Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1660
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.7K Views
بد مذھبوں کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ دیگر برتاو منع ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بد مذھبوں کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ دیگر برتاو منع ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بد مذھبوں کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ دیگر برتاو منع ہے
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین و اساتذتنا الکریم مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میں سعودی میں ایک فارمیسی کمپنی میں کام کرتا ہوں جس میں اہل حدیث کی اکثریت ہے جس کی وجہ سے مجھے مجبورا ان کے ساتھ کھانے،پینے،اٹھنے،بیٹھنے کا معاملہ کرنا پڑتا ہے ۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ اور معاملہ رکھنا عند الشرع کیسا ہے جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ نوٹ: مجھے یقین کامل ہے کہ وہ اپنی باتوں میں مجھے پھنسا سکتے ہیں نہ گمراہ کر سکتے ہیں کیونکہ میں جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہوں وہ سب جاہل ہے اور معاملہ یہ ہے کہ ہمارا باپ اہل حدیث لہذا میں بھی اہل حدیث۔ بینوا و توجروا المستفتی: من نیپال الجواب شریعتِ طاہرہ نے بد مذہبوں کے ساتھ دوستانہ برتاو سے منع فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ ہر شرعی حکم میں مصلحتیں اور حکمتیں ہوتی ہیں، لیکن وہ مصلحتیں اور حکمتیں مدارِ حکم نہیں ہوتی ہیں، یعنی ایسا نہیں کہ حکم اسی وقت ہوگا جب اس کی حکمتیں اور مصلحتیں پائی جائیں اور اگر حکمتیں نہ پائی جائیں تو حکم باقی نہ رہے۔اس لیے بد مذہبوں کے ساتھ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے کی ممانعت کی حکمت اگرچہ یہ ارشاد ہوئی ہے کہ کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں( لا یضلونکم ولا یفتنونکم)لیکن یہ مدار حکم نہیں۔اس لیے اگر کسی کو اپنے ساتھ کام کرنے والے بد مذہبوں کی سادہ لوحی اور کم علمی کے باعث ان کے ساتھ مجالست مواکلت وغیرہ میں گمراہ ہونے کا خدشہ نہ بھی ہو، تو اس وجہ سے اس کے لیے الگ حکم نہ ہوگا۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: حقیقت امر یہ ہے کہ ہر چند احکامِ شرعیہ عموماً حِکٙم و مصالح سے ناشی ہوتے ہیں اور مشروعیتِ خطبہ کی حکمت یہی تذکیر وتذکر ہے مگر حکمت نہیں ہوتی کہ اُس کے فقدان سے فساد و بطلان لازم آئے۔ مثلا شرع نکاح کی حکمت تکثیر امت اور نفس کی عفت کہ مردِ عنین وزنِ رتقا وقرنا میں دونوں اور بحالت عقم اول منتفی، مگر پھر بھی صحتِ نکاح میں شبہہ نہیں ۔ صوم کی حکمت کسرِ شہوت اور نفس کی ریاضت، پھر اگر کسی شخص کے مزاج پر رطوبت غالب اور اس کی وجہ سے شہوتین میں ضعف ہو کہ روزہ اُسے نافع و موجب قوت پڑے تو کیا اُسے روزے کا حکم نہ دیں گے یا اُس کے صوم کا فاسد مانیں گے وقس علی ھذا۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٧٦) پھر اللہ ورسول (جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) جس کو خطرہ بتائیں اس سے احتراز ہی متعین ہے۔دیکھیے بد مذہبوں کی روایاتِ احادیث از راہِ احتیاط محتاط محدثین مطلقا قبول نہیں کرتے، حالاں کہ ان محدثین عظام کی دقت بیں نظروں سے ان کے کسی فریب کا اوجھل رہ جانا بہت مشکل ہے۔لیکن احتیاط کا تقاضا عدم قبول ہی ہے۔شارح بخاری حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: “مبتدع: بدعتی کی روایت کے مقبول ومردود ہونے میں تفصیل ہے، اگر اس کی بد مذہبی حد کفر تک پہونچی ہو تو بالاتفاق مردود۔ اور اگر کفر تک نہیں پہونچی ہے تو اگر اس کی یہ روایت بدعت کی طرف داعی یا اس کی مروِّج یا مویّد ہے تو قطعاً مردود۔ اور اگر ایسی نہیں تو بھی محتاطین کا یہی طریقہ ہے کہ مبتدعین کی حدیث قبول نہیں کرتے۔کبھی کبھی اس غامض طریقے سے بد مذہبی داخل کردیتے ہیں کہ اس کی تہ تک پہونچنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔” (نزھة القاری ج١ص٣٦) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ ٢۵/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ//٢٩/مارچ ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>بد مذھبوں کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ دیگر برتاو منع ہے</h2> السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین و اساتذتنا الکریم مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میں سعودی میں ایک فارمیسی کمپنی میں کام کرتا ہوں جس میں اہل حدیث کی اکثریت ہے جس کی وجہ سے مجھے مجبورا ان کے ساتھ کھانے،پینے،اٹھنے،بیٹھنے کا معاملہ کرنا پڑتا ہے ۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ اور معاملہ رکھنا عند الشرع کیسا ہے جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ نوٹ: مجھے یقین کامل ہے کہ وہ اپنی باتوں میں مجھے پھنسا سکتے ہیں نہ گمراہ کر سکتے ہیں کیونکہ میں جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہوں وہ سب جاہل ہے اور معاملہ یہ ہے کہ ہمارا باپ اہل حدیث لہذا میں بھی اہل حدیث۔ بینوا و توجروا المستفتی: من نیپال <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span> شریعتِ طاہرہ نے بد مذہبوں کے ساتھ دوستانہ برتاو سے منع فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ ہر شرعی حکم میں مصلحتیں اور حکمتیں ہوتی ہیں، لیکن وہ مصلحتیں اور حکمتیں مدارِ حکم نہیں ہوتی ہیں، یعنی ایسا نہیں کہ حکم اسی وقت ہوگا جب اس کی حکمتیں اور مصلحتیں پائی جائیں اور اگر حکمتیں نہ پائی جائیں تو حکم باقی نہ رہے۔اس لیے بد مذہبوں کے ساتھ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے کی ممانعت کی حکمت اگرچہ یہ ارشاد ہوئی ہے کہ کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں( لا یضلونکم ولا یفتنونکم)لیکن یہ مدار حکم نہیں۔اس لیے اگر کسی کو اپنے ساتھ کام کرنے والے بد مذہبوں کی سادہ لوحی اور کم علمی کے باعث ان کے ساتھ مجالست مواکلت وغیرہ میں گمراہ ہونے کا خدشہ نہ بھی ہو، تو اس وجہ سے اس کے لیے الگ حکم نہ ہوگا۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: حقیقت امر یہ ہے کہ ہر چند احکامِ شرعیہ عموماً حِکٙم و مصالح سے ناشی ہوتے ہیں اور مشروعیتِ خطبہ کی حکمت یہی تذکیر وتذکر ہے مگر حکمت نہیں ہوتی کہ اُس کے فقدان سے فساد و بطلان لازم آئے۔ مثلا شرع نکاح کی حکمت تکثیر امت اور نفس کی عفت کہ مردِ عنین وزنِ رتقا وقرنا میں دونوں اور بحالت عقم اول منتفی، مگر پھر بھی صحتِ نکاح میں شبہہ نہیں ۔ صوم کی حکمت کسرِ شہوت اور نفس کی ریاضت، پھر اگر کسی شخص کے مزاج پر رطوبت غالب اور اس کی وجہ سے شہوتین میں ضعف ہو کہ روزہ اُسے نافع و موجب قوت پڑے تو کیا اُسے روزے کا حکم نہ دیں گے یا اُس کے صوم کا فاسد مانیں گے وقس علی ھذا۔" (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٧٦) پھر اللہ ورسول (جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) جس کو خطرہ بتائیں اس سے احتراز ہی متعین ہے۔دیکھیے بد مذہبوں کی روایاتِ احادیث از راہِ احتیاط محتاط محدثین مطلقا قبول نہیں کرتے، حالاں کہ ان محدثین عظام کی دقت بیں نظروں سے ان کے کسی فریب کا اوجھل رہ جانا بہت مشکل ہے۔لیکن احتیاط کا تقاضا عدم قبول ہی ہے۔شارح بخاری حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: "مبتدع: بدعتی کی روایت کے مقبول ومردود ہونے میں تفصیل ہے، اگر اس کی بد مذہبی حد کفر تک پہونچی ہو تو بالاتفاق مردود۔ اور اگر کفر تک نہیں پہونچی ہے تو اگر اس کی یہ روایت بدعت کی طرف داعی یا اس کی مروِّج یا مویّد ہے تو قطعاً مردود۔ اور اگر ایسی نہیں تو بھی محتاطین کا یہی طریقہ ہے کہ مبتدعین کی حدیث قبول نہیں کرتے۔کبھی کبھی اس غامض طریقے سے بد مذہبی داخل کردیتے ہیں کہ اس کی تہ تک پہونچنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔" (نزھة القاری ج١ص٣٦) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢۵/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ//٢٩/مارچ ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...