Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1805
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.1K Views
بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ سوال۔ ایک مدرسے میں پڑھنے والا طالب علم بالغ ہے پر اس کی داڑھی نہیں جمی ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟ سائل: عادل رضا قادری الجواب بعون الملک الوھاب کرسکتا ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ ہاں اگر وہ خوبصورت محل فتنہ ہو ، تو اس کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تک کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحت امامت نہیں بلوغ درکار ہے ” اھ (فتاوی رضویہ جدید, ج٦, ص٣٨٩, کتاب الصلاۃ, باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور آپ علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا”ھل تجوز الصلاۃ خلف الامرد الذی ھو ابن ستۃ عشر سنۃ(کیا سولہ سالہ امرد کے پیچھے نماز جائز ہوتی ہے)؟“ جواباً تحریر فرمایا:”نعم تجوز ان لم یکن مانع شرعی لانہ بالغ شرعا و ان لم تظھر الاثار، نعم تکرہ ان کان صبیحا محل الفتنۃ کما فی رد المحتار عن الرحمتی(ہاں جائز ہے اگر کوئی مانعِ شرعی نہ ہو کیونکہ شرعا وہ بالغ ہے اگرچہ بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں،ہاں اگر وہ خوبصورت محلِ فتنہ ہو تو مکروہ(تنزیہی)ہو گی جیسا کہ رد المحتار میں علامہ رحمتی کے حوالے سے ہے)۔“ اھ (فتاویٰ رضویہ،ج٦, ص٦١٢, کتاب الصلاۃ باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ:گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h3>بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ سوال۔ ایک مدرسے میں پڑھنے والا طالب علم بالغ ہے پر اس کی داڑھی نہیں جمی ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟ سائل: عادل رضا قادری <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> کرسکتا ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ ہاں اگر وہ خوبصورت محل فتنہ ہو ، تو اس کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تک کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحت امامت نہیں بلوغ درکار ہے " اھ (فتاوی رضویہ جدید, ج٦, ص٣٨٩, کتاب الصلاۃ, باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور آپ علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا”ھل تجوز الصلاۃ خلف الامرد الذی ھو ابن ستۃ عشر سنۃ(کیا سولہ سالہ امرد کے پیچھے نماز جائز ہوتی ہے)؟“ جواباً تحریر فرمایا:”نعم تجوز ان لم یکن مانع شرعی لانہ بالغ شرعا و ان لم تظھر الاثار، نعم تکرہ ان کان صبیحا محل الفتنۃ کما فی رد المحتار عن الرحمتی(ہاں جائز ہے اگر کوئی مانعِ شرعی نہ ہو کیونکہ شرعا وہ بالغ ہے اگرچہ بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں،ہاں اگر وہ خوبصورت محلِ فتنہ ہو تو مکروہ(تنزیہی)ہو گی جیسا کہ رد المحتار میں علامہ رحمتی کے حوالے سے ہے)۔“ اھ (فتاویٰ رضویہ،ج٦, ص٦١٢, کتاب الصلاۃ باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;">کتبہ:گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔</span> <span style="color: #339966;">خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...