Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1762 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.8K Views

ایک سال سے کم صحت مند بکرے کی قربانی دینا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ایک سال سے کم صحت مند بکرے کی قربانی دینا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ایک سال سے کم صحت مند بکرے کی قربانی دینا

السلام وعلیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ سوال : ایک بکرا جس کی عمر ۱۰ ماہ ہے مگر دیکھنے میں ایک سال کا معلوم ہوتا ہے تو کیا اس کی قربانی ہوسکتی ہے؟ سائل محمد سعید نوری نندوربار الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ بکرا اسلامی مہینوں کے مطابق پورے ایک سال کا ہونا لازمی ہے۔ سال سے کم ہو تو قربانی کے قابل نہیں ہے۔ دنبہ یا بھیڑ کا بچہ صحت مند، موٹا تازہ ہو تو چھ ماہ میں بھی اس کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں: اونٹ پانچ سال کا، گائے، بھینس دو سال کی، بکری بکرا، بھیڑ ایک سال کی۔ یہ عمر کم از کم حد ہے۔ اس سے کم عمر کے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ زیادہ عمر ہو تو بہتر ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا نظر آئے تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ علامه علاء الدين محمد بن علی بن محمد حصکفی، الدر المختار، 6 : 322، طبع کراچی. علامه ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغينانی، الهداية، 4 : 449، طبع کراچی. الشيخ نظام الدين وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندية، 1 : 374، دارالفکر. وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>ایک سال سے کم صحت مند بکرے کی قربانی دینا</h2> السلام وعلیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ سوال : ایک بکرا جس کی عمر ۱۰ ماہ ہے مگر دیکھنے میں ایک سال کا معلوم ہوتا ہے تو کیا اس کی قربانی ہوسکتی ہے؟ سائل محمد سعید نوری نندوربار <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ بکرا اسلامی مہینوں کے مطابق پورے ایک سال کا ہونا لازمی ہے۔ سال سے کم ہو تو قربانی کے قابل نہیں ہے۔ دنبہ یا بھیڑ کا بچہ صحت مند، موٹا تازہ ہو تو چھ ماہ میں بھی اس کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں: اونٹ پانچ سال کا، گائے، بھینس دو سال کی، بکری بکرا، بھیڑ ایک سال کی۔ یہ عمر کم از کم حد ہے۔ اس سے کم عمر کے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ زیادہ عمر ہو تو بہتر ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا نظر آئے تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ علامه علاء الدين محمد بن علی بن محمد حصکفی، الدر المختار، 6 : 322، طبع کراچی. علامه ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغينانی، الهداية، 4 : 449، طبع کراچی. الشيخ نظام الدين وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندية، 1 : 374، دارالفکر. وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...