Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1405
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10K Views
بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنا کیسا ہے؟
سوال:- بد مذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست کی جائز وناجائز صورتوں کا حکم کیا ہے؟ الجواب بعون الملك الوهاب: بد مذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست اگر بربنائے ضرورت،بقدر ضرورت ہو اور الفت ومحبت اور دوستی کے ساتھ نہ ہو اور اس نشست وبرخاست سے بدمذہبوں کی تعظیم وتکریم مقصود نہ ہو، اور نہ ہی اس سے اپنے دین ومذہب کا نقصان ہو اور نہ ہی اپنے دین ومذہب میں کسی طرح کی کمزوری آنے پائے تو ان شرطوں کے ساتھ بدمذہبوں اورمرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست جائز ہے اور اگر مذکورہ شرطیں نہ پائی جائیں تو ان کے ساتھ نشست وبرخاست ناجائز وحرام ہے،ہاں اگر بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست نہ رکھنے کی وجہ سے جبرواکراہ کا صحیح اندیشہ ہو اور یہ شخص مجبور ہوجائے تو بھی اجازت ورخصت ہے- فتاوی رضویہ میں ہے “اور اگر مجلس اور میل جول بربنائے ضرورت بقدر ضرورت بغیر دوستی اور انس ومحبت کے بلا تعظیم وتکریم اور بغیر دینی نقصان یا کمزوری کے ہو تو اس کی اجازت اور رخصت ہے،بصورت دیگر میل جول اور مجلس بھی حرام ہے ہاں اگر کوئی فریق مخالف کے جبر واکراہ کے باعث مجبور ہوجائے تو وہ مستثنی ہے”(ج ۲۱ ص ۱۲۵ تا ۱۲۶/مترجم) اور فتاوی مصطفویہ میں ہے “مسلمان ایسوں سے قطع تعلق اور ان کا حقہ پانی بند کر سکتے ہیں-اگر ان کی شرارتوں سے فتنہ کا خوف کرتے ہیں تو معذور ہیں جب وقت حاجت یہاں تک رخصت دی گئی ہے تو ایسے لوگ جو مرتدین سے میل جول ہی رکھتے ہوں ان کے فتنہ کے اندیشہ سے بھی رخصت بدرجہ اولی ہوگی،ملتقطا”(ص ۴۷۷)والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدارالعلوم العلیمیہ الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی
Kutubahu & Verified by:
<h2>بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنا کیسا ہے؟</h2> سوال:- بد مذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست کی جائز وناجائز صورتوں کا حکم کیا ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب:</strong></span> بد مذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست اگر بربنائے ضرورت،بقدر ضرورت ہو اور الفت ومحبت اور دوستی کے ساتھ نہ ہو اور اس نشست وبرخاست سے بدمذہبوں کی تعظیم وتکریم مقصود نہ ہو، اور نہ ہی اس سے اپنے دین ومذہب کا نقصان ہو اور نہ ہی اپنے دین ومذہب میں کسی طرح کی کمزوری آنے پائے تو ان شرطوں کے ساتھ بدمذہبوں اورمرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست جائز ہے اور اگر مذکورہ شرطیں نہ پائی جائیں تو ان کے ساتھ نشست وبرخاست ناجائز وحرام ہے،ہاں اگر بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست نہ رکھنے کی وجہ سے جبرواکراہ کا صحیح اندیشہ ہو اور یہ شخص مجبور ہوجائے تو بھی اجازت ورخصت ہے- فتاوی رضویہ میں ہے "اور اگر مجلس اور میل جول بربنائے ضرورت بقدر ضرورت بغیر دوستی اور انس ومحبت کے بلا تعظیم وتکریم اور بغیر دینی نقصان یا کمزوری کے ہو تو اس کی اجازت اور رخصت ہے،بصورت دیگر میل جول اور مجلس بھی حرام ہے ہاں اگر کوئی فریق مخالف کے جبر واکراہ کے باعث مجبور ہوجائے تو وہ مستثنی ہے"(ج ۲۱ ص ۱۲۵ تا ۱۲۶/مترجم) اور فتاوی مصطفویہ میں ہے "مسلمان ایسوں سے قطع تعلق اور ان کا حقہ پانی بند کر سکتے ہیں-اگر ان کی شرارتوں سے فتنہ کا خوف کرتے ہیں تو معذور ہیں جب وقت حاجت یہاں تک رخصت دی گئی ہے تو ایسے لوگ جو مرتدین سے میل جول ہی رکھتے ہوں ان کے فتنہ کے اندیشہ سے بھی رخصت بدرجہ اولی ہوگی،ملتقطا"(ص ۴۷۷)والله تعالى أعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدارالعلوم العلیمیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...