوئے آدمی کی طرح ہوتا ہے اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے جتنی جلدی ہو سکے اسے ثواب پہنچایا جائے تو بہتر ہے. حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں '' اموات مسلمین کو ایصال ثواب قطعاً مستحب. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں '' من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ '' اور یہ تعینات عرفیہ ہیں. ان میں اصلا حرج نہیں جبکہ انہیں شرعاً لازم نہ جانے نا یہ سمجھے کہ انہیں دنوں ثواب پہنچے گا آگے پیچھے نہیں ۔ فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ 219 اور فقیہ اعظم ہند حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں '' فاتحہ خوانی کے لئے وقت مقرر کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ بغیر تعیین وقت لوگوں کو دقت ہو گی مگر یہ ضروریات شرع نہیں بلکہ تخصیص عرفی ہے فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ 347 لہذا انتقال کے دوسرے دن سوئم اور چوتھے دن چالیسواں کے نام پر ثواب کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت صفحہ 282</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...