Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #810 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.5K Views

ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا کیسا ہے ؟ کیا ایک مشت سے کم داڑھی ہوتی ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا کیسا ہے ؟ کیا ایک مشت سے کم داڑھی ہوتی ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا کیسا ہے ؟

سوال : کیا حکم ہے اس بارے میں کہ کچھ لوگ داڑھی بہت مختصر رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ میری داڑھی ہے تو آخر داڑھی کسے کہتے ہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ یہ ان کی داڑھی تو ہوسکتی ہے لیکن ایک کامل مسلمان کی داڑھی نہیں ہوسکتی ہے ، ایک مومن کامل کی داڑھی تو وہی ہے جو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے طریقے کے مطابق ہو، اور آقا کا طریقہ یہ ہے کہ داڑھی کم از کم ایک مشت ہو اس سے زیادہ ہو تو کوئی حرج نہیں ، لیکن طویل فاحش نہ ہو کہ چہرہ بھیانک ہو جائے اور بچے دیکھیں تو ڈریں ۔ اگر داڑھی کٹانے سے ایک مشت سے کم ہوگی تو خلاف سنت ہے اور باعثِ گناہ ہے صحیح بخاری میں ہے عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : خالفوا المشرکین، وفروا اللحی واحفوا الشوارب ،وکان ابن عمر اذا حج او اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل اخذہ حضرت ابن عباس اس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب حج یا عمرہ فرماتے تو اپنی داڑھی کو ایک مٹھی میں پکڑ لیتے اور جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کم کر دیتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس کام کا حکم دے دیں وہ واجب ہوجاتا ہے ،اس لیے داڑھی بڑھانا واجب ہوا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا عمل شاہد ہے کہ یہ وجوب ایک مشت کی حد تک ہے اور اس سے فاضل بال کاٹ دینا سنت ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتـــــــــبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : کیا حکم ہے اس بارے میں کہ کچھ لوگ داڑھی بہت مختصر رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ میری داڑھی ہے تو آخر داڑھی کسے کہتے ہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> یہ ان کی داڑھی تو ہوسکتی ہے لیکن ایک کامل مسلمان کی داڑھی نہیں ہوسکتی ہے ، ایک مومن کامل کی داڑھی تو وہی ہے جو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے طریقے کے مطابق ہو، اور آقا کا طریقہ یہ ہے کہ داڑھی کم از کم ایک مشت ہو اس سے زیادہ ہو تو کوئی حرج نہیں ، لیکن طویل فاحش نہ ہو کہ چہرہ بھیانک ہو جائے اور بچے دیکھیں تو ڈریں ۔ اگر داڑھی کٹانے سے ایک مشت سے کم ہوگی تو خلاف سنت ہے اور باعثِ گناہ ہے صحیح بخاری میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : خالفوا المشرکین، وفروا اللحی واحفوا الشوارب ،وکان ابن عمر اذا حج او اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل اخذہ</strong></span> حضرت ابن عباس اس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب حج یا عمرہ فرماتے تو اپنی داڑھی کو ایک مٹھی میں پکڑ لیتے اور جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کم کر دیتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس کام کا حکم دے دیں وہ واجب ہوجاتا ہے ،اس لیے <a href="https://masailworld.com/kya-jannat-me-dadhi-hogi/" target="_blank" rel="noopener">داڑھی بڑھانا</a> واجب ہوا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا عمل شاہد ہے کہ یہ وجوب ایک مشت کی حد تک ہے اور اس سے فاضل بال کاٹ دینا سنت ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتـــــــــبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...