Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #433 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8K Views

بد مذہب کے ایصال ثواب کا حکم ازکمال احمد علیمی نظامی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بد مذہب کے ایصال ثواب کا حکم ازکمال احمد علیمی نظامی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بد مذہب کے ایصال ثواب کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

حضرت ایک سوال عرض ہے وہ یہ کہ باپ سنی صحیح العقیدہ تھا لیکن بچے دیوبندی ہیں اب سنی باپ کا انتقال ہوگیا اور دیوبندی بچے ان کا تیجہ کرنا چاہتے ہیں تو کیا دیوبندی بچوں کی طرف سے ان کا ایصال ثواب کرنا کیسا ہے ؟

معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بالفور جواب عنایت فرمادیں

وائس ریکارڈ ،کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو

فقط والسلام

الجواب بعون الملک الوھاب

دیوبندی اپنے کفریہ عقائد کی وجہ سے باجماع علماے عرب وعجم کافر ومرتد ہیں، اور کافر مرتد کا کوئی عمل بارگاہ الہی میں مقبول نہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :

أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلاَ نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًاO

(الکهف : 18 : 105)

دوسری جگہ ارشاد ہے :

ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام:88)

اس آیت کے تحت تفسیر طبری میں ہے :

“لبطل فذهب عنهم أجر أعمالهم التي كانوا يعملون ، لأن الله لا يقبل مع الشرك به عملا (تفسير الطبري)”

تیسری جگہ ہے :

وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَھو فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِینَ (سورة آل عمران، رقم الآیة: ۸۵)

چوتھی جگہ ہے :” و من يرتدد منكم عن دينه فيمت و هو كافر فاؤلئك حبطت اعمالهم في الدنيا والآخرة و أولئک أصحاب النار هم فيها خالدون “(البقرة: 217)

حدیث شریف میں ہے :

عن عائشة قالت: قلت یا رسول اللہ ابن جدعان کان فی الجاہلیة یصل الرحم ویطعم المساکین فہل ذلک نافعہ؟ قال لا ینفعہ إنہ لم یقل یوما رب اغفر خطیئتي یوم الدین․(مسلم کتاب الایمان ص ١١٥)

امام نووی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :

لکونہ کافرا وھو معنیٰ قولہ ﷺ لم یقل رب اغفر لی خطیئتی یوم الدین۔۔۔۔۔ وقال القاضی عیاض وقد انعقد الاجماع علی ان الکفار لاتنفعھم اعمالھم ولایثابون علیھا بنعیم ولا تخفیف عذاب لکن بعضھم اشد عذابا من بعض بحسب جراائمھم(شرح نووی علی مسلم ص ١١٥)

مذکورہ آیات وحدیث سے ثابت ہوا کہ کافر ومرتد کا کوئی عمل بارگاہ الہی میں مقبول نہیں لہذا اگر دیوبندی بچے اپنے والدین کا تیجہ کرتے ہیں تو اس سے والدین کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا،اگر وہ کررہے ہیں تو کرنے دیں،ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں، ہاں اس تیجے میں شرکت ناجائز ہے، حدیث شریف میں ہے :

عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ اختارنی واختارلی اصحابی و اصھاری وسیاتی قوم یسبونھم وینقصونھم فلا تجالسو ھم ولا تشار بوھم ولا تواکلوھم ولاتنا کحوھم۔ (کنزالعمال ص ۱۳۳، ج ۲ حدیث نمبر ۲۰۸۵)

ظاہر ہے جب گستاخ صحابہ کے ساتھ نشست وبرخاست منع ہے تو سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والے سے راہ ورسم رکھنا بدرجہ اولی ناجائز ہوگا.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ : مفتی کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

١٦ ربیع النور ١٤٤٣ / ٢٤ اکتوبر ٢٠٢١

الجواب صحیح : مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">بد مذہب کے ایصال ثواب کا حکم</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ</p> <p style="direction: rtl;">حضرت ایک سوال عرض ہے وہ یہ کہ باپ سنی صحیح العقیدہ تھا لیکن بچے دیوبندی ہیں اب سنی باپ کا انتقال ہوگیا اور دیوبندی بچے ان کا تیجہ کرنا چاہتے ہیں تو کیا دیوبندی بچوں کی طرف سے ان کا ایصال ثواب کرنا کیسا ہے ؟</p> <p style="direction: rtl;">معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بالفور جواب عنایت فرمادیں</p> <p style="direction: rtl;">وائس ریکارڈ ،کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو</p> <p style="direction: rtl;">فقط والسلام</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">دیوبندی اپنے کفریہ عقائد کی وجہ سے باجماع علماے عرب وعجم کافر ومرتد ہیں، اور کافر مرتد کا کوئی عمل بارگاہ الہی میں مقبول نہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :</p> <p style="direction: rtl;">أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلاَ نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًاO</p> <p style="direction: rtl;">(الکهف : 18 : 105)</p> <p style="direction: rtl;">دوسری جگہ ارشاد ہے :</p> <p style="direction: rtl;">ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام:88)</p> <p style="direction: rtl;">اس آیت کے تحت تفسیر طبری میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">"لبطل فذهب عنهم أجر أعمالهم التي كانوا يعملون ، لأن الله لا يقبل مع الشرك به عملا (تفسير الطبري)"</p> <p style="direction: rtl;">تیسری جگہ ہے :</p> <p style="direction: rtl;">وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَھو فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِینَ (سورة آل عمران، رقم الآیة: ۸۵)</p> <p style="direction: rtl;">چوتھی جگہ ہے :" و من يرتدد منكم عن دينه فيمت و هو كافر فاؤلئك حبطت اعمالهم في الدنيا والآخرة و أولئک أصحاب النار هم فيها خالدون "(البقرة: 217)</p> <p style="direction: rtl;">حدیث شریف میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">عن عائشة قالت: قلت یا رسول اللہ ابن جدعان کان فی الجاہلیة یصل الرحم ویطعم المساکین فہل ذلک نافعہ؟ قال لا ینفعہ إنہ لم یقل یوما رب اغفر خطیئتي یوم الدین․(مسلم کتاب الایمان ص ١١٥)</p> <p style="direction: rtl;">امام نووی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">لکونہ کافرا وھو معنیٰ قولہ ﷺ لم یقل رب اغفر لی خطیئتی یوم الدین۔۔۔۔۔ وقال القاضی عیاض وقد انعقد الاجماع علی ان الکفار لاتنفعھم اعمالھم ولایثابون علیھا بنعیم ولا تخفیف عذاب لکن بعضھم اشد عذابا من بعض بحسب جراائمھم(شرح نووی علی مسلم ص ١١٥)</p> <p style="direction: rtl;">مذکورہ آیات وحدیث سے ثابت ہوا کہ <strong>کافر ومرتد کا کوئی عمل بارگاہ الہی میں مقبول نہیں لہذا اگر دیوبندی بچے اپنے والدین کا تیجہ کرتے ہیں تو اس سے والدین کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا</strong>،اگر وہ کررہے ہیں تو کرنے دیں،ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں، ہاں اس تیجے میں شرکت ناجائز ہے، حدیث شریف میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ اختارنی واختارلی اصحابی و اصھاری وسیاتی قوم یسبونھم وینقصونھم فلا تجالسو ھم ولا تشار بوھم ولا تواکلوھم ولاتنا کحوھم۔ (کنزالعمال ص ۱۳۳، ج ۲ حدیث نمبر ۲۰۸۵)</p> <p style="direction: rtl;">ظاہر ہے جب گستاخ صحابہ کے ساتھ نشست وبرخاست منع ہے تو سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والے سے راہ ورسم رکھنا بدرجہ اولی ناجائز ہوگا.</p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم بالصواب</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>١٦ ربیع النور ١٤٤٣ / ٢٤ اکتوبر ٢٠٢١</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>الجواب صحیح : مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...