Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #948 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.8K Views

ایک وضو سے کئی نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ایک وضو سے کئی نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ایک وضو سے کئی نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

سوال: یہ ہے کہ کیا ایک وضو سے دوسرے تیسرے وقت کی نماز ادا کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔ سائل : محمد حسان رضا مرکزی دہلی الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب ہر نماز کے لئے نیا وضو کرنا افضل ہے ۔ البتہ باوضو شخص ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کر سکتا ہے ۔ احادیثِ مبارکہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ” أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم صَلَّی الصَّلَوَاتِ یَوْمَ الْفَتْحِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْهِ ۔ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ صَنَعْتَ الْیَوْمَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ ۔ قَالَ عَمْدًا صَنَعْتُه یَا عُمَرُ ” اھ یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضوء سے تمام نمازیں ادا فرمائیں اور موزوں پر مسح کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آج آپ نے وہ کام کیا ہے جو اس سے پہلے نہیں کیا تھا ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! میں نے یہ کام جان بوجھ کر کیا ہے  ۔” اھ ( صحیح مسلم ج 1 ص 232 ، رقم : 277 : کتاب الطهارة، باب جواز الصلوات کلها بوضوء واحد ، دار احیاء التراث العربی ) اور حضرت ابو اسد بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے متعلق دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ” کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاةٍ وَکُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ” اھ یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے لئے تازہ وضو فرمایا کرتے تھے اور ہم ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھ لیا کرتے تھے ” اھ ( سنن أبی داؤد ج 1 ص 44 ، رقم : 171 ، دار الفکر بیروت ) مذکورہ بالا احادیث کی شرح کرتے ہوئے امام یحییٰ بن شرف نووی فرماتے ہیں کہ ” جب تک انسان بے وضو نہ ہو وہ متعدد فرض اور نفل نمازیں ایک وضو کے ساتھ پڑھ سکتا ہے ۔ ” اھ ( نووی شرح صحيح مسلم ج 2 ص 177 / 178 ) مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں ۔ لیکن یہ خیال رکھے کہ جب تک بآسانی وضو قائم رہے تو اسی وضو سے نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مگر جب تنگی محسوس کرے تو نیا وضو کرنا بہتر واحسن عمل ہے ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>ایک وضو سے کئی نماز پڑھنا کیسا ہے ؟</h2> سوال: یہ ہے کہ کیا ایک وضو سے دوسرے تیسرے وقت کی نماز ادا کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔ سائل : محمد حسان رضا مرکزی دہلی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong> </span> ہر نماز کے لئے نیا وضو کرنا افضل ہے ۔ البتہ باوضو شخص ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کر سکتا ہے ۔ احادیثِ مبارکہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ <span style="color: #ff0000;"><strong>" أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم صَلَّی الصَّلَوَاتِ یَوْمَ الْفَتْحِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْهِ ۔ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ صَنَعْتَ الْیَوْمَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ ۔ قَالَ عَمْدًا صَنَعْتُه یَا عُمَرُ " اھ </strong></span> یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضوء سے تمام نمازیں ادا فرمائیں اور موزوں پر مسح کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آج آپ نے وہ کام کیا ہے جو اس سے پہلے نہیں کیا تھا ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! میں نے یہ کام جان بوجھ کر کیا ہے  ۔" اھ ( صحیح مسلم ج 1 ص 232 ، رقم : 277 : کتاب الطهارة، باب جواز الصلوات کلها بوضوء واحد ، دار احیاء التراث العربی ) اور حضرت ابو اسد بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے متعلق دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ " کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاةٍ وَکُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ " اھ یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے لئے تازہ وضو فرمایا کرتے تھے اور ہم ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھ لیا کرتے تھے " اھ ( سنن أبی داؤد ج 1 ص 44 ، رقم : 171 ، دار الفکر بیروت ) مذکورہ بالا احادیث کی شرح کرتے ہوئے امام یحییٰ بن شرف نووی فرماتے ہیں کہ " جب تک انسان بے وضو نہ ہو وہ متعدد فرض اور نفل نمازیں ایک وضو کے ساتھ پڑھ سکتا ہے ۔ " اھ ( نووی شرح صحيح مسلم ج 2 ص 177 / 178 ) مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں ۔ لیکن یہ خیال رکھے کہ جب تک بآسانی وضو قائم رہے تو اسی وضو سے نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مگر جب تنگی محسوس کرے تو نیا وضو کرنا بہتر واحسن عمل ہے ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...