Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا از شان محمد المصباحی القادری

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا از شان محمد المصباحی القادری
Reference 280 September 18, 2025 13,078 views
اصل سوالاونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا از شان محمد المصباحی القادری

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا

 عنوان : ﻋﻦ اﻟﺒﺮاء ﺑﻦ ﻋﺎﺯﺏ ﻗﺎﻝ ﺳﺌﻞ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻦ اﻟﻮﺿﻮء ﻣﻦ ﻟﺤﻮﻡ اﻹﺑﻞ ﻓﻘﺎﻝ ﺗﻮﺿﺌﻮا ﻣﻨﻬﺎ ﻭﺳﺌﻞ ﻋﻦ ﻟﺤﻮﻡ اﻟﻐﻨﻢ ﻓﻘﺎﻝ ﻻ ﺗﻮﺿﺌﻮا ﻣﻨﻬﺎ ﻭﺳﺌﻞ ﻋﻦ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻲ ﻣﺒﺎﺭﻙ اﻹﺑﻞ ﻓﻘﺎﻝ ﻻ ﺗﺼﻠﻮا ﻓﻲ ﻣﺒﺎﺭﻙ اﻹﺑﻞ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻣﻦ اﻟﺸﻴﺎطین ﻭﺳﺌﻞ ﻋﻦ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻲ ﻣﺮاﺑﺾ اﻟﻐﻨﻢ ﻓﻘﺎﻝ ﺻﻠﻮا ﻓﻴﻬﺎ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﺑﺮﻛﺔ (سنن ابی داؤد، ج١، ص٤٧)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو نہ کرو آپ سے اونٹ کے باڑے( بیٹھنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے اور آپ سے بکریوں کے باڑے( رہنے کی جگہ )میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں۔

یہ حدیث مجھے ایک شخص نے بھیجی ہے اور کہتا ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اسکا کسی حدیث سے حوالہ دیں میں نے بہار شریعت اور نور الایضاح کے حوالہ سے اس سے کہا تھا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا لیکن بنالینا مستحب ہے وہ کہتا ہے ہم اسکو نہیں مانتے یہ حدیث کے خلاف ہے اس کا حل بتائے۔ حافظ توحید پٹنہ بہار ۔

الجواب-

یہ اور اس مفہوم کی تمام احادیث میں وضو سے نماز والا وضو مراد نہیں بلکہ غسل ید یعنی ہاتھ کا دھونا مراد ہے جیسا کہ شرح معانی الآثار میں ہے “انہ قد یجوز ان یکون الوضوء الذی ارادہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ھو غسل الید” (ج١ص٧٠،ش)

          اور اگر وضوے نماز ہی مراد لیں تو یہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے منسوخ ہے “حدثنا علی بن عباس قال ثنا شعیب بن ابی حمزۃ عن محمد بن المنکدر عن جابر بن عبداللہ قال کان آخر الامرین من رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ترک الوضوء مما غيرت النار” (ابو داؤد، ج١، ص٤٩، ش)

ترجمہ: محمد بن منکدر جابر بن عبد اللہ(رضی اللہ عنہ) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل آگ سے پکی چیز سے وضو نہ کرنا تھا تو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ سے پکی چیزوں سے مطلقا وضو کرنا ترک فرمادیا تو اب اس میں بکری کا گوشت ہو یا اونٹ کا سب ہی شامل ہیں۔ نیز بکری اور اونٹ کی بیع اور دودھ حلال ہے اسی طرح ان کا گوشت بھی تو جب ان دونوں کے مابین ان احکام میں فرق نہیں تو گوشت کھانے کے حکم میں بھی فرق نہ ہوگا لہذا جس طرح بکری کے گوشت کھانے سے وضو نہیں اسی طرح اونٹ کے گوشت کھانے سے بھی وضو نہ ہوگا۔

یہی ہمارے ائمہ ثلاثہ وجمہور کا مذھب ہے واللہ تعالی اعلم ۔

شان محمد المصباحی القادری

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.