Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1507
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.3K Views
بٹائی میں دس بورے گیہوں ملے تو کیا صرف مالک پر زکوۃ ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بٹائی میں دس بورے گیہوں ملے تو کیا صرف مالک پر زکوۃ ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بٹائی میں دس بورے گیہوں ملے تو کیا صرف مالک پر زکوۃ ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے ایک بورہ گیہوں بٹائی پر بویا ہے جس سے بیس بورے گیہوں پیدا ہونے کی امید ہے دس بورے کھیت والے کو ملیں گے اور دس بورے زید کو تو اس پیداوار سے زید کو کتنی زکات نکالنی پڑے گی؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں زید کو اپنے حصہ کی زکات نکالنی پڑے گی. درمختار جلد دوم صفحہ 61 میں ہے ” وفی المزارعۃ ان کان البذر من رب الارض فعلیہ ولو من العامل فعلیھما بالحصۃ” اگر اس نے اس کی کاشت بارش، نہر، نالے اور دریا کے پانی سے کی ہے یا بغیر آبپاشی کے قدرتی نمی سے پیدا ہوا ہے تو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہوگا اور اگر اس کی سیرابی چرسے، ڈول اور پمپنگ سیٹ سے یا پانی خرید کر کیا ہے تو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہوگا. درمختار صفحہ 53 تا 55 میں ہے ” تجب العشر فی مسقی سماء ای مطر و سیح کنھر ویجب نصفہ فی مسقی غرب ای دلو کبیر و دالیۃ ای دولاب. مخلصا. اور اگر کچھ دنوں بارش کے پانی سے اور کچھ دنوں ڈول وچرسے سے سیراب کیا ہے تو اگر اکثر بارش کے پانی سے سیراب کیا ہے تو عشر واجب ہوگا ورنہ نصف عشر یعنی جب کہ بارش کا پانی ڈول وغیرہ کے پانی سے کم رہا ہوں یا دونوں برابر ہے تو اس صورت میں بھی بیسواں حصہ واجب ہوگا. در مختار جلد دوم صفحہ 55 ہے ” لو سقی سیحا وبالۃ اعتبر الغالب ولو استویا فنصفہ” واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ :مفتی خورشید احمد مصباحی
Kutubahu & Verified by:
<h2>بٹائی میں دس بورے گیہوں ملے تو کیا صرف مالک پر زکوۃ ہے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے ایک بورہ گیہوں بٹائی پر بویا ہے جس سے بیس بورے گیہوں پیدا ہونے کی امید ہے دس بورے کھیت والے کو ملیں گے اور دس بورے زید کو تو اس پیداوار سے زید کو کتنی زکات نکالنی پڑے گی؟ بینوا و توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسئولہ میں زید کو اپنے حصہ کی زکات نکالنی پڑے گی. درمختار جلد دوم صفحہ 61 میں ہے " وفی المزارعۃ ان کان البذر من رب الارض فعلیہ ولو من العامل فعلیھما بالحصۃ" اگر اس نے اس کی کاشت بارش، نہر، نالے اور دریا کے پانی سے کی ہے یا بغیر آبپاشی کے قدرتی نمی سے پیدا ہوا ہے تو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہوگا اور اگر اس کی سیرابی چرسے، ڈول اور پمپنگ سیٹ سے یا پانی خرید کر کیا ہے تو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہوگا. درمختار صفحہ 53 تا 55 میں ہے " تجب العشر فی مسقی سماء ای مطر و سیح کنھر ویجب نصفہ فی مسقی غرب ای دلو کبیر و دالیۃ ای دولاب. مخلصا. اور اگر کچھ دنوں بارش کے پانی سے اور کچھ دنوں ڈول وچرسے سے سیراب کیا ہے تو اگر اکثر بارش کے پانی سے سیراب کیا ہے تو عشر واجب ہوگا ورنہ نصف عشر یعنی جب کہ بارش کا پانی ڈول وغیرہ کے پانی سے کم رہا ہوں یا دونوں برابر ہے تو اس صورت میں بھی بیسواں حصہ واجب ہوگا. در مختار جلد دوم صفحہ 55 ہے " لو سقی سیحا وبالۃ اعتبر الغالب ولو استویا فنصفہ" واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :مفتی خورشید احمد مصباحی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...