اگر سنیوں کی مسجد دور ہو تو بد عقیدوں کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــ سنی حضرات اپنی مسجد خود قائم کریں اگر اتنی وسعت نہ ہو تو کسی سنی کے گھر میں جہاں وسعت وہیں جماعت قائم کریں اور غیروں کی مسجد میں ہرگز نہ جائیں ۔ کہ ان کی مسجد میں ہماری نماز صحیح نہیں ہوتی ہے چونکہ علمائے حرمین شریف نے متفقہ طور پر ان پر کفر کا فتوی دیا ہے کہ یہ دیوبندی وہابی غیر مقلد حضرات اپنے عقائد کی وجہ سے کافر ہیں ۔ لہذا ان کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوگی ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
Verified Hanafi Fiqh
اگر سنیوں کی مسجد دور ہو تو بد عقیدوں کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
اگر سنیوں کی مسجد دور ہو تو بد عقیدوں کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
01
The questionSawaal
اصل سوالاگر سنیوں کی مسجد دور ہو تو بد عقیدوں کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
02
The responseAl-Jawab
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.
Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.