01
The questionSawaal
اصل سوالایک ساتھ کمائی میں والد اور اولاد پر قربانی کا حکم
02
The responseAl-Jawab
ایک ساتھ کمائی میں والد اور اولاد پر قربانی کا حکم
سوال : ایک آدمی کاروبار کر رہا ہے اور وہ مالک نصاب بھی ہے. اس کے علاوہ اس کے بیٹے بھی کاروبار کرتے ہیں، اور بیٹے اپنی مرضی سے خرید اور فروخت اور خرچ کر سکتے ہیں، لیکن اختیار پھر سارا ان کے والد کے پاس ہے، یعنی وہ جو مرضی کاروبار یا رقم کے ساتھ کرنا چاہے بیٹوں کو اعتراض نہیں ہو سکتا، دوسرے لفظوں میں سربراہ والد صاحب ہیں.اس صورت حال میں قربانی سب پر واجب ہو گی؟ یا صرف سربراہ پر؟؟ سائل : افتخار خان کرناٹک الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب والد پر صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے قربانی واجب ہے ،اور بیٹوں کے پاس اگرذاتی ملکیت میں اتنی رقم موجود ہے جس کی وجہ سے وہ صاحبِ نصاب بنتے ہوں تو ان پر بھی قربانی واجب ہوگی۔یعنی جس جس بیٹے کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کے برابر نقد رقم یا ضرورت سے زائد سازوسامان موجود ہو تو اس بیٹے پر بھی قربانی واجب ہوگی۔اور اگر بیٹوں کے پاس ذاتی رقم کوئی نہیں ہے، بلکہ سب کچھ کماکر والد کو ہی مالک بناکر انہیں دےدیتے ہیں تو اس صورت میں بیٹوں پر قربانی واجب نہ ہوگی۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.