Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1318 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.8K Views

بچہ نے گھر میں پیشاب کیا وہ جگہ بغیر دھوپ کے سوکھ گئی تو پاک ہوئی یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بچہ نے گھر میں پیشاب کیا وہ جگہ بغیر دھوپ کے سوکھ گئی تو پاک ہوئی یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بچہ نے گھر میں پیشاب کیا وہ جگہ بغیر دھوپ کے سوکھ گئی تو پاک ہوئی یا نہیں؟

سوال : چھوٹے بچوں نے گھر میں پیشاب کردیا جو بغیر دھوپ کے سوکھ گیا تو جگہ پاک ہوئی یا نہیں اور وہاں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــ وہ جگہ سوکھنے سے پاک ہو گئی جبکہ نجاست کا اثر ختم ہو گیا ہو اور وہاں نماز پڑھنا بھی جائز ہے. جیسا کہ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے فرمایا” ناپاک زمین اگر خشک ہو جائے اور نجاست کا اثر یعنی رنگ و بو جاتا رہا پاک ہو گئی. خواہ وہ ہوا سے سوکھی ہو یا دھوپ سے یا آگ سے، مگر اس پر تیمم کرنا جائز نہیں نماز اس پر پڑھ سکتے ہیں.(بہار شریعت حصہ دوم صفحہ ١٠٦) اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 44 پر ہے ” الارض تطھر بالیبس وذھاب الاثر للصلاۃ للتیمم ھکذا فی الکافی. ولا فرق بین الجفاف بالشمس والنار والریح والظل کذا فی البحر الرائق. ١ھ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد شبیر عالم مصبـــــــــــــاحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

Kutubahu & Verified by:

<h3>بچہ نے گھر میں پیشاب کیا وہ جگہ بغیر دھوپ کے سوکھ گئی تو پاک ہوئی یا نہیں؟</h3> سوال : چھوٹے بچوں نے گھر میں پیشاب کردیا جو بغیر دھوپ کے سوکھ گیا تو جگہ پاک ہوئی یا نہیں اور وہاں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا و توجروا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــ</strong></span> وہ جگہ سوکھنے سے پاک ہو گئی جبکہ نجاست کا اثر ختم ہو گیا ہو اور وہاں نماز پڑھنا بھی جائز ہے. جیسا کہ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے فرمایا'' ناپاک زمین اگر خشک ہو جائے اور نجاست کا اثر یعنی رنگ و بو جاتا رہا پاک ہو گئی. خواہ وہ ہوا سے سوکھی ہو یا دھوپ سے یا آگ سے، مگر اس پر <a href="https://masailworld.com/gobar-se-leepi-hui-zameen-se-tayammum-karna-kaisa-hai/"><strong>تیمم</strong></a> کرنا جائز نہیں نماز اس پر پڑھ سکتے ہیں.(بہار شریعت حصہ دوم صفحہ ١٠٦) اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 44 پر ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' الارض تطھر بالیبس وذھاب الاثر للصلاۃ للتیمم ھکذا فی الکافی. ولا فرق بین الجفاف بالشمس والنار والریح والظل کذا فی البحر الرائق. ١ھ</strong></span> واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد شبیر عالم مصبـــــــــــــاحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...