Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1515
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.2K Views
بغیر داڑھی والا نماز نہیں پڑھا سکتا ؟ از مفتی صدام حسین فیضی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بغیر داڑھی والا نماز نہیں پڑھا سکتا ؟ از مفتی صدام حسین فیضی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بغیر داڑھی والا نماز نہیں پڑھا سکتا ؟
سوال : حضرت کیا بغیر داڑھی والا شخص نماز پڑھا سکتا ہے برائے کرم حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں . المستفتی تنویر عالم قادری لکھنؤ یوپی انڈیا ۔ الجواب بعون الملک الوھاب نہیں کہ داڑھی نہ رکھنے والا شخص فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے اس کے پیچھے پڑھی ہوئی نمازیں مکروہ تحریمی ہیں ان کو پھیرنا واجب ہے ۔ غنیة میں ہے ” لوقدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان كراهة تقديمه كراهة تحريم اھ ” (ص:513 ، فصل في الامامۃ) یعنی لوگ فاسق کو امام بنائیں تو گناہ گار ہوں گے اس لئے کہ اس امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۔ شرح عقائد صفحہ 160 پر ہے :”لا کلام فی کراھة الصلاة خلف الفاسق والمبتدع إذا لم يود الفسق او البدعة الي حد الكفر أما إذا ادي اليه فلا كلام في عدم جواز الصلاة خلفه “اھ ۔ یعنی فاسق اور بدعتی کے پیچھے ونماز کے مکروہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ فسق و بدعت حد کفر کو نہ پہنچے ہوں اور فسق و بدعت حد کفر کو پہنچ گئے ہوں تو ان کے پیچھے نماز کے نہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ۔ اسی میں ہے : “لو قدموا فاسقا ياثمون “اھ. ( شرح العقائد ، صفحہ 479 ) یعنی لوگ فاسق کو امام بنائیں تو گناہ گار ہوں گے ۔ درمختارمع ردالمحتارمیں ہے ” کل صلاۃ أدیت مع كراهة التحريمة تجب اعادتھا اھ ” اھ(ج :2 ص: 147/148 ، کتاب الصلاة ، باب صفۃ الصلاۃ) یعنی ہر وہ نماز جو کراہت تحریمہ کے ساتھ ادا کی گئی اس کا دہرا نا واجب ہے ۔ اعلي حضرت رضي الله تعالي عنه تحریر فرماتے ہیں: “فاسق کے پیچھے نماز ناقص ومکروہ اگر پڑھ لی تو پھیری جائے اگرچہ مدت گزرچکی ہو و لہذا اسے ہر گز امام نہ کیا جائے ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد 6 ص 390 باب الامامة ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>بغیر داڑھی والا نماز نہیں پڑھا سکتا ؟</h2> سوال : حضرت کیا بغیر داڑھی والا شخص نماز پڑھا سکتا ہے برائے کرم حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں . المستفتی تنویر عالم قادری لکھنؤ یوپی انڈیا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> نہیں کہ داڑھی نہ رکھنے والا شخص فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے اس کے پیچھے پڑھی ہوئی نمازیں مکروہ تحریمی ہیں ان کو پھیرنا واجب ہے ۔ غنیة میں ہے " لوقدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان كراهة تقديمه كراهة تحريم اھ " (ص:513 ، فصل في الامامۃ) یعنی لوگ فاسق کو امام بنائیں تو گناہ گار ہوں گے اس لئے کہ اس امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۔ شرح عقائد صفحہ 160 پر ہے :"لا کلام فی کراھة الصلاة خلف الفاسق والمبتدع إذا لم يود الفسق او البدعة الي حد الكفر أما إذا ادي اليه فلا كلام في عدم جواز الصلاة خلفه "اھ ۔ یعنی فاسق اور بدعتی کے پیچھے ونماز کے مکروہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ فسق و بدعت حد کفر کو نہ پہنچے ہوں اور فسق و بدعت حد کفر کو پہنچ گئے ہوں تو ان کے پیچھے نماز کے نہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ۔ اسی میں ہے : "لو قدموا فاسقا ياثمون "اھ. ( شرح العقائد ، صفحہ 479 ) یعنی لوگ فاسق کو امام بنائیں تو گناہ گار ہوں گے ۔ درمختارمع ردالمحتارمیں ہے " کل صلاۃ أدیت مع كراهة التحريمة تجب اعادتھا اھ " اھ(ج :2 ص: 147/148 ، کتاب الصلاة ، باب صفۃ الصلاۃ) یعنی ہر وہ نماز جو کراہت تحریمہ کے ساتھ ادا کی گئی اس کا دہرا نا واجب ہے ۔ اعلي حضرت رضي الله تعالي عنه تحریر فرماتے ہیں: "فاسق کے پیچھے نماز ناقص ومکروہ اگر پڑھ لی تو پھیری جائے اگرچہ مدت گزرچکی ہو و لہذا اسے ہر گز امام نہ کیا جائے " اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد 6 ص 390 باب الامامة ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...