Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1274
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5K Views
باپ کی اجازت کے بغیر بالغہ لڑکی کا اپنی مرضی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
باپ کی اجازت کے بغیر بالغہ لڑکی کا اپنی مرضی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
باپ کی اجازت کے بغیر بالغہ لڑکی کا اپنی مرضی سے نکاح
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی بالغہ لڑکی اپنے گھر سے خالد کے ساتھ بھاگ گئی اور پھر خالد نے اپنے ننہال میں ایک عالم سے نکاح پڑھوالیا، اب زید کہتاہے ہیں کہ میری لڑکی پر خالد نے یا خالد کے گھروالوں نے تعویز یا جادو کرواکر یہ کام کیاہے ، جبکہ لڑکی نے نکاح نامہ پر دستخط کی ہے ۔اب زید اپنی لڑکی کا نکاح دوسرے لڑکے سے کردیا، جبکہ خالد نے طلاق نہیں دیا ہے ، ہمبستری بھی کرچکا ہے اور خلوت صحیحہ بھی ہوچکی ہے۔ پھر بھی زید نے نکاح دوسرےسے کروادیا۔ تواب زید کے اور اس عالم پر حکم شرع کیا ہوگا؟ زید کے یہاں لوگ کھانا کھاسکتے ہیں یا نہیں؟ اور زید سے بات چیت سلام و کلام کرسکتے ہیں کہ نہیں؟ اور جولوگ زید کے ساتھ رہتے ہیں ان سے بات چیت سلام وکلام کرسکتے ہیں کہ نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی ۔ المستفتی : جمال احمد قادری ۔ ممبئی الجوابـــــــــــــــــــــــــــ اگر خالد زید کی بھاگی ہوئی بالغہ لڑکی کا کفو ہے اور اس نے لڑکی کی رضامندی سے نکاحِ صحیح کرلیا ہے تو خالد کی موت یا اس کے طلاق دینے سے پہلے زید کا اپنی لڑکی کا کسی کے ساتھ نکاح کرنا صحیح نہیں ہے ۔ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: “وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ۔”(اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں۔سورہ نساء:آیت نمبر ٢۴) اور اگر خالد زید کی لڑکی کا کفو نہ ہو تو باپ کی پیشگی رضامندی کے بغیر یہ نکاح صحیح نہیں ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “بالغہ جو بے رضائے ولی بطور خود اپنا نکاح خفیہ خواہ اعلانیہ کرے، اس کے انعقاد وصحت کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اس کا کفو ہو، یعنی مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا چلن میں عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعثِ ننگ وعار وبدنامی ہو، اگر ایسا ہے تو وہ نکاح نہ ہوگا۔” (فتاوی رضویہ ج ۵ ص١۴٢) خالد کے ساتھ نکاح صحیح ہونے کی صورت میں زید نے جس کے ساتھ دوسرا نکاح کردیا اس پر اور زید کی لڑکی دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علاحدہ ہوجائیں۔اور اس دوسرے نکاح کرنے والے نے اگر نکاح اول کے بارے میں لاعلمی کے باعث وطی کرلی ہو تو لڑکی پر وطی بالشبہہ کی عدت لازم ہے۔ اس عدت کے دوران اس کا شوہر خالد اس سے وطی نہیں کرسکتا۔لیکن اگر اس نے نکاح اول کا علم ہونے کے باوجود وطی کی ہےتو زنا کار اور سخت گنہگار ہوا۔اس صورت میں عدت لازم نہیں ہے۔ خالد اس سے وطی کرسکتا ہے۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع. ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها؛ تجب العدة، وإن كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب حتى لا يحرم على الزوج وطؤها، كذا في فتاوى قاضي خان۔” (فتاوی عالم گیری ) اب اگر زید نے یہ جاننے کے باوجود کہ اس کی بالغہ لڑکی نے نکاح صحیح کرلیا ہے اس کا نکاح دوسرے سے کردیا اور دباو ڈال کر رخصتی کردی تو اس پر توبہ اور اس دوسرے نکاح کے بطلان کا اعلان اور لڑکی کو اس سے علاحدہ کرانے کی پوری کوشش لازم ہے۔ جب تک وہ ایسا نہیں کرتا تو اس ناجائز تعلق کو ختم کرانے کا دباو بنانے کے لیے لوگوں کو اس سے بات چیت سلام وکلام بند کردینا چاہیے۔ یہی حکم زید کے ساتھ رہنے والوں کا بھی ہے، بشرطے کہ وہ اس کے اس فعل کو برا نہ سمجھتے ہوں۔اور دوسرا نکاح پڑھانے والے نے اگر نکاح اول کا علم ہونے کے باوجود نکاح پڑھایا ہو تو سخت گناہ کا کام کیا اور حرامکاری کا دلال بنا اس پر توبہ لازم ہے اور اگر حلال جان کر پڑھا تو تجدید ایمان بھی کرے۔ اور اگر لاعلمی میں پڑھادیا تو معذور ہے جب کہ علانیہ نکاح ہونے کی وجہ سے کسی طرح سے اشتباہ نہ ہوا ہو اور کامل اطمنان رہا ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٧/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٣١/جنوری ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>باپ کی اجازت کے بغیر بالغہ لڑکی کا اپنی مرضی سے نکاح</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی بالغہ لڑکی اپنے گھر سے خالد کے ساتھ بھاگ گئی اور پھر خالد نے اپنے ننہال میں ایک عالم سے نکاح پڑھوالیا، اب زید کہتاہے ہیں کہ میری لڑکی پر خالد نے یا خالد کے گھروالوں نے تعویز یا جادو کرواکر یہ کام کیاہے ، جبکہ لڑکی نے نکاح نامہ پر دستخط کی ہے ۔اب زید اپنی لڑکی کا نکاح دوسرے لڑکے سے کردیا، جبکہ خالد نے طلاق نہیں دیا ہے ، ہمبستری بھی کرچکا ہے اور خلوت صحیحہ بھی ہوچکی ہے۔ پھر بھی زید نے نکاح دوسرےسے کروادیا۔ تواب زید کے اور اس عالم پر حکم شرع کیا ہوگا؟ زید کے یہاں لوگ کھانا کھاسکتے ہیں یا نہیں؟ اور زید سے بات چیت سلام و کلام کرسکتے ہیں کہ نہیں؟ اور جولوگ زید کے ساتھ رہتے ہیں ان سے بات چیت سلام وکلام کرسکتے ہیں کہ نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی ۔ المستفتی : جمال احمد قادری ۔ ممبئی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اگر خالد زید کی بھاگی ہوئی بالغہ لڑکی کا کفو ہے اور اس نے لڑکی کی رضامندی سے نکاحِ صحیح کرلیا ہے تو خالد کی موت یا اس کے طلاق دینے سے پہلے زید کا اپنی لڑکی کا کسی کے ساتھ نکاح کرنا صحیح نہیں ہے ۔ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ۔"</strong></span>(اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں۔سورہ نساء:آیت نمبر ٢۴) اور اگر خالد زید کی لڑکی کا کفو نہ ہو تو باپ کی پیشگی رضامندی کے بغیر یہ نکاح صحیح نہیں ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "بالغہ جو بے رضائے ولی بطور خود اپنا نکاح خفیہ خواہ اعلانیہ کرے، اس کے انعقاد وصحت کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اس کا کفو ہو، یعنی مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا چلن میں عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعثِ ننگ وعار وبدنامی ہو، اگر ایسا ہے تو وہ نکاح نہ ہوگا۔" (فتاوی رضویہ ج ۵ ص١۴٢) خالد کے ساتھ نکاح صحیح ہونے کی صورت میں زید نے جس کے ساتھ دوسرا نکاح کردیا اس پر اور زید کی لڑکی دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علاحدہ ہوجائیں۔اور اس دوسرے نکاح کرنے والے نے اگر نکاح اول کے بارے میں لاعلمی کے باعث وطی کرلی ہو تو لڑکی پر وطی بالشبہہ کی عدت لازم ہے۔ اس عدت کے دوران اس کا شوہر خالد اس سے وطی نہیں کرسکتا۔لیکن اگر اس نے نکاح اول کا علم ہونے کے باوجود وطی کی ہےتو زنا کار اور سخت گنہگار ہوا۔اس صورت میں عدت لازم نہیں ہے۔ خالد اس سے وطی کرسکتا ہے۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع. ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها؛ تجب العدة، وإن كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب حتى لا يحرم على الزوج وطؤها، كذا في فتاوى قاضي خان۔" </strong></span>(فتاوی عالم گیری ) اب اگر زید نے یہ جاننے کے باوجود کہ اس کی بالغہ لڑکی نے نکاح صحیح کرلیا ہے اس کا نکاح دوسرے سے کردیا اور دباو ڈال کر رخصتی کردی تو اس پر توبہ اور اس دوسرے نکاح کے بطلان کا اعلان اور لڑکی کو اس سے علاحدہ کرانے کی پوری کوشش لازم ہے۔ جب تک وہ ایسا نہیں کرتا تو اس ناجائز تعلق کو ختم کرانے کا دباو بنانے کے لیے لوگوں کو اس سے بات چیت سلام وکلام بند کردینا چاہیے۔ یہی حکم زید کے ساتھ رہنے والوں کا بھی ہے، بشرطے کہ وہ اس کے اس فعل کو برا نہ سمجھتے ہوں۔اور دوسرا نکاح پڑھانے والے نے اگر نکاح اول کا علم ہونے کے باوجود نکاح پڑھایا ہو تو سخت گناہ کا کام کیا اور حرامکاری کا دلال بنا اس پر توبہ لازم ہے اور اگر حلال جان کر پڑھا تو تجدید ایمان بھی کرے۔ اور اگر لاعلمی میں پڑھادیا تو معذور ہے جب کہ علانیہ نکاح ہونے کی وجہ سے کسی طرح سے اشتباہ نہ ہوا ہو اور کامل اطمنان رہا ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٧/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٣١/جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...