Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1148
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.5K Views
ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟
سوال : ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں سے برابر برابر ادھار یا نقد بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایک کنٹل گیہوں کو ایک کنٹل گیہوں سے بیچنا جائز نہیں چاہے ادھار بیچے یا نقد ۔ ادھار تو اس لیے ناجائز و حرام ہے کہ دونوں قدر و جنس میں متحد ہیں اور اس صورت میں کمی بیشی اور ادھار دونوں صورتیں حرام ہوتی ہے ۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم صفحہ ١٠٧ میں ہے۔ ان وجدالقدروالجنس حرم الفضل والنساء ۔ اور نقد اس لئے حرام و ناجائز ہے کہ گیہوں عند عندالشرع وزنی چیز نہیں ہے بلکہ کیلی ہے لہذا اسے پیمانہ ہی سے ناپ کر ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز ہے وزن سے ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز نہیں ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد سوم مصری صفحہ ١٠٧ میں ہے کہ ” لوباع البر بجنسہ متساویا وزنا لم یجز ۔ اور ہدایہ جلد ثالث صفحہ ٦٤ میں ہے” لوباع الحنطۃ بجنسھا متساویا وزنا لا یجوز عندھما (ای الطرفین) وان تعارفوا ذالک لتوھم الفضل علی ما ھوالمعیار فیہ کما اذا باع مجازفۃ اھ۔” وھو تعالی ورسولہ الا اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کتبــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
Kutubahu & Verified by:
<h2>ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں سے برابر برابر ادھار یا نقد بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ایک کنٹل گیہوں کو ایک کنٹل گیہوں سے بیچنا جائز نہیں چاہے ادھار بیچے یا نقد ۔ ادھار تو اس لیے ناجائز و حرام ہے کہ دونوں قدر و جنس میں متحد ہیں اور اس صورت میں کمی بیشی اور ادھار دونوں صورتیں حرام ہوتی ہے ۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم صفحہ ١٠٧ میں ہے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>ان وجدالقدروالجنس حرم الفضل والنساء ۔</strong></span> اور نقد اس لئے حرام و ناجائز ہے کہ گیہوں عند عندالشرع وزنی چیز نہیں ہے بلکہ کیلی ہے لہذا اسے پیمانہ ہی سے ناپ کر ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز ہے وزن سے ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز نہیں ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد سوم مصری صفحہ ١٠٧ میں ہے کہ <strong><span style="color: #ff0000;">" لوباع البر بجنسہ متساویا وزنا لم یجز ۔</span></strong> اور ہدایہ جلد ثالث صفحہ ٦٤ میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>" لوباع الحنطۃ بجنسھا متساویا وزنا لا یجوز عندھما (ای الطرفین) وان تعارفوا ذالک لتوھم الفضل علی ما ھوالمعیار فیہ کما اذا باع مجازفۃ اھ۔"</strong></span> وھو تعالی ورسولہ الا اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...