Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1425
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.2K Views
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کا حصہ ربع [١/٤] ہے،ارشادہے ” وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۲) اور تمہارے ترکہ میں بیویوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو. ماں کا حصہ بطورِ فرض ثلث مابقی [١/٣] ہے،یعنی بیوی کو دینے کے بعد جو بچے گا اس کا ثلث ماں کو ملے گا، الله کا فرمان ہے “فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۱) (ترجمہ: پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی حصہ ہے.) بہار شریعت میں ہے : اگر ماں کے ساتھ شوہر اور بیوی میں سے بھی کوئی ایک ہو تو پہلے شوہر یا بیوی کا حصہ دیا جائے گا پھرجو بچے گا اس میں سے ایک تہائی ماں کو دیا جائے گا۔(ح بستم ،ص ١١٣٤) اور باپ یہاں عصبہ محض ہوگا. کل ترکہ کو ١٢حصوں میں تقسیم کرکے ٣ حصہ بیوی کو دیں گے ، باقی ماندہ ترکہ ٩ سے ایک تہائی یعنی ٣ حصہ ماں کو دیں گے ، پھر بقیہ ٦ حصہ باپ کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong> </span> بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کا حصہ ربع [١/٤] ہے،ارشادہے<span style="color: #ff0000;"><strong> " وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ"</strong></span> (سورہ نساء ، آیت : ۱۲) اور تمہارے ترکہ میں بیویوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو. ماں کا حصہ بطورِ فرض ثلث مابقی [١/٣] ہے،یعنی بیوی کو دینے کے بعد جو بچے گا اس کا ثلث ماں کو ملے گا، الله کا فرمان ہے<span style="color: #ff0000;"><strong> "فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ"</strong></span> (سورہ نساء ، آیت : ۱۱) (ترجمہ: پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی حصہ ہے.) بہار شریعت میں ہے : اگر ماں کے ساتھ شوہر اور بیوی میں سے بھی کوئی ایک ہو تو پہلے شوہر یا بیوی کا حصہ دیا جائے گا پھرجو بچے گا اس میں سے ایک تہائی ماں کو دیا جائے گا۔(ح بستم ،ص ١١٣٤) اور باپ یہاں عصبہ محض ہوگا. کل ترکہ کو ١٢حصوں میں تقسیم کرکے ٣ حصہ بیوی کو دیں گے ، باقی ماندہ ترکہ ٩ سے ایک تہائی یعنی ٣ حصہ ماں کو دیں گے ، پھر بقیہ ٦ حصہ باپ کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...