Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1963 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.3K Views

بغیر ٹو پی کے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بغیر ٹو پی کے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بغیر ٹو پی کے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ سائل :حافظ سلطان عطاری الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب نمازی کے لئے افضل تو یہی ہے کہ عمامہ شریف یا ٹوپی پہن کر ہی نماز اداکرے کیونکہ ننگے سر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے، اور فقہائے کرام نے اس کی تین اقسام بیان فرمائ ہیں، سُستی سے ننگے سر نماز پڑھنا(یعنی: ٹوپی پہننا بوجھ معلوم ہوتا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو تویہ مکروہ تنزیہی ہے، اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مُہْتَم بالشان چیز نہیں جس کے لیے ٹوپی یا عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے، اور خشوع خُضوع کے لیے ننگے سر نماز پڑھی تو مستحب ہے . امام اہلسنت مجدد دین و ملت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ کی سنت کریمہ نماز مع کلاہ و عمامہ ہے، اور فقہائے کرام نے ننگے سر نماز پڑھنے کی تین قسم کی ہے(1)اگر بہ نیت تواضع وعاجزی ہو تو جائز ہے(2) اور بوجہ کسل(یعنی سُستی ہو تو مکروہ(3)اور معاذﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہو تو کفر ہے . (فتاویٰ رضویہ جلد7صفحہ389- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ کتبـــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی عفی عنہ

Kutubahu & Verified by:

<h3>بغیر ٹو پی کے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ سائل :حافظ سلطان عطاری <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> نمازی کے لئے افضل تو یہی ہے کہ عمامہ شریف یا ٹوپی پہن کر ہی نماز اداکرے کیونکہ ننگے سر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے، اور فقہائے کرام نے اس کی تین اقسام بیان فرمائ ہیں، سُستی سے ننگے سر نماز پڑھنا(یعنی: ٹوپی پہننا بوجھ معلوم ہوتا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو تویہ مکروہ تنزیہی ہے، اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مُہْتَم بالشان چیز نہیں جس کے لیے ٹوپی یا عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے، اور خشوع خُضوع کے لیے ننگے سر نماز پڑھی تو مستحب ہے . امام اہلسنت مجدد دین و ملت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ کی سنت کریمہ نماز مع کلاہ و عمامہ ہے، اور فقہائے کرام نے ننگے سر نماز پڑھنے کی تین قسم کی ہے(1)اگر بہ نیت تواضع وعاجزی ہو تو جائز ہے(2) اور بوجہ کسل(یعنی سُستی ہو تو مکروہ(3)اور معاذﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہو تو کفر ہے . (فتاویٰ رضویہ جلد7صفحہ389- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #ff0000;"><strong>کتبـــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی عفی عنہ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...