Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1216 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.6K Views

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی اس لڑکی سے جو دوسرے شوہر سے ہے کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی اس لڑکی سے جو دوسرے شوہر سے ہے کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی اس لڑکی سے جو دوسرے شوہر سے ہے کر سکتے ہیں یا نہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا انتقال ہو گیا اس کے نطفے سے تین لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں. زید کی بیوی ہندہ نے بکر سے شادی کی اور بکر کی بیوی شبینہ سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں. بکر نے شبینہ کے ہوتے ہوئے ہندہ سے شادی کرلی اور اپنے بڑے لڑکے کا نکاح جو کہ شبینہ کے بطن سے ہے زید مرحوم کی بڑی لڑکی جو ہندہ کے بطن سے ہے کردیا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ کہ بکر بھی اس لڑکی کی ماں سے شادی کر کے اسی گھر میں رہے اور بکر اپنی پہلی بیوی کے لڑکے ہندہ سے جو بکر کی دوسری بیوی ہے اس کی لڑکی سے شادی کر کے اسی گھر میں رکھے. قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں ہندہ کی لڑکی کا نکاح ہندہ کے شوہر ثانی بکرکے اس لڑکے کے ساتھ کرنا جو شبینہ کے بطن سے ہے جائز ہے. فتاویٰ عالمگیری باب المحرمات میں ہے ” لا باس بان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا او امھا کذا فی محیط السرخسی (ج ١ صفحہ ٢٢٧) وجہ یہ ہے کہ وہ محرمات میں سے نہیں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے ” واحل لکم ما وراء ذلکم (پارہ ٥ آیت ٢٤) اور جب ان کا نکاح شرعاً درست ہے تو اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی شمس الدین احمد علیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h3>اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی اس لڑکی سے جو دوسرے شوہر سے ہے کر سکتے ہیں یا نہیں؟</h3> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا انتقال ہو گیا اس کے نطفے سے تین لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں. زید کی بیوی ہندہ نے بکر سے شادی کی اور بکر کی بیوی شبینہ سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں. بکر نے شبینہ کے ہوتے ہوئے ہندہ سے شادی کرلی اور اپنے بڑے لڑکے کا نکاح جو کہ شبینہ کے بطن سے ہے زید مرحوم کی بڑی لڑکی جو ہندہ کے بطن سے ہے کردیا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ کہ بکر بھی اس لڑکی کی ماں سے شادی کر کے اسی گھر میں رہے اور بکر اپنی پہلی بیوی کے لڑکے ہندہ سے جو بکر کی دوسری بیوی ہے اس کی لڑکی سے شادی کر کے اسی گھر میں رکھے. قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسئولہ میں ہندہ کی لڑکی کا نکاح ہندہ کے شوہر ثانی بکرکے اس لڑکے کے ساتھ کرنا جو شبینہ کے بطن سے ہے جائز ہے. فتاویٰ عالمگیری باب المحرمات میں ہے <strong><span style="color: #ff0000;">'' لا باس بان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا او امھا کذا فی محیط السرخسی (ج ١ صفحہ ٢٢٧)</span></strong> وجہ یہ ہے کہ وہ محرمات میں سے نہیں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' واحل لکم ما وراء ذلکم</strong></span> (پارہ ٥ آیت ٢٤) اور جب ان کا نکاح شرعاً درست ہے تو اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی شمس الدین احمد علیمی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...