Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1561
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.8K Views
بغیر گواہوں کے نکاح کرلیا پھر طلاق دے دیا اب دوبارہ نکاح کے لئے کیا حکم ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بغیر گواہوں کے نکاح کرلیا پھر طلاق دے دیا اب دوبارہ نکاح کے لئے کیا حکم ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بغیر گواہوں کے نکاح کرلیا پھر طلاق دے دیا اب دوبارہ نکاح کے لئے کیا حکم ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکا اور لڑکی بغیر گواہ کے آپس میں نکاح کر لئے کچھ دن رہنے کے بعدلڑکے نے تین طلاق دے دیا دریافت طلب امر یہ ہے کہ پھر سے وہ دونوں نکاح کرنا چاہتے ہیں(اعلانیہ طریقہ سے) تو کیا نکاح کر سکتے ہیں کہ حلالہ کی ضرورت ہوگی ؟ مفصل بیان فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: شوکت علی دوگھرا بھیڑی ہاری پٹی کُشی نگر-یو پی وعليكم السلام ورحمةالله وبركاته بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک القدوس صحت نکاح کے لیے دو گواہوں کی موجودگی شرط ہے بغیر گواہوں کے نکاح منعقد نہ ہوگا لہذا لڑکا اور لڑکی کا بغیر گواہوں کے کیا ہوا نکاح منعقد ہی نہ ہوا اور جب نکاح نہ ہوا تو پھر طلاق کے کیا معنی.جتنے دن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہے محض گناہ میں ملوث رہے اس لیے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً فوراً جدا ہوجائیں اور اعلانیہ توبہ واستغفار کریں اور اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو پھر سے نکاح صحیح شرعی کرلیں حلالہ کی ضرورت نہیں . ہدایہ میں ہے:النكاح ينعقد بالايجاب والقبول بلفظين بغير بهماعن الماضي بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين (جلد٢،كتاب النكاح،ص٢٢٦) شہزادہ اعلی حضرت امام الفقہ مفتی اعظم ہند فرماتے ہیں مسلمہ کی نکاح میں آزاد عاقل بالغ سامع فاہم جو ایجاب و قبول نکاح کو سنیں اور سمجھیں ایسےدو گواہوں کا حضور شرط صحت نکاح ہےوہ نہ نکاح ہواکہ تنہامردوعورت نے ایجاب وقبول کیا (فتاویٰ مصطفویہ،کتاب النکاح ص٣٠٧) والله تعالى اعلم باصواب کتبہ:محمد سیف علی الفیضی ٦شعبان المعظم ١٤٤٣ھ
Kutubahu & Verified by:
<h3>بغیر گواہوں کے نکاح کرلیا پھر طلاق دے دیا اب دوبارہ نکاح کے لئے کیا حکم ہے ؟</h3> السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکا اور لڑکی بغیر گواہ کے آپس میں نکاح کر لئے کچھ دن رہنے کے بعدلڑکے نے تین طلاق دے دیا دریافت طلب امر یہ ہے کہ پھر سے وہ دونوں نکاح کرنا چاہتے ہیں(اعلانیہ طریقہ سے) تو کیا نکاح کر سکتے ہیں کہ حلالہ کی ضرورت ہوگی ؟ مفصل بیان فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: شوکت علی دوگھرا بھیڑی ہاری پٹی کُشی نگر-یو پی وعليكم السلام ورحمةالله وبركاته بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک القدوس</strong></span> صحت نکاح کے لیے دو گواہوں کی موجودگی شرط ہے بغیر گواہوں کے نکاح منعقد نہ ہوگا لہذا لڑکا اور لڑکی کا بغیر گواہوں کے کیا ہوا نکاح منعقد ہی نہ ہوا اور جب نکاح نہ ہوا تو پھر طلاق کے کیا معنی.جتنے دن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہے محض گناہ میں ملوث رہے اس لیے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً فوراً جدا ہوجائیں اور اعلانیہ توبہ واستغفار کریں اور اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو پھر سے نکاح صحیح شرعی کرلیں حلالہ کی ضرورت نہیں . ہدایہ میں ہے:النكاح ينعقد بالايجاب والقبول بلفظين بغير بهماعن الماضي بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين (جلد٢،كتاب النكاح،ص٢٢٦) شہزادہ اعلی حضرت امام الفقہ مفتی اعظم ہند فرماتے ہیں مسلمہ کی نکاح میں آزاد عاقل بالغ سامع فاہم جو ایجاب و قبول نکاح کو سنیں اور سمجھیں ایسےدو گواہوں کا حضور شرط صحت نکاح ہےوہ نہ نکاح ہواکہ تنہامردوعورت نے ایجاب وقبول کیا (فتاویٰ مصطفویہ،کتاب النکاح ص٣٠٧) والله تعالى اعلم باصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:محمد سیف علی الفیضی ٦شعبان المعظم ١٤٤٣ھ</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...