Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1978 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.1K Views

بعد طلاق عدت کا خرچہ، جہیز ،بچوں کی پرورش کا خرچہ کتنا؟ کون دے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بعد طلاق عدت کا خرچہ، جہیز ،بچوں کی پرورش کا خرچہ کتنا؟ کون دے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بعد طلاق عدت کا خرچہ، جہیز ،بچوں کی پرورش کا خرچہ کتنا؟ کون دے؟

سوال : مسٸلہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق واقع ہو جاے تو *بعد طلاق مرد کو عورت کو کیا کیا دینا ہوگا؟ جیسے عدت کا خرچ کس حساب سے اور جہیز وغیرہ کے سامان اور جو کچھ چیز لڑکی والوں کی طرف سے دی جاتی ھے پھر یہ چیزیں استعمال بھی ھو جاتی ہیں. تو کس حالت میں دینا ہونگی یا کس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ اور اگر ان کو بچہ بچی ہو تو کس کو دیئے جاٸیں گے کون ان کی پرورش کرے گا تھوڑا مفصل جواب عطا فرمایٸں؟ سائل : محمد سعید نوری جلگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب اگر دونوں یعنی میاں بیوی مالدار ہوں تو مالداروں کا سا نفقہ، اگر دونوں غریب ہوں تو غریبوں کا سا نفقہ اور اگر شوہر مالدار اور بیوی غریب ہو تو متوسط درجہ کا نفقہ واجب ہے۔ رد المحتار میں ہے: قَالَ فِي الْبَحْرِ: وَاتَّفَقُوا عَلَى وُجُوبِ نَفَقَةِ الْمُوسِرِينَ إذَا كَانَا مُوسِرَيْنِ، وَعَلَى نَفَقَةِ الْمُعْسِرِينَ إذَا كَانَا مُعْسِرَيْنِ،وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ فِيمَا إذَا كَانَ أَحَدُهُمَا مُوسِرًا وَالْآخَرُ مُعْسِرًا، فَعَلَى ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ الِاعْتِبَارُ لِحَالِ الرَّجُلِ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا وَهِيَ مُعْسِرَةٌ فَعَلَيْهِ نَفَقَةُ الْمُوسِرِينَ، وَفِي عَكْسِهِ نَفَقَةُ الْمُعْسِرِينَ. وَأَمَّا عَلَى الْمُفْتَى بِهِ فَتَجِبُ نَفَقَةُ الْوَسَطِ فِي الْمَسْأَلَتَيْنِ وَهُوَ فَوْقَ نَفَقَةِ الْمُعْسِرَةِ وَدُونَ نَفَقَةِ الْمُوسِرَةِ۔( رد المحتار، ج: ۵، ص: ۲۸۷، باب النفقہ/ مطلب: لا تجب علی الاب نفقة الخ) اسی کے حوالے سے بہار شریعت میں ہے: اگر مرد و عورت دونوں  مالدار ہوں  تو نفقہ مالداروں  کاسا ہوگا اور دونوں  محتاج ہوں  تو محتاجوں  کا سا اورایک مالدار ہے، دوسرا محتاج تو متوسط درجہ کا یعنی محتاج جیسا کھاتے ہوں  اُس سے عمدہ اور اغنیا جیسا کھاتے ہوں  اُس سے کم اور شوہر مالدار ہواور عورت محتاج تو بہتر یہ ہے کہ جیسا آپ کھاتا ہو عورت کو بھی کھلائے، مگر یہ واجب نہیں  واجب متوسط ہے۔ ( بہار شریعت، ج: ۲، ص: ۲۶۷، نفقہ کا بیان)  جہیز کی مالک عورت ہوتی ہے اگر وہ چاہے تو بعد طلاق سب اپنے ساتھ لے جائے اور چاہے تو چھوڑ دے، اگر عورت لے جانا چاہے تو کسی کو روکنے کا اختیار نہ ہوگا۔ رد المحتار میں ہے: کُل احد یعلم ان الجھاز ملک المرأۃ لاحق لاحدٍ فیہ۔ ( ردالمحتار، ج: ۲، ص: ۳۶۸ و ۶۵۳، باب المھر)  یعنی ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔  فتاویٰ رضویہ میں ہے: شک نہیں کہ اب عامہ بلاد وعجم کاعرف غالب وظاہر ومشتہر مطلقاً یہی ہے کہ جہیز جو دلہن کو دیاجاتا ہے دلہن ہی کی ملک سمجھا جاتا ہے بلکہ جہیز کہتے ہی اُسے ہیں جو اُس وقت بطور تملیک دلہن کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔  ( فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۲، ص: ۳۹) جس عورت کے لیے حقِ پرورش ہے اُس کے پاس لڑکے کو اُس وقت تک رہنے دیں  کہ اب اسے اُس کی  حاجت نہ رہے یعنی اپنے آپ کھاتا پیتا، پہنتا، استنجا کرلیتا ہو، اس کی  مقدار سات برس کی  عمر ہے اور اگر عمر میں  اختلاف ہو تو اگر یہ سب کام خود کرلیتا ہو تو اُس کے پاس سے علیحدہ کرلیا جائے ورنہ نہیں اور اگر باپ لینے سے انکار کرے تو جبراً اُس کے حوالے کیا جائے… اور لڑکی اُس وقت تک عورت کی  پرورش میں  رہے گی کہ حدِ شہوت کو پہنچ جائے اس کی  مقدار نو برس کی  عمر ہے اور اگر اس عمر سے کم میں  لڑکی  کا نکاح کر دیا گیا جب بھی اُسی کی  پرورش میں  رہے گی جس کی  پرورش میں  ہے نکاح کردینے سے حقِ پرورش باطل نہ ہوگا، جب تک مرد کے قابل نہ ہو۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: والام و الجدة احق بالغلام حتی یستغنی و قدر بسبع سنین و قال القدوری حتی یأکل وحدہ و یشرب وحدہ و یستنجی وحدہ… والام و الجدة احق بالجاریة حتی تحیض و فی نوادر ھشام عن محمدرحمہ اللہ اذا بلغت حد الشھوة فالاب احق و ھذا صحیح۔ ( فتاویٰ ہندیہ، ج: ۱، ص: ۵۴۲، الباب السادس عشر فی الحضانة)  یہ بھی یاد رکھیں. بچے کی پرورش شرعی نقطہٴ نظر سے سات سال کی عمر ہونے تک بچہ کی ماں کرے گی اور پرورش کرنے میں کھانے پینے، لباس، دوا علاج، تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات باپ کے ذمہ واجب ہیں، یہ اخراجات 4دین دار باشرع و راست گو، آدمی بیٹھ کر جس قدر طے کردیں وہ دینا ہوگا۔ ماں کو بھی عدت کا نان ونفقہ اور پورا مہر ادا کرنے کے بعد اس کی پرورش کرنے کا خرچ جو کچھ بھی پنچ طے کردیں وہ دینا ہوگا.. وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ:مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h1><span style="font-size: 14pt;">بعد طلاق عدت کا خرچہ، جہیز ،بچوں کی پرورش کا خرچہ کتنا؟ کون دے؟</span></h1> <span style="font-size: 14pt;">سوال : مسٸلہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق واقع ہو جاے تو *بعد طلاق مرد کو عورت کو کیا کیا دینا ہوگا؟ جیسے عدت کا خرچ کس حساب سے اور جہیز وغیرہ کے سامان اور جو کچھ چیز لڑکی والوں کی طرف سے دی جاتی ھے پھر یہ چیزیں استعمال بھی ھو جاتی ہیں. تو کس حالت میں دینا ہونگی یا کس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ اور اگر ان کو بچہ بچی ہو تو کس کو دیئے جاٸیں گے کون ان کی پرورش کرے گا تھوڑا مفصل جواب عطا فرمایٸں؟</span> <span style="font-size: 14pt;">سائل : محمد سعید نوری جلگاؤں</span> <span style="font-size: 14pt;">الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</span> <span style="font-size: 14pt;">اگر دونوں یعنی میاں بیوی مالدار ہوں تو مالداروں کا سا نفقہ، اگر دونوں غریب ہوں تو غریبوں کا سا نفقہ اور اگر شوہر مالدار اور بیوی غریب ہو تو متوسط درجہ کا نفقہ واجب ہے۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">رد المحتار میں ہے:</span> <span style="font-size: 14pt;">قَالَ فِي الْبَحْرِ: وَاتَّفَقُوا عَلَى وُجُوبِ نَفَقَةِ الْمُوسِرِينَ إذَا كَانَا مُوسِرَيْنِ، وَعَلَى نَفَقَةِ الْمُعْسِرِينَ إذَا كَانَا مُعْسِرَيْنِ،وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ فِيمَا إذَا كَانَ أَحَدُهُمَا مُوسِرًا وَالْآخَرُ مُعْسِرًا، فَعَلَى ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ الِاعْتِبَارُ لِحَالِ الرَّجُلِ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا وَهِيَ مُعْسِرَةٌ فَعَلَيْهِ نَفَقَةُ الْمُوسِرِينَ، وَفِي عَكْسِهِ نَفَقَةُ الْمُعْسِرِينَ. وَأَمَّا عَلَى الْمُفْتَى بِهِ فَتَجِبُ نَفَقَةُ الْوَسَطِ فِي الْمَسْأَلَتَيْنِ وَهُوَ فَوْقَ نَفَقَةِ الْمُعْسِرَةِ وَدُونَ نَفَقَةِ الْمُوسِرَةِ۔( رد المحتار، ج: ۵، ص: ۲۸۷، باب النفقہ/ مطلب: لا تجب علی الاب نفقة الخ)</span> <span style="font-size: 14pt;">اسی کے حوالے سے بہار شریعت میں ہے:</span> <span style="font-size: 14pt;">اگر مرد و عورت دونوں  مالدار ہوں  تو نفقہ مالداروں  کاسا ہوگا اور دونوں  محتاج ہوں  تو محتاجوں  کا سا اورایک مالدار ہے، دوسرا محتاج تو متوسط درجہ کا یعنی محتاج جیسا کھاتے ہوں  اُس سے عمدہ اور اغنیا جیسا کھاتے ہوں  اُس سے کم اور شوہر مالدار ہواور عورت محتاج تو بہتر یہ ہے کہ جیسا آپ کھاتا ہو عورت کو بھی کھلائے، مگر یہ واجب نہیں  واجب متوسط ہے۔</span> <span style="font-size: 14pt;">( بہار شریعت، ج: ۲، ص: ۲۶۷، نفقہ کا بیان) </span> <span style="font-size: 14pt;">جہیز کی مالک عورت ہوتی ہے اگر وہ چاہے تو بعد طلاق سب اپنے ساتھ لے جائے اور چاہے تو چھوڑ دے، اگر عورت لے جانا چاہے تو کسی کو روکنے کا اختیار نہ ہوگا۔ رد المحتار میں ہے:</span> <span style="font-size: 14pt;">کُل احد یعلم ان الجھاز ملک المرأۃ لاحق لاحدٍ فیہ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">( ردالمحتار، ج: ۲، ص: ۳۶۸ و ۶۵۳، باب المھر) </span> <span style="font-size: 14pt;">یعنی ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔</span> <span style="font-size: 14pt;"> فتاویٰ رضویہ میں ہے:</span> <span style="font-size: 14pt;">شک نہیں کہ اب عامہ بلاد وعجم کاعرف غالب وظاہر ومشتہر مطلقاً یہی ہے کہ جہیز جو دلہن کو دیاجاتا ہے دلہن ہی کی ملک سمجھا جاتا ہے بلکہ جہیز کہتے ہی اُسے ہیں جو اُس وقت بطور تملیک دلہن کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔</span> <span style="font-size: 14pt;"> ( فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۲، ص: ۳۹)</span> <span style="font-size: 14pt;">جس عورت کے لیے حقِ پرورش ہے اُس کے پاس لڑکے کو اُس وقت تک رہنے دیں  کہ اب اسے اُس کی  حاجت نہ رہے یعنی اپنے آپ کھاتا پیتا، پہنتا، استنجا کرلیتا ہو، اس کی  مقدار سات برس کی  عمر ہے اور اگر عمر میں  اختلاف ہو تو اگر یہ سب کام خود کرلیتا ہو تو اُس کے پاس سے علیحدہ کرلیا جائے ورنہ نہیں اور اگر باپ لینے سے انکار کرے تو جبراً اُس کے حوالے کیا جائے... اور لڑکی اُس وقت تک عورت کی  پرورش میں  رہے گی کہ حدِ شہوت کو پہنچ جائے اس کی  مقدار نو برس کی  عمر ہے اور اگر اس عمر سے کم میں  لڑکی  کا نکاح کر دیا گیا جب بھی اُسی کی  پرورش میں  رہے گی جس کی  پرورش میں  ہے نکاح کردینے سے حقِ پرورش باطل نہ ہوگا، جب تک مرد کے قابل نہ ہو۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:</span> <span style="font-size: 14pt;">والام و الجدة احق بالغلام حتی یستغنی و قدر بسبع سنین و قال القدوری حتی یأکل وحدہ و یشرب وحدہ و یستنجی وحدہ... والام و الجدة احق بالجاریة حتی تحیض و فی نوادر ھشام عن محمدرحمہ اللہ اذا بلغت حد الشھوة فالاب احق و ھذا صحیح۔ ( فتاویٰ ہندیہ، ج: ۱، ص: ۵۴۲، الباب السادس عشر فی الحضانة)</span> <span style="font-size: 14pt;"> یہ بھی یاد رکھیں.</span> <span style="font-size: 14pt;">بچے کی پرورش شرعی نقطہٴ نظر سے سات سال کی عمر ہونے تک بچہ کی ماں کرے گی اور پرورش کرنے میں کھانے پینے، لباس، دوا علاج، تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات باپ کے ذمہ واجب ہیں، یہ اخراجات 4دین دار باشرع و راست گو، آدمی بیٹھ کر جس قدر طے کردیں وہ دینا ہوگا۔ ماں کو بھی عدت کا نان ونفقہ اور پورا مہر ادا کرنے کے بعد اس کی پرورش کرنے کا خرچ جو کچھ بھی پنچ طے کردیں وہ دینا ہوگا..</span> <span style="font-size: 14pt;">وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم</span> <strong><span style="font-size: 14pt;">کتبہ:مفتی محمدرضا مرکزی</span></strong> <strong><span style="font-size: 14pt;">خادم التدریس والافتا</span></strong> <strong><span style="font-size: 14pt;">الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</span></strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...