Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1897
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.2K Views
بچنے والا چندہ مسجد و مدرسہ وغیرہ میں دینا کیسا ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بچنے والا چندہ مسجد و مدرسہ وغیرہ میں دینا کیسا ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بچنے والا چندہ مسجد و مدرسہ وغیرہ میں دینا کیسا ؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ 12 ربیع اول کو جلسہ کرنے کے لئے چندہ کرتے ہیں اگر کچھ رقم بچ جائے تو کیا اسے مسجد یا مدرسہ یاکسی اور دینی کام میں خرچ کرسکتے ہیں یا نہیں یا مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔ المستفتی: محمد احمد رضا کالپی شریف یوپی۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب ایسے چندوں سے جو روپیہ فاضل بچے وہ چندہ دہندگان کا ہے انہیں کی طرف رجوع لازم وہ مسجد و مدرسہ وغیرہ جس امر دینی میں خرچ کرنے کی اجازت دیں اسی میں خرچ کیا جائے ان میں سے جو نہ رہے ان کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصص کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا، اور اگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان مسجد و مدرسہ وغیرہ میں خرچ کرنا جائز نہیں۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جدید ج١٦، ص١٣٥، کتاب الوقف (رضا فاؤنڈیشن لاہور) پر ہے۔ شہزادہ اعلی حضرت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: “یہ ہرگز جائز نہیں چندہ کا روپیہ چندہ دینے والوں کا ہے یہ امین ہے جس نیک کام کے لیے انہوں نے دیا ہے دیانت کے ساتھ اسے اس میں صرف کرے اور صرف نہ ہو تو لازم جس جس سے جتنا جتنا لیا ہر ایک کو اتنا اتنا واپس دے یا ان کی اجازت ہوتو کسی اور جائز کام میں صرف کرے اگر کسی کام کے لیے لوگوں سے چندہ لیا اس میں صرف کر کے کچھ بچ رہا اور کام ختم ہو گیا تو حساب کرکے حصہ رسد واپس دے”اھ (فتاوی مصطفویہ، ص٤٤٤، کتاب الحظر والاباحۃ، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h3>بچنے والا چندہ مسجد و مدرسہ وغیرہ میں دینا کیسا ؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ 12 ربیع اول کو جلسہ کرنے کے لئے چندہ کرتے ہیں اگر کچھ رقم بچ جائے تو کیا اسے مسجد یا مدرسہ یاکسی اور دینی کام میں خرچ کرسکتے ہیں یا نہیں یا مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔ المستفتی: محمد احمد رضا کالپی شریف یوپی۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> ایسے چندوں سے جو روپیہ فاضل بچے وہ چندہ دہندگان کا ہے انہیں کی طرف رجوع لازم وہ مسجد و مدرسہ وغیرہ جس امر دینی میں خرچ کرنے کی اجازت دیں اسی میں خرچ کیا جائے ان میں سے جو نہ رہے ان کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصص کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا، اور اگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان مسجد و مدرسہ وغیرہ میں خرچ کرنا جائز نہیں۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جدید ج١٦، ص١٣٥، کتاب الوقف (رضا فاؤنڈیشن لاہور) پر ہے۔ شہزادہ اعلی حضرت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "یہ ہرگز جائز نہیں چندہ کا روپیہ چندہ دینے والوں کا ہے یہ امین ہے جس نیک کام کے لیے انہوں نے دیا ہے دیانت کے ساتھ اسے اس میں صرف کرے اور صرف نہ ہو تو لازم جس جس سے جتنا جتنا لیا ہر ایک کو اتنا اتنا واپس دے یا ان کی اجازت ہوتو کسی اور جائز کام میں صرف کرے اگر کسی کام کے لیے لوگوں سے چندہ لیا اس میں صرف کر کے کچھ بچ رہا اور کام ختم ہو گیا تو حساب کرکے حصہ رسد واپس دے"اھ (فتاوی مصطفویہ، ص٤٤٤، کتاب الحظر والاباحۃ، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) <strong>کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong> <strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...