Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1553
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.9K Views
انگوٹھی استعمال کرنے کے شرعی مسائل از مولانا ابو ضیا غلام رسول مِہْرسعدی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
انگوٹھی استعمال کرنے کے شرعی مسائل از مولانا ابو ضیا غلام رسول مِہْرسعدی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
انگوٹھی استعمال کرنے کے شرعی مسائل
اللہ پاک اپنے کلام پاک پارہ28 سورۃ الحشر آیت نمبر7میں ارشادفرماتاہے جس کامفہوم یہ ہے کہ :میرے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم جوکچھ تم لوگوں کودیں اُسے لےلواور جن چیزوں سے روک دیں اُس سے رُک جاؤ. کہنے کیلئے بظاہر کتابُ اللہ کا ایک مختصر حصہ ہے لیکن خداوند قدوس نے اسی مختصر حصے میں ہمارے قانون زندگی کو سمودیاہےاور اِتنے ہی حصے میں ہمارے دَستُورِ حیات کو سمیٹ دیا ہے. اگر مسلمان کو یہ قانون یادرہ جائے تو اس کا قدم کبھی ڈگمگا نہیں سکتا، نہ ہی وہ پھسلےگا اور نہ وہ گرےگا. مثلاً اگر وہ کسی چیز کو استعمال کرناچاہتاہےاوراُسےاُسی وقت یہ یادآجائے کہ میں اِسے استعمال کر نے جارہاہوں کہیں رسول خدا نے اِسے حرام یامنع تونہیں کیا ہے اگر منع یاحرام ہے توایک سچا مسلمان، عاشق رسول اُسے پھینک دےگا اوراُسے استعمال نہیں کر ےگا. بلکہ شریعت سے قدم آگے نہیں بڑھا ئےگا بس یہ قانون اس کے پاؤں کی بیڑی بن جائے گا اب وہ شریعت مطہرہ پر عمل کرتاہوا نظر آئے گا ۔ اِسی تناظر میں ہم انگوٹھی استعمال کر نے کوسامنے رکھتے ہوئے معاشرے کا جائزہ لیں توپتہ چلےگا کہ مسلمان مرد لوہا، پیتل، تانبا، مقدار سے زیادہ چاندی کی انگوٹھی،چاندی کاہار،چین، بچےیابڑےنوجوانوں کےہاتھ یا بازو پرمحبوب سبحانی کےنام سے منسوب چاندی کی بیڑی اور سونا کی انگوٹھی وغیرہ استعمال کر تےہیں ۔ جبکہ شریعت میں چاندی کی ایک انگوٹھی کے علاوہ دوسرے دھات کی دوسری انگوٹھیاں اور چھلّے، بیڑی وغیرہ مردکیلیے پہنناجائزنہیں ہے. جیسا سرکار اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ(یعنی ایک نگینہ) کی کہ وزن میں ساڑھے چار ماشے(یعنی 4گرام 374ملی گرام) سے کم ہو، پہنناجائزہے (اگرچہ بےحاجتِ مُہْراس کا ترک افضل ہے اور مُہرکی غرض سے خالی جواز ہیں بلکہ سنت ہے، ہاں تکبُّریا زنانہ پن کاسنگار (یعنی لِیڈیز اسٹائل کی ٹیپ ٹاپ) یا اور کوئی غرض مذموم نیت میں ہوتوایک انگوٹھی کیااس نیّت سے( تو) اچھے کپڑے پہننے جائز نہیں. (بحوالہ فتاوی رضویہ ج22 ص141) عیدین میں انگوٹھی پہننامستحب ہے. (بحوالہ بہارشریعت ج1حصہ 4 ص780) مردکو چاہئے کہ اگرانگوٹھی پہنےتو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھےاورعورتیں نگینہ ہاتھ کی پُشت (یعنی ہاتھ کی پیٹھ) کی طرف رکھیں کہ ان کا پہننا زینت کےلیے ہے اور زینت اسی صورت میں زیادہ ہے کہ نگینہ باہر(پُشت) کی جانب رہے . (بحوالہ الھدایہ ج367/ بہارشریعت ج3حصہ 16ص427) چاندی کا چَھلّا خاص لباس زنان (یعنی عورتوں کاپہناوا) ہے مردوں کومکروہ(تحریمی، ناجائز وگناہ) ہے. (بحوالہ فتاوی رضویہ ج22 ص130) عورت سونے چاندی کی جتنی چاہے انگوٹھیاں اور چھلّے پہن سکتی ہیں ، اس میں وزن اور نگینے کی تعداد کی کوئی قید نہیں. لوہے کی انگوٹھی پر چاندی کاخول چڑھادیاکہ لوہا بالکل نہ دکھائی دیتاہوں، اس انگوٹھی کے پہننے کی (مردو عورت کسی کوبھی ) ممانعت نہیں. (بحوالہ عالمگیری ج5ص335) دونوں میں سے کسی بھی ایک ہاتھ میں انگوٹھی پہن سکتےہیں اور چھُنگلیایعنی سب سے چھوٹی انگلی میں پہنی جائے. (ردّالمحتارج9ص596) مردکیلیے وہی انگوٹھی جائزہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی صرف ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں (ایک سے زیادہ یا) کئی نگینے ہوں تواگرچہ وہ چاندی ہی کی ہو، مرد کے لئے ناجائز ہے. (ردّالمحتارج9ص596) بغیر نگینے کی انگوٹھی پہنناناجائزہے کہ یہ انگوٹھی نہیں چھلّا ہے. اسی طرح مردوں کے لئے ایک سے زیادہ (جائزوالی) انگوٹھی پہننایا(ایک یا زیادہ) چھلّےپہننابھی ناجائز ہے کہ یہ(چھلّاہے) انگوٹھی نہیں. عورتیں چھلّے پہن سکتی ہیں. (بحوالہ بہارشریعت ج3 حصہ 16ص428) منّت کایا دَم کیاہوادھات (میٹلMetal) کاکڑا،محبوب سبحانی،غوث پاک کےنام سےکڑایابیڑی پہنناجائزنہیں، اسی طرح مدینہ منورہ یااجمیرشریف کے چاندی یاکسی بھی دھات کے چھلّے اور اسٹیل کی انگوٹھی بھی جائزنہیں، اصل میں جوچیزشریعت میں جائز نہیں ہے وہ کہیں کی بھی ہو وہ ناجائز ہی ہے. سرکار صدرالشریعہ بدرالطریقہ خلیفہ اعلی حضرت ، حضرت مفتی امجد علی اعظمی رضوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں؛ انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے، دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، مثلاً لوہا، پیتل، تانبا، جست وغیرہا ان دھاتوں کی انگوٹھیاں مردو عورت دونوں کے لئے ناجائز ہیں. فرق اتنا ہے کہ عورت سونابھی پہن سکتی ہے اور مرد نہیں پہن سکتا. (بحوالہ بہارشریعت ج3ص 426حصہ 16) حدیث شریف ؛ترمذی وابوداؤدونسائی نے بُرَیْدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سےروایت کی، کہ ایک شخص پیتل کی انگوٹھی پہنےہوئے تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :”کیا بات ہے تم سے بُت کی بُو آتی ہے؟ انھوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آئے، فرمایا:کیابات ہے تم جھنّمیوں کا زیور پہنےہوئے ہو؟ اسے بھی پھینکااور عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم! کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایا :چاندی کی بناؤ اور ایک مثقال پورانہ کرویعنی ساڑھے چارماشہ سے کم کی ہو. ،،(ابوداؤد شریف ج4ص122 حدیث 4223/بہار شریعت ج3ص428) ساڑھے چارماشے یعنی (4گرام 374ملی گرام) سے کم ہو. *لڑکوں کوسونے چاندی کے زیور پہنانا حرام ہے اور جس نے پہنایا وہ گنہگار ہوگا اسی طرح بچوں کے ہاتھ پاؤں میں بلاضرورت مہندی لگاناناجائزہے. عورت خود اپنے ہاتھ پاؤں میں لگاسکتی ہے، مگر لڑکے کو لگائے گی تو گنہگار ہوگی. (بحوالہ بہارشریعت ج3ص428 حصہ 16) سونے کی انگوٹھی مردکیلیے آگ کاانگارہ ہے. کیونکہ مرد کو سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے. حدیث شریف میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا،، (بحوالہ بخاری شریف ج4ص67حدیث 5863) مسلم شریف میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس کو اتار کرپھینک دیااوریہ فرمایاکہ کیا کوئی اپنے ہاتھ میں انگارہ رکھتا ہے؟ جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے. کسی نے ان سے کہا، اپنی انگوٹھی اٹھا لواور کسی کام میں لانا. انھوں نے کہا، خدا کی قسم! میں اُسے کبھی نہیں لونگا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اسے پھینک دیا. (ص1157حدیث2090) حدیث شریف :ابوداؤد ونسائی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دہنے ہاتھ میں ریشم لیااوربائیں ہاتھ میں سوناپھریہ فرمایاکہ”یہ دونوں چیزیں میری امت کے مَردوں پر حرام ہیں،، (بہارشریعت ج3ص424/بحوالہ ابوداؤد ج4ص71) اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے سونےکی انگوٹھی پہننے والے کی اصلاح فرمائی. واقعہ کاخلاصہ یہ ہے؛ عصر کی نماز کے بعد بڑا ہی پُرکیف سماں تھا، دُورونزدیک سے آئے ہوئے لوگ مُجدددین وملت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ایک سچے عاشق رسول کی زیارت وملاقات سے اپنے دلوں کو مُنورکررہےتھے. اتنے میں ایک صاحب طلائی (یعنی سونے کی) انگوٹھی پہنےحاضرہوئےتو حامئ سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے نھْیٌ عَنِ المُنْکر(یعنی برائی سے روکنے) کا فریضہ انجام دیتے ہوئے کچھ یوں ارشادفرمایا: “مردکوسوناپہننا حرام ہے، صرف ایک نگ کی چاندی کی انگوٹھی جو ساڑھے چار ماشے (یعنی 4 گرام 374ملی گرام) سے کم کی ہو اس کی اجازت ہے. جوکوئی( مرد) سونے، تانبےیا پیتل وغیرہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی پہنے یا چاندی کی ساڑھے چار ماشےیا اس سے زیادہ وزن کی ایک انگوٹھی پہنےیا کئی انگوٹھیاں پہنے اگرچہ سب مل کر ساڑھے چار ماشےسے کم ہوں تو اس کی نماز مکروہ تحریمی ہے. ،،(بحوالہ ملفوظات اعلی حضرت ص309) یعنی جس کا اعادہ کرنا (یعنی دوبارہ پڑھنا) واجب ہے. فقہاء کرام رحِمَھُمُ السلام فرماتے ہیں :جس چیز کا بندوں کو حکم ہے اس کے بجالانے میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اس خرابی کو دورکرنے کیلیے وہ عمل دوبارہ بجالانااِعادہ کہلاتاہے.(درمختار وردالمحتار ج2ص629) کاش! ہم عاشقان اولیاء، غوث وخواجہ اورمخدوم ورضا، سنت رسول کی پیروی اور نیکی کی دعوت عام کرنے اور گناہوں سے بازرکھنےکے معاملے میں مکمل کوشاں ہوجاتے. یہ یادرکھیں اگر کسی شخص نے ناجائز انگوٹھی یادھات کاچھلّایاگلے میں کسی بھی دھات کی زنجیر پَہنی ہو اور دیکھنے والےکوظنِّ غالب ہوکہ منع کروں گا تویہ مان لے گا تو اس پر منع کر نا واجب ہے، منع نہیں کرے گا تو گنہگار ہوگا. (نیکی کی دعوت حصہ اول ص409) اللہ پاک امت مسلمہ کو “تعاونواعلی البروالتقوی ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان،،پرعمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کی خیر خواہی اور بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ اشرف الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم. واللہ تعالیٰ اعلم از:اسیرشیخ اعظم گدائے مخدوم ورضا پیرطریقت حضرت مولانا ابوضیاغلام رسول مِہْرسعدی کٹیہاری، خطیب وامام فیضانِ مدینہ مسجد علی امن نگربلگام کرناٹک انڈیا خلیفہ حضور شیخ الاسلام، حضور قائد ملت کچھوچھہ شریف ومفتی انوار الحق خلیفہ حضور مفتی اعظم ھندرضی اللہ عنہ بریلی شریف.
Kutubahu & Verified by:
<h2>انگوٹھی استعمال کرنے کے شرعی مسائل</h2> اللہ پاک اپنے کلام پاک پارہ28 سورۃ الحشر آیت نمبر7میں ارشادفرماتاہے جس کامفہوم یہ ہے کہ :میرے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم جوکچھ تم لوگوں کودیں اُسے لےلواور جن چیزوں سے روک دیں اُس سے رُک جاؤ. کہنے کیلئے بظاہر کتابُ اللہ کا ایک مختصر حصہ ہے لیکن خداوند قدوس نے اسی مختصر حصے میں ہمارے قانون زندگی کو سمودیاہےاور اِتنے ہی حصے میں ہمارے دَستُورِ حیات کو سمیٹ دیا ہے. اگر مسلمان کو یہ قانون یادرہ جائے تو اس کا قدم کبھی ڈگمگا نہیں سکتا، نہ ہی وہ پھسلےگا اور نہ وہ گرےگا. مثلاً اگر وہ کسی چیز کو استعمال کرناچاہتاہےاوراُسےاُسی وقت یہ یادآجائے کہ میں اِسے استعمال کر نے جارہاہوں کہیں رسول خدا نے اِسے حرام یامنع تونہیں کیا ہے اگر منع یاحرام ہے توایک سچا مسلمان، عاشق رسول اُسے پھینک دےگا اوراُسے استعمال نہیں کر ےگا. بلکہ شریعت سے قدم آگے نہیں بڑھا ئےگا بس یہ قانون اس کے پاؤں کی بیڑی بن جائے گا اب وہ شریعت مطہرہ پر عمل کرتاہوا نظر آئے گا ۔ اِسی تناظر میں ہم انگوٹھی استعمال کر نے کوسامنے رکھتے ہوئے معاشرے کا جائزہ لیں توپتہ چلےگا کہ مسلمان مرد لوہا، پیتل، تانبا، مقدار سے زیادہ چاندی کی انگوٹھی،چاندی کاہار،چین، بچےیابڑےنوجوانوں کےہاتھ یا بازو پرمحبوب سبحانی کےنام سے منسوب چاندی کی بیڑی اور سونا کی انگوٹھی وغیرہ استعمال کر تےہیں ۔ جبکہ شریعت میں چاندی کی ایک انگوٹھی کے علاوہ دوسرے دھات کی دوسری انگوٹھیاں اور چھلّے، بیڑی وغیرہ مردکیلیے پہنناجائزنہیں ہے. جیسا سرکار اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ(یعنی ایک نگینہ) کی کہ وزن میں ساڑھے چار ماشے(یعنی 4گرام 374ملی گرام) سے کم ہو، پہنناجائزہے (اگرچہ بےحاجتِ مُہْراس کا ترک افضل ہے اور مُہرکی غرض سے خالی جواز ہیں بلکہ سنت ہے، ہاں تکبُّریا زنانہ پن کاسنگار (یعنی لِیڈیز اسٹائل کی ٹیپ ٹاپ) یا اور کوئی غرض مذموم نیت میں ہوتوایک انگوٹھی کیااس نیّت سے( تو) اچھے کپڑے پہننے جائز نہیں. (بحوالہ فتاوی رضویہ ج22 ص141) عیدین میں انگوٹھی پہننامستحب ہے. (بحوالہ بہارشریعت ج1حصہ 4 ص780) مردکو چاہئے کہ اگرانگوٹھی پہنےتو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھےاورعورتیں نگینہ ہاتھ کی پُشت (یعنی ہاتھ کی پیٹھ) کی طرف رکھیں کہ ان کا پہننا زینت کےلیے ہے اور زینت اسی صورت میں زیادہ ہے کہ نگینہ باہر(پُشت) کی جانب رہے . (بحوالہ الھدایہ ج367/ بہارشریعت ج3حصہ 16ص427) چاندی کا چَھلّا خاص لباس زنان (یعنی عورتوں کاپہناوا) ہے مردوں کومکروہ(تحریمی، ناجائز وگناہ) ہے. (بحوالہ فتاوی رضویہ ج22 ص130) عورت سونے چاندی کی جتنی چاہے انگوٹھیاں اور چھلّے پہن سکتی ہیں ، اس میں وزن اور نگینے کی تعداد کی کوئی قید نہیں. لوہے کی انگوٹھی پر چاندی کاخول چڑھادیاکہ لوہا بالکل نہ دکھائی دیتاہوں، اس انگوٹھی کے پہننے کی (مردو عورت کسی کوبھی ) ممانعت نہیں. (بحوالہ عالمگیری ج5ص335) دونوں میں سے کسی بھی ایک ہاتھ میں انگوٹھی پہن سکتےہیں اور چھُنگلیایعنی سب سے چھوٹی انگلی میں پہنی جائے. (ردّالمحتارج9ص596) مردکیلیے وہی انگوٹھی جائزہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی صرف ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں (ایک سے زیادہ یا) کئی نگینے ہوں تواگرچہ وہ چاندی ہی کی ہو، مرد کے لئے ناجائز ہے. (ردّالمحتارج9ص596) بغیر نگینے کی انگوٹھی پہنناناجائزہے کہ یہ انگوٹھی نہیں چھلّا ہے. اسی طرح مردوں کے لئے ایک سے زیادہ (جائزوالی) انگوٹھی پہننایا(ایک یا زیادہ) چھلّےپہننابھی ناجائز ہے کہ یہ(چھلّاہے) انگوٹھی نہیں. عورتیں چھلّے پہن سکتی ہیں. (بحوالہ بہارشریعت ج3 حصہ 16ص428) منّت کایا دَم کیاہوادھات (میٹلMetal) کاکڑا،محبوب سبحانی،غوث پاک کےنام سےکڑایابیڑی پہنناجائزنہیں، اسی طرح مدینہ منورہ یااجمیرشریف کے چاندی یاکسی بھی دھات کے چھلّے اور اسٹیل کی انگوٹھی بھی جائزنہیں، اصل میں جوچیزشریعت میں جائز نہیں ہے وہ کہیں کی بھی ہو وہ ناجائز ہی ہے. سرکار صدرالشریعہ بدرالطریقہ خلیفہ اعلی حضرت ، حضرت مفتی امجد علی اعظمی رضوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں؛ انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے، دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، مثلاً لوہا، پیتل، تانبا، جست وغیرہا ان دھاتوں کی انگوٹھیاں مردو عورت دونوں کے لئے ناجائز ہیں. فرق اتنا ہے کہ عورت سونابھی پہن سکتی ہے اور مرد نہیں پہن سکتا. (بحوالہ بہارشریعت ج3ص 426حصہ 16) حدیث شریف ؛ترمذی وابوداؤدونسائی نے بُرَیْدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سےروایت کی، کہ ایک شخص پیتل کی انگوٹھی پہنےہوئے تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :"کیا بات ہے تم سے بُت کی بُو آتی ہے؟ انھوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آئے، فرمایا:کیابات ہے تم جھنّمیوں کا زیور پہنےہوئے ہو؟ اسے بھی پھینکااور عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم! کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایا :چاندی کی بناؤ اور ایک مثقال پورانہ کرویعنی ساڑھے چارماشہ سے کم کی ہو. ،،(ابوداؤد شریف ج4ص122 حدیث 4223/بہار شریعت ج3ص428) ساڑھے چارماشے یعنی (4گرام 374ملی گرام) سے کم ہو. *لڑکوں کوسونے چاندی کے زیور پہنانا حرام ہے اور جس نے پہنایا وہ گنہگار ہوگا اسی طرح بچوں کے ہاتھ پاؤں میں بلاضرورت مہندی لگاناناجائزہے. عورت خود اپنے ہاتھ پاؤں میں لگاسکتی ہے، مگر لڑکے کو لگائے گی تو گنہگار ہوگی. (بحوالہ بہارشریعت ج3ص428 حصہ 16) سونے کی انگوٹھی مردکیلیے آگ کاانگارہ ہے. کیونکہ مرد کو سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے. حدیث شریف میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا،، (بحوالہ بخاری شریف ج4ص67حدیث 5863) مسلم شریف میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس کو اتار کرپھینک دیااوریہ فرمایاکہ کیا کوئی اپنے ہاتھ میں انگارہ رکھتا ہے؟ جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے. کسی نے ان سے کہا، اپنی انگوٹھی اٹھا لواور کسی کام میں لانا. انھوں نے کہا، خدا کی قسم! میں اُسے کبھی نہیں لونگا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اسے پھینک دیا. (ص1157حدیث2090) حدیث شریف :ابوداؤد ونسائی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دہنے ہاتھ میں ریشم لیااوربائیں ہاتھ میں سوناپھریہ فرمایاکہ"یہ دونوں چیزیں میری امت کے مَردوں پر حرام ہیں،، (بہارشریعت ج3ص424/بحوالہ ابوداؤد ج4ص71) اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے سونےکی انگوٹھی پہننے والے کی اصلاح فرمائی. واقعہ کاخلاصہ یہ ہے؛ عصر کی نماز کے بعد بڑا ہی پُرکیف سماں تھا، دُورونزدیک سے آئے ہوئے لوگ مُجدددین وملت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ایک سچے عاشق رسول کی زیارت وملاقات سے اپنے دلوں کو مُنورکررہےتھے. اتنے میں ایک صاحب طلائی (یعنی سونے کی) انگوٹھی پہنےحاضرہوئےتو حامئ سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے نھْیٌ عَنِ المُنْکر(یعنی برائی سے روکنے) کا فریضہ انجام دیتے ہوئے کچھ یوں ارشادفرمایا: "مردکوسوناپہننا حرام ہے، صرف ایک نگ کی چاندی کی انگوٹھی جو ساڑھے چار ماشے (یعنی 4 گرام 374ملی گرام) سے کم کی ہو اس کی اجازت ہے. جوکوئی( مرد) سونے، تانبےیا پیتل وغیرہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی پہنے یا چاندی کی ساڑھے چار ماشےیا اس سے زیادہ وزن کی ایک انگوٹھی پہنےیا کئی انگوٹھیاں پہنے اگرچہ سب مل کر ساڑھے چار ماشےسے کم ہوں تو اس کی نماز مکروہ تحریمی ہے. ،،(بحوالہ ملفوظات اعلی حضرت ص309) یعنی جس کا اعادہ کرنا (یعنی دوبارہ پڑھنا) واجب ہے. فقہاء کرام رحِمَھُمُ السلام فرماتے ہیں :جس چیز کا بندوں کو حکم ہے اس کے بجالانے میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اس خرابی کو دورکرنے کیلیے وہ عمل دوبارہ بجالانااِعادہ کہلاتاہے.(درمختار وردالمحتار ج2ص629) کاش! ہم عاشقان اولیاء، غوث وخواجہ اورمخدوم ورضا، سنت رسول کی پیروی اور نیکی کی دعوت عام کرنے اور گناہوں سے بازرکھنےکے معاملے میں مکمل کوشاں ہوجاتے. یہ یادرکھیں اگر کسی شخص نے ناجائز انگوٹھی یادھات کاچھلّایاگلے میں کسی بھی دھات کی زنجیر پَہنی ہو اور دیکھنے والےکوظنِّ غالب ہوکہ منع کروں گا تویہ مان لے گا تو اس پر منع کر نا واجب ہے، منع نہیں کرے گا تو گنہگار ہوگا. (نیکی کی دعوت حصہ اول ص409) اللہ پاک امت مسلمہ کو "تعاونواعلی البروالتقوی ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان،،پرعمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کی خیر خواہی اور بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ اشرف الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم. واللہ تعالیٰ اعلم <span style="color: #339966;"><strong>از:اسیرشیخ اعظم گدائے مخدوم ورضا پیرطریقت حضرت مولانا ابوضیاغلام رسول مِہْرسعدی کٹیہاری، </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خطیب وامام فیضانِ مدینہ مسجد علی امن نگربلگام کرناٹک انڈیا </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خلیفہ حضور شیخ الاسلام، حضور قائد ملت کچھوچھہ شریف ومفتی انوار الحق خلیفہ حضور مفتی اعظم ھندرضی اللہ عنہ بریلی شریف.</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...