Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1228 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.1K Views

اگر کسی کے مرنے کے بعد صرف بھتیجے ہوں تو جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اگر کسی کے مرنے کے بعد صرف بھتیجے ہوں تو جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اگر کسی کے مرنے کے بعد صرف بھتیجے ہوں تو جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں: کہ زید صاحب اولاد نہیں تھا، اس کی میت کے بعد پوری جائیداد کا مالک اس کی بیوی ہوئی۔ اب بیوی کے انتقال کے بعد جائداد کا مالک کون ہوگا؟ واضح رہے کہ زید کے بھتیجے اور زید کی بیوی کے بھتیجے ابھی باحیات ہیں۔ قرآن و احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ المستفتی :- ابو سفیان ممبیٔ الجوابــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں بیوی کا پوری جائیداد کا وارث ہوجانا سخت محلِّ نظر بات ہے؛ اس لیے کہ جب زید کے بھتیجے تھے تو زید کی بیوی کس طرح اس کی پوری جائیداد کی مالک ہوئی؟ ہاں! ایک بعید صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بیوی کا دین مہر زید کے ذمہ باقی رہا ہو اور وہ اتنا زیادہ ہو کہ تجہیز و تکفین کے بعد پورے ترکہ کے برابر یا زائد رہا ہو اور اس نے دین کی وصولی میں سب لے لیا ہو، لیکن تب یہ مالک ہونا دین کی وصولی کے طور پر ہوگا نہ کہ وراثت کے طور پر۔ ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زید کے بھتیجے وغیرہ کسی مانع وراثت امر کے باعث ترکہ کے حق دار نہ رہے ہوں، اس لیے بیوی کو پوری جائیداد مل گئی ہو۔یہ دوسری صورت غایت درجہ مستبعد ہے۔کما لا یخفی علی من لہ خبرة بہذا الفن الشریف۔ بہر حال اگر کسی جائز طریقہ پر زید کی بیوی اس کی تمام جائیداد کی وارث بنی ہو اور بھتیجوں کے علاوہ کوئی قریبی عصبہ مثلا دادا یا بھائی وغیرہ یوں ہی مقررہ حصہ پانے والے یعنی: بہن ماں دادی نانی وغیرہ نہ ہوں تو تجہیز و تکفین کے مصارف اور دیون کی ادائیگی نیز وصیت بقدر نافذ پوری کرنے کے بعد اس کا مال بھتیجوں کی تعداد کے برابر اتنے حصے کرکے ان سب میں برابر برابر تقسیم کردیا جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے: “الحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فلأولى رجل ذكر”. یعنی: متعینہ حصے حصہ داروں کو دیدو پھر جو بچے تو وہ سب، سب سے قریبی مرد کا ہے۔(صحیح البخاری، باب میراث الولد من ابیہ وامہ ج ٢ص ٩٩٧ مطبوعہ مجلس برکات ۔صحیح مسلم کتاب الفرائض ج ٢ ص ٣۴مطبوعہ مجلس برکات) علم المیراث کی مشہور کتاب”سراجیہ” میں عصبہ بنفسہ کے بیان میں ہے: “وھم اربعة اصناف، جزء المیت ، واصلہ، وجزء ابیہ، وجزء جدہ، الاقرب فالاقرب، یرجحون بقرب الدرجة، اعنی: اولاھم بالمیراث جزء المیت ای البنون، ثم بنوھم وان سفلوا۔۔۔” (سراجیہ، باب العصبات) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٢/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٦/جنوری ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>اگر کسی کے مرنے کے بعد صرف بھتیجے ہوں تو جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟</h2> کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں: کہ زید صاحب اولاد نہیں تھا، اس کی میت کے بعد پوری جائیداد کا مالک اس کی بیوی ہوئی۔ اب بیوی کے انتقال کے بعد جائداد کا مالک کون ہوگا؟ واضح رہے کہ زید کے بھتیجے اور زید کی بیوی کے بھتیجے ابھی باحیات ہیں۔ قرآن و احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ المستفتی :- ابو سفیان ممبیٔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــ</strong></span> صورتِ مسئولہ میں بیوی کا پوری جائیداد کا وارث ہوجانا سخت محلِّ نظر بات ہے؛ اس لیے کہ جب زید کے بھتیجے تھے تو زید کی بیوی کس طرح اس کی پوری جائیداد کی مالک ہوئی؟ ہاں! ایک بعید صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بیوی کا دین مہر زید کے ذمہ باقی رہا ہو اور وہ اتنا زیادہ ہو کہ تجہیز و تکفین کے بعد پورے ترکہ کے برابر یا زائد رہا ہو اور اس نے دین کی وصولی میں سب لے لیا ہو، لیکن تب یہ مالک ہونا دین کی وصولی کے طور پر ہوگا نہ کہ وراثت کے طور پر۔ ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زید کے بھتیجے وغیرہ کسی مانع وراثت امر کے باعث ترکہ کے حق دار نہ رہے ہوں، اس لیے بیوی کو پوری جائیداد مل گئی ہو۔یہ دوسری صورت غایت درجہ مستبعد ہے۔کما لا یخفی علی من لہ خبرة بہذا الفن الشریف۔ بہر حال اگر کسی جائز طریقہ پر زید کی بیوی اس کی تمام جائیداد کی وارث بنی ہو اور بھتیجوں کے علاوہ کوئی قریبی عصبہ مثلا دادا یا بھائی وغیرہ یوں ہی مقررہ حصہ پانے والے یعنی: بہن ماں دادی نانی وغیرہ نہ ہوں تو تجہیز و تکفین کے مصارف اور دیون کی ادائیگی نیز وصیت بقدر نافذ پوری کرنے کے بعد اس کا مال بھتیجوں کی تعداد کے برابر اتنے حصے کرکے ان سب میں برابر برابر تقسیم کردیا جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"الحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فلأولى رجل ذكر"</strong></span>. یعنی: متعینہ حصے حصہ داروں کو دیدو پھر جو بچے تو وہ سب، سب سے قریبی مرد کا ہے۔(صحیح البخاری، باب میراث الولد من ابیہ وامہ ج ٢ص ٩٩٧ مطبوعہ مجلس برکات ۔صحیح مسلم کتاب الفرائض ج ٢ ص ٣۴مطبوعہ مجلس برکات) علم المیراث کی مشہور کتاب"سراجیہ" میں عصبہ بنفسہ کے بیان میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وھم اربعة اصناف، جزء المیت ، واصلہ، وجزء ابیہ، وجزء جدہ، الاقرب فالاقرب، یرجحون بقرب الدرجة، اعنی: اولاھم بالمیراث جزء المیت ای البنون، ثم بنوھم وان سفلوا۔۔۔"</strong></span> (سراجیہ، باب العصبات) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٢/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٦/جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...