Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1203 Verified Hanafi Fiqh 6.9K Views

اولاد کو اصلی باپ کے علاوہ دوسرے کی طرف منسوب کرناکیسا؟

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اولاد کو اصلی باپ کے علاوہ دوسرے کی طرف منسوب کرناکیسا؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اولاد کو اصلی باپ کے علاوہ دوسرے کی طرف منسوب کرناکیسا؟

بوقت نکاح لڑکی کے سوتیلے باپ کا نام لیناکیسا؟ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ “ہندہ” دو سال کی ہے تبھی اس کے والد سے زید نے ہندہ کو پالنے کی حیثیت سے اپنے گھر لے گیا۔ تو زید رضائی باپ ہوا۔ اب ہندہ ١٨ سال کی ہو گئی ہے اور اسکی شادی ہو رہی ہے تو حاصل کلام یہ ہے کہ نکاح نامہ میں رضائی باپ کا نام دیا جائے یا اصل باپ کا۔ برائے کرم شریعت کی روشنی میں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجـوابــــــــــــــــــــــــــــــ اس سوال کے جواب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اولاد کو اصلی باپ کے علاوہ دوسرے کی طرف منسوب کرنا ناجائزوحرام ہے، لہذا جہاں بھی ضرورت پڑے اصلی باپ ہی کا ذکر ہوگا،جیساکہ دلیل آ رہی ہے. ●لہذا لڑکی اگر مجلس عقد میں موجود نہ ہوتو اس کے اصلی باپ کانام لیا جائےگا، اگر باپ کانام لینے میں غلطی ہوئی تو نکاح نہ ہوگا.(ملخصامن بہار شریعت،ج:٢،ح:٧،ص:١٦،مجلس المدینہ) ● البتہ یہ لڑکی عرف میں اگر اس سوتیلے باپ کی بیٹی کی حیثیت سے مشہور ہوچکی ہے اور لڑکی کا نام لینے سے سوتیلے باپ کی طرف ذہن جاتا ہے تو اس صورت میں اس کے نام کے ساتھ سوتیلے باپ کانام لینےسے نکاح منعقد ہوجائےگا. نوٹ: لیکن یہ نکاح کے انعقاد کی حد تک ہے. لہذا جب اس کا اصلی باپ معلوم ہے اگرچہ فوت ہوگیا ہوتواسی کا نام ذکرکیا جائے تاکہ غیر کی طرف نسبت نہ ہو. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئهِمْ”(الاحزاب،رقم الآیہ:٥) ترجمہ:انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو. تفسیر بیضاوی میں اس کے تحت ہے:“أنسبوهم إليهم“(الاحزاب تحت ھذہ الآیہ) حدیث شریف میں ہے:حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو کسی غیر کی طرف منسوب کرے تو اس پرجنت حرام ہے۔‘‘(بخاری، کتاب الفرائض، باب من ادعی الی غیر ابیہ،۴/ ۳۲۶،الحدیث:۶۷۶۶) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی تحریر بطور اختصار پیش کی جاتی ہے:”(سوال)ہندہ کی صحیح ولدیت زید ہے اور بوقت نکاح بکر قائم کرکے ایجاب وقبول ہوا ہے توایسانکاح درست ہوا یا نہیں؟…(جواب)…ہاں! اگر بکرنے اسے پرورش یا متبنی کیا تھا اور وہ عرف میں ہندہ بنت بکر کہی جاتی ہے اور اس کے کہنے سے اس کی طرف ذہن جاتا ہے تونکاح ہوگیا”(فتاوی رضویہ،ج:11،ص:48موبائل ایپ سائز) واللہ تعالی اعلم. کتبـــــبہ:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی،بلرامپور یوپی. 📲+263780498811

Kutubahu & Verified by:

<h2>اولاد کو اصلی باپ کے علاوہ دوسرے کی طرف منسوب کرناکیسا؟</h2> بوقت نکاح لڑکی کے سوتیلے باپ کا نام لیناکیسا؟ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ "ہندہ" دو سال کی ہے تبھی اس کے والد سے زید نے ہندہ کو پالنے کی حیثیت سے اپنے گھر لے گیا۔ تو زید رضائی باپ ہوا۔ اب ہندہ ١٨ سال کی ہو گئی ہے اور اسکی شادی ہو رہی ہے تو حاصل کلام یہ ہے کہ نکاح نامہ میں رضائی باپ کا نام دیا جائے یا اصل باپ کا۔ برائے کرم شریعت کی روشنی میں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـوابــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اس سوال کے جواب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اولاد کو اصلی باپ کے علاوہ دوسرے کی طرف منسوب کرنا ناجائزوحرام ہے، لہذا جہاں بھی ضرورت پڑے اصلی باپ ہی کا ذکر ہوگا،جیساکہ دلیل آ رہی ہے. ●لہذا لڑکی اگر مجلس عقد میں موجود نہ ہوتو اس کے اصلی باپ کانام لیا جائےگا، اگر باپ کانام لینے میں غلطی ہوئی تو نکاح نہ ہوگا.(ملخصامن بہار شریعت،ج:٢،ح:٧،ص:١٦،مجلس المدینہ) ● البتہ یہ لڑکی عرف میں اگر اس سوتیلے باپ کی بیٹی کی حیثیت سے مشہور ہوچکی ہے اور لڑکی کا نام لینے سے سوتیلے باپ کی طرف ذہن جاتا ہے تو اس صورت میں اس کے نام کے ساتھ سوتیلے باپ کانام لینےسے نکاح منعقد ہوجائےگا. نوٹ: لیکن یہ نکاح کے انعقاد کی حد تک ہے. لہذا جب اس کا اصلی باپ معلوم ہے اگرچہ فوت ہوگیا ہوتواسی کا نام ذکرکیا جائے تاکہ غیر کی طرف نسبت نہ ہو. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:"اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئهِمْ"(الاحزاب،رقم الآیہ:٥) ترجمہ:انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو. تفسیر بیضاوی میں اس کے تحت ہے:<span style="color: #ff0000;"><strong>"أنسبوهم إليهم</strong></span>"(الاحزاب تحت ھذہ الآیہ) حدیث شریف میں ہے:حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو کسی غیر کی طرف منسوب کرے تو اس پرجنت حرام ہے۔‘‘(بخاری، کتاب الفرائض، باب من ادعی الی غیر ابیہ،۴/ ۳۲۶،الحدیث:۶۷۶۶) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی تحریر بطور اختصار پیش کی جاتی ہے:"(سوال)ہندہ کی صحیح ولدیت زید ہے اور بوقت نکاح بکر قائم کرکے ایجاب وقبول ہوا ہے توایسانکاح درست ہوا یا نہیں؟...(جواب)...ہاں! اگر بکرنے اسے پرورش یا متبنی کیا تھا اور وہ عرف میں ہندہ بنت بکر کہی جاتی ہے اور اس کے کہنے سے اس کی طرف ذہن جاتا ہے تونکاح ہوگیا"(فتاوی رضویہ،ج:11،ص:48موبائل ایپ سائز) واللہ تعالی اعلم. <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــبہ:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی،بلرامپور یوپی.</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>📲+263780498811</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: