Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1148 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.5K Views

ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟

سوال  : ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں سے برابر برابر ادھار یا نقد بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایک کنٹل گیہوں کو ایک کنٹل گیہوں سے بیچنا جائز نہیں چاہے ادھار بیچے یا نقد ۔ ادھار تو اس لیے ناجائز و حرام ہے کہ دونوں قدر و جنس میں متحد ہیں اور اس صورت میں کمی بیشی اور ادھار دونوں صورتیں حرام ہوتی ہے ۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم صفحہ ١٠٧ میں ہے۔ ان وجدالقدروالجنس حرم الفضل والنساء ۔ اور نقد اس لئے حرام و ناجائز ہے کہ گیہوں عند عندالشرع وزنی چیز نہیں ہے بلکہ کیلی ہے لہذا اسے پیمانہ ہی سے ناپ کر ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز ہے وزن سے ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز نہیں ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد سوم مصری صفحہ ١٠٧ میں ہے کہ ” لوباع البر بجنسہ متساویا وزنا لم یجز ۔ اور ہدایہ جلد ثالث صفحہ ٦٤ میں ہے” لوباع الحنطۃ بجنسھا متساویا وزنا لا یجوز عندھما (ای الطرفین) وان تعارفوا ذالک لتوھم الفضل علی ما ھوالمعیار فیہ کما اذا باع مجازفۃ اھ۔” وھو تعالی ورسولہ الا اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کتبــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی

Kutubahu & Verified by:

<h2>ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟</h2> سوال  : ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں سے برابر برابر ادھار یا نقد بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ایک کنٹل گیہوں کو ایک کنٹل گیہوں سے بیچنا جائز نہیں چاہے ادھار بیچے یا نقد ۔ ادھار تو اس لیے ناجائز و حرام ہے کہ دونوں قدر و جنس میں متحد ہیں اور اس صورت میں کمی بیشی اور ادھار دونوں صورتیں حرام ہوتی ہے ۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم صفحہ ١٠٧ میں ہے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>ان وجدالقدروالجنس حرم الفضل والنساء ۔</strong></span> اور نقد اس لئے حرام و ناجائز ہے کہ گیہوں عند عندالشرع وزنی چیز نہیں ہے بلکہ کیلی ہے لہذا اسے پیمانہ ہی سے ناپ کر ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز ہے وزن سے ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز نہیں ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد سوم مصری صفحہ ١٠٧ میں ہے کہ <strong><span style="color: #ff0000;">" لوباع البر بجنسہ متساویا وزنا لم یجز ۔</span></strong> اور ہدایہ جلد ثالث صفحہ ٦٤ میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>" لوباع الحنطۃ بجنسھا متساویا وزنا لا یجوز عندھما (ای الطرفین) وان تعارفوا ذالک لتوھم الفضل علی ما ھوالمعیار فیہ کما اذا باع مجازفۃ اھ۔"</strong></span> وھو تعالی ورسولہ الا اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...