Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #982 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.1K Views

اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں

السلام عليكم ورحمت اللہ وبرکاتہ حضرت اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں۔ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھابــــــــــ حالت حیض میں نکاح کرنا جائز ہے ۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا:نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ جواب ارشاد فرماتے ہیں: حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے ۔ کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر وثنا ہیں ۔ اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت، تو جواز یقینی ہے ۔ کماصرحوا بہ قاطبۃ (جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے ۔ (حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج۴ ص۳۶۵ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اب رہا سوال یہ کہ ان سے ہمبستری کرنا کیسا تو یہ ناجائز و حرام ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ } اے محبوب! تم سے حَیض کے بارے میں لوگ سوال کرتے ہیں تم فرما دو وہ گندی چیز ہے تو حَیض میں عورتوں سے بچو اور ان سے قربت نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں تو جب پاک ہو جائیں ان کے پاس اس جگہ سے آؤ جس کا ﷲ نے تمہیں حکم دیا بیشکﷲ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاک ہونے والوں کو۔ بہار شریعت میں ہے : ہم بستری یعنی جماع اس حالت میں (حالت حیض میں) حرام ہے ۔ ایسی حالت میں جِماع جائز جاننا کفر ہے ۔ اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سَخْت گنہگار ہوا اس پر توبہ فرض ہے ۔ اور آمد کے زمانہ میں کیا تو ایک دینار اور قریب ختم کے کیا تو نصف دینار خیرات کرنا مُسْتَحَب۔ (بہار شریعت ج۱ ح۲ ص۳۸۱ مکتبہ المدینہ کراچی) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ۔ کتبہ : فقیر محمد اشفاق عطاری

Kutubahu & Verified by:

<h3>اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں</h3> السلام عليكم ورحمت اللہ وبرکاتہ حضرت اگر کسی لڑکی کا نکاح حیض کی حالت میں ہوا تو اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں۔ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھابــــــــــ</strong></span> حالت حیض میں نکاح کرنا جائز ہے ۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا:نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ جواب ارشاد فرماتے ہیں: حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے ۔ کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر وثنا ہیں ۔ اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت، تو جواز یقینی ہے ۔ کماصرحوا بہ قاطبۃ (جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے ۔ (حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج۴ ص۳۶۵ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اب رہا سوال یہ کہ ان سے ہمبستری کرنا کیسا تو یہ ناجائز و حرام ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ }</strong></span> اے محبوب! تم سے حَیض کے بارے میں لوگ سوال کرتے ہیں تم فرما دو وہ گندی چیز ہے تو حَیض میں عورتوں سے بچو اور ان سے قربت نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں تو جب پاک ہو جائیں ان کے پاس اس جگہ سے آؤ جس کا ﷲ نے تمہیں حکم دیا بیشکﷲ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاک ہونے والوں کو۔ بہار شریعت میں ہے : ہم بستری یعنی جماع اس حالت میں (حالت حیض میں) حرام ہے ۔ ایسی حالت میں جِماع جائز جاننا کفر ہے ۔ اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سَخْت گنہگار ہوا اس پر توبہ فرض ہے ۔ اور آمد کے زمانہ میں کیا تو ایک دینار اور قریب ختم کے کیا تو نصف دینار خیرات کرنا مُسْتَحَب۔ (بہار شریعت ج۱ ح۲ ص۳۸۱ مکتبہ المدینہ کراچی) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : فقیر محمد اشفاق عطاری</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...