بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا؟السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بغیر ٹو پی کے نماز پڑھنے کا کیا شرعی حکم ہے؟(سائل احسان عطاری فیصل آباد)وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہالجوابــــــ بعون الملک الوھّابنمازی کے لئے افضل تو یہی ہے کہ عمامہ شریف یا ٹوپی پہن کر ہی نماز اداکرے کیونکہ ننگے سر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے، امام اہلسنت مجدد دین و ملت سید اعلیٰ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ کی سنت کریمہ نماز مع کلاہ و عمامہ ہے اور فقہاء کرام نے ننگے سر نماز پڑھنے کی تین قسم کی ہے اگر بہ نیت تواضع وعاجزی ہو تو جائز، اور بوجہ کسل ہو تومکروہ، اور معاذﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہو تو کفر-(فتاویٰ رضویہ جلد7صفحہ389- رضا فاؤنڈیشن لاہور)(مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بہار شریعت میں درمختار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں، کہ سُستی سے ننگے سر نماز پڑھنا(یعنی: ٹوپی پہننا بوجھ معلوم ہوتا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو، مکروہ تنزیہی ہے اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مہتم بالشان چیز نہیں جس کے لیے ٹوپی، عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے اور خشوع خضوع کے لیے سر برہنہ پڑھی، تو مستحب ہے-(الدرالمختار و ردالمحتار جلد2صفحہ491)(بہار شریعت حصہ3صفحہ631-مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)(احکام شریعت میں ہے)اگر بہ نیتِ عاجزی ننگے سر نماز پڑھتے ہیں تو کوئ حرج نہیں-(احکام شریعت حصہ1صفحہ144-نظامیہ کتاب گھرلاہور)(مفتی اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن صاحب تحریر فرماتے ہیں، کہ ننگے سر نماز پڑھنے سے ادا ہوجاتی ہے لیکن افضل یہ ہے کہ عمامہ یا ٹوپی پہن کر نماز پڑھی جائے-(تفہیم المسائل جلد1صفحہ121-ضیاءالقرآن پبلی کیشنز)واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ کتبــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی سٹی پاکستان
Kutubahu & Verified by:
<span style="font-size: 18pt;">بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا؟</span>
<span style="font-size: 18pt;">السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بغیر ٹو پی کے نماز پڑھنے کا کیا شرعی حکم ہے؟</span>
<span style="font-size: 18pt;">(سائل احسان عطاری فیصل آباد)</span>
<span style="font-size: 18pt;">وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ</span>
<span style="font-size: 18pt;"><strong>الجوابــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span>
<span style="font-size: 18pt;">نمازی کے لئے افضل تو یہی ہے کہ عمامہ شریف یا ٹوپی پہن کر ہی نماز اداکرے کیونکہ ننگے سر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے، امام اہلسنت مجدد دین و ملت سید اعلیٰ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ کی سنت کریمہ نماز مع کلاہ و عمامہ ہے اور فقہاء کرام نے ننگے سر نماز پڑھنے کی تین قسم کی ہے اگر بہ نیت تواضع وعاجزی ہو تو جائز، اور بوجہ کسل ہو تومکروہ، اور معاذﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہو تو کفر-</span>
<span style="font-size: 18pt;">(فتاویٰ رضویہ جلد7صفحہ389- رضا فاؤنڈیشن لاہور)</span>
<span style="font-size: 18pt;">(مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بہار شریعت میں درمختار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں، کہ سُستی سے ننگے سر نماز پڑھنا(یعنی: ٹوپی پہننا بوجھ معلوم ہوتا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو، مکروہ تنزیہی ہے اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مہتم بالشان چیز نہیں جس کے لیے ٹوپی، عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے اور خشوع خضوع کے لیے سر برہنہ پڑھی، تو مستحب ہے-</span>
<span style="font-size: 18pt;">(الدرالمختار و ردالمحتار جلد2صفحہ491)</span>
<span style="font-size: 18pt;">(بہار شریعت حصہ3صفحہ631-مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)</span>
<span style="font-size: 18pt;">(احکام شریعت میں ہے)اگر بہ نیتِ عاجزی ننگے سر نماز پڑھتے ہیں تو کوئ حرج نہیں-</span>
<span style="font-size: 18pt;">(احکام شریعت حصہ1صفحہ144-نظامیہ کتاب گھرلاہور)</span>
<span style="font-size: 18pt;">(مفتی اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن صاحب تحریر فرماتے ہیں، کہ </span>
<span style="font-size: 18pt;">ننگے سر نماز پڑھنے سے ادا ہوجاتی ہے لیکن افضل یہ ہے کہ عمامہ یا ٹوپی پہن کر نماز پڑھی جائے-</span>
<span style="font-size: 18pt;">(تفہیم المسائل جلد1صفحہ121-ضیاءالقرآن پبلی کیشنز)</span>
<span style="font-size: 18pt;">واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ </span>
<span style="font-size: 18pt;">کتبــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی سٹی پاکستان</span>