Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1485 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.1K Views

بیدار ہونے کے بعد پیشاب سے پہلے چپچپا پانی نکلا تو کیا حکم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بیدار ہونے کے بعد پیشاب سے پہلے چپچپا پانی نکلا تو کیا حکم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بیدار ہونے کے بعد پیشاب سے پہلے چپچپا پانی نکلا تو کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسٔلہ میں کہ زید گہری نیند میں سویا ہوا تھا اسے احساس ہوا کہ احتلام ہوگیا لیکن ابھی کامل یقین نہیں تھا زید صبح اٹھا اور اس نے دیکھا کہ کپڑوں پر بھی منی کا کوئ دھپہ نہیں اور نہ ہی جسم پر۔ لیکن پیشاب کرتے وقت ذکر سے چپچپا پانی کا خروج پایا تو کیا اس صورت میں زید ناپاک ہوگا یا نہیں؟ جواب مرحمت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ فقط و السلام محمد نعمان سرسکھیڑہ الجوابــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں اگر اس تری کے منی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو تو زید غسل کرے۔صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “کسی کو خواب ہوا اور مَنی باہر نہ نکلی تھی کہ آنکھ کُھل گئی اور آلہ کو پکڑ لیا کہ مَنی باہر نہ ہو، پھر جب تُندی جاتی رہی چھوڑ دیا اب نکلی تو غُسل واجب ہوگیا ” (بہار شریعت ح٢ ص٣٢۵) اور اگر اس تری کے منی ہونے کا یقین یا ظن غالب نہ ہو تو غسل نہیں ہے۔کیوں کہ منی جب اپنی جگہ سے شہوت سے جدا ہو اور عضو سے باہر ہو اس وقت غسل واجب ہوتا ہے، اب چوں کہ نیند کی حالت میں آدمی کو یہ پورے طور پر یاد نہیں رہتا ہے کہ شہوت کے ساتھ اصلی جگہ سے جدا ہوئی یا نہیں اس لیے بیداری کے بعد پائی جانے والی منی میں بہر صورت غسل لازم ہے۔ اور بیداری کی حالت میں اگر منی اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہوئے بغیر نکل جائے، مثلا بوجھ اٹھانے یا کودنے وغیرہ اسباب سے تو غسل لازم نہیں ہوتا ہے۔ یہاں یہ شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ بیداری کے بعد پائی جانے والی تری کے بارے میں اگر مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو تو بھی اِس احتیاط کے سبب غسل لازم ہونے کا حکم دیا جاتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جس تری کے مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہے وہ در حقیقت منی ہو جو حرارت بدن کے سبب پتلی ہوگئی ہو جس کے سبب اس کے مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہورہا ہے۔لیکن صورتِ مسئولہ اس سے مختلف ہے کیوں کہ وہ حکم اُس وقت ہے جب کہ نیند کی حالت میں تری نکلی اور حرارتِ بدن وغیرہ کے سبب بیداری کے بعد پتلی محسوس ہورہی ہو، جب کہ صورتِ مسئولہ میں بیداری کی حالت میں نکلنے والی تری میں منی اور مذی کے مابین والا اشتباہ نہیں ہے، بلکہ دونوں میں امتیاز کیا جاسکتا ہے۔ ہم یہاں پر امام اہلِ سنت اعلی حضرت کے تاریخی رسالہ “الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل” میں مذکور چھ صورتیں اور ان کے احکام اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں: پہلی صورت: بیداری کے بعد کپڑے یا بدن پر تری نہ پائی۔ دوسری صورت: تری پائی، لیکن یہ یقین ہے کہ یہ تری منی یا مذی نہیں، بلکہ ودی، یا پیشاب یا پسینہ وغیرہ ہے ان دونوں صورتوں کاحکم: ان دونوں صورتوں میں باتفاق ائمہ حنفیہ غسل نہیں،اگرچہ خواب میں مجامعت اور اس کی لذت اور انزال تک یاد ہو۔ تیسری صورت: اس تری کا منی ہونا ثابت ہو، یعنی: یقین یا ظن غالب ہو کہ یہ منی کی تری ہے۔ حکم: اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب ہے ، اگرچہ خواب وغیرہ بالکل نہ یاد ہو۔ چوتھی صورت: اس تری کے مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔ حکم: اس صورت میں طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک غسل واجب ہے، خواب وغیرہ یاد ہو یا نہ یاد ہو۔ پانچویں صورت: اس تری کے منی ہونے کا احتمال ہو، اب خواہ اس احتمالِ منی کے ساتھ مذی کا بھی احتمال ہو یا مذی کا احتمال نہ ہو بلکہ احتمالِ منی کے ساتھ پیشاب پسینہ وغیرہ کا احتمال ہو۔ حکم: اگر خواب یاد ہے تو غسل واجب ہے اور اگر خواب یاد نہیں تو اگر منی کے احتمال کے ساتھ مذی کا بھی احتمال ہے تو اس صورت میں اگر سونے سے پہلے شہوت اور انتشار نہ ہو، یا ہو تو سونے سے پہلے مذی نکل کر صاف ہوگئی ہو تو غسل واجب ہے اور اگر سونے سے پہلے شہوت اور انتشار تھا لیکن مذی نکل کر صاف نہ ہوگئی ہو تو غسل واجب نہیں ہے۔ چھٹی صورت: اس تری کے منی نہ ہونے کا تو یقین ہو، مگر مذی ہونے کا احتمال ہو۔ حکم: اس صورت میں اگر خواب یاد ہے تو غسل واجب ہے اور اگر خواب یاد نہیں تو بالاتفاق غسل واجب نہیں۔ومن اراد البسط ونفائس الابحاث فلیرجع الی الرسالة المذکورة المدمجة فی المجلد الاول من العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة، فان فیہا من التحقیقات البدیعة والابحاث الرائعة ما لا توجد فی غیرھا من الاسفار الفقہیة۔ تنبیہ: ان صورتوں کا جامع بیان حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے اپنے سہلِ ممتنع والے اسلوبِ نگارش میں یوں زیب قرطاس کیا ہے: “اِحْتِلام: یعنی سوتے سے اٹھا اور بدن یا کپڑے پر تری پائی اور اس تری کے مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غُسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو اور اگریقین ہے کہ یہ نہ مَنی ہے نہ مذی بلکہ پسینہ یا پیشاب یا وَدی یا کچھ اورہے تو اگرچہ اِحْتِلام یاد ہو اور لذّتِ اِنزال خیال میں ہو غُسل واجب نہیں ۔ اور اگر مَنی نہ ہونے پر یقین کرتا ہے اور مذی کا شک ہے تو اگر خواب میں اِحْتِلام ہونا یاد نہیں تو غُسل نہیں ورنہ ہے” (بہار شریعت ح٢ ص ٣٢۴) میرے پیشِ نظر بہارِ شریعت کے نسخوں میں عبارت اسی طرح ہے لیکن یہاں یہ واضح رہے کہ غالباً عبارت”مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو” میں “احتمال” سے پہلے “منی کا” لفظ سہو کاتب سے چھوٹ گیا ہے، کما لا یخفی علی المتامل۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٦/رجب //٢٨/فروری ٢٠٢٢ء ۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>بیدار ہونے کے بعد پیشاب سے پہلے چپچپا پانی نکلا تو کیا حکم ہے؟</h3> کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسٔلہ میں کہ زید گہری نیند میں سویا ہوا تھا اسے احساس ہوا کہ احتلام ہوگیا لیکن ابھی کامل یقین نہیں تھا زید صبح اٹھا اور اس نے دیکھا کہ کپڑوں پر بھی منی کا کوئ دھپہ نہیں اور نہ ہی جسم پر۔ لیکن پیشاب کرتے وقت ذکر سے چپچپا پانی کا خروج پایا تو کیا اس صورت میں زید ناپاک ہوگا یا نہیں؟ جواب مرحمت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ فقط و السلام محمد نعمان سرسکھیڑہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــ</strong></span> صورتِ مسئولہ میں اگر اس تری کے منی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو تو زید غسل کرے۔صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "کسی کو خواب ہوا اور مَنی باہر نہ نکلی تھی کہ آنکھ کُھل گئی اور آلہ کو پکڑ لیا کہ مَنی باہر نہ ہو، پھر جب تُندی جاتی رہی چھوڑ دیا اب نکلی تو غُسل واجب ہوگیا " (بہار شریعت ح٢ ص٣٢۵) اور اگر اس تری کے منی ہونے کا یقین یا ظن غالب نہ ہو تو غسل نہیں ہے۔کیوں کہ منی جب اپنی جگہ سے شہوت سے جدا ہو اور عضو سے باہر ہو اس وقت غسل واجب ہوتا ہے، اب چوں کہ نیند کی حالت میں آدمی کو یہ پورے طور پر یاد نہیں رہتا ہے کہ شہوت کے ساتھ اصلی جگہ سے جدا ہوئی یا نہیں اس لیے بیداری کے بعد پائی جانے والی منی میں بہر صورت غسل لازم ہے۔ اور بیداری کی حالت میں اگر منی اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہوئے بغیر نکل جائے، مثلا بوجھ اٹھانے یا کودنے وغیرہ اسباب سے تو غسل لازم نہیں ہوتا ہے۔ یہاں یہ شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ بیداری کے بعد پائی جانے والی تری کے بارے میں اگر مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو تو بھی اِس احتیاط کے سبب غسل لازم ہونے کا حکم دیا جاتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جس تری کے مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہے وہ در حقیقت منی ہو جو حرارت بدن کے سبب پتلی ہوگئی ہو جس کے سبب اس کے مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہورہا ہے۔لیکن صورتِ مسئولہ اس سے مختلف ہے کیوں کہ وہ حکم اُس وقت ہے جب کہ نیند کی حالت میں تری نکلی اور حرارتِ بدن وغیرہ کے سبب بیداری کے بعد پتلی محسوس ہورہی ہو، جب کہ صورتِ مسئولہ میں بیداری کی حالت میں نکلنے والی تری میں منی اور مذی کے مابین والا اشتباہ نہیں ہے، بلکہ دونوں میں امتیاز کیا جاسکتا ہے۔ ہم یہاں پر امام اہلِ سنت اعلی حضرت کے تاریخی رسالہ "الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل" میں مذکور چھ صورتیں اور ان کے احکام اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں: پہلی صورت: بیداری کے بعد کپڑے یا بدن پر تری نہ پائی۔ دوسری صورت: تری پائی، لیکن یہ یقین ہے کہ یہ تری منی یا مذی نہیں، بلکہ ودی، یا پیشاب یا پسینہ وغیرہ ہے ان دونوں صورتوں کاحکم: ان دونوں صورتوں میں باتفاق ائمہ حنفیہ غسل نہیں،اگرچہ خواب میں مجامعت اور اس کی لذت اور انزال تک یاد ہو۔ تیسری صورت: اس تری کا منی ہونا ثابت ہو، یعنی: یقین یا ظن غالب ہو کہ یہ منی کی تری ہے۔ حکم: اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب ہے ، اگرچہ خواب وغیرہ بالکل نہ یاد ہو۔ چوتھی صورت: اس تری کے مذی ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔ حکم: اس صورت میں طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک غسل واجب ہے، خواب وغیرہ یاد ہو یا نہ یاد ہو۔ پانچویں صورت: اس تری کے منی ہونے کا احتمال ہو، اب خواہ اس احتمالِ منی کے ساتھ مذی کا بھی احتمال ہو یا مذی کا احتمال نہ ہو بلکہ احتمالِ منی کے ساتھ پیشاب پسینہ وغیرہ کا احتمال ہو۔ حکم: اگر خواب یاد ہے تو غسل واجب ہے اور اگر خواب یاد نہیں تو اگر منی کے احتمال کے ساتھ مذی کا بھی احتمال ہے تو اس صورت میں اگر سونے سے پہلے شہوت اور انتشار نہ ہو، یا ہو تو سونے سے پہلے مذی نکل کر صاف ہوگئی ہو تو غسل واجب ہے اور اگر سونے سے پہلے شہوت اور انتشار تھا لیکن مذی نکل کر صاف نہ ہوگئی ہو تو غسل واجب نہیں ہے۔ چھٹی صورت: اس تری کے منی نہ ہونے کا تو یقین ہو، مگر مذی ہونے کا احتمال ہو۔ حکم: اس صورت میں اگر خواب یاد ہے تو غسل واجب ہے اور اگر خواب یاد نہیں تو بالاتفاق غسل واجب نہیں۔ومن اراد البسط ونفائس الابحاث فلیرجع الی الرسالة المذکورة المدمجة فی المجلد الاول من العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة، فان فیہا من التحقیقات البدیعة والابحاث الرائعة ما لا توجد فی غیرھا من الاسفار الفقہیة۔ تنبیہ: ان صورتوں کا جامع بیان حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے اپنے سہلِ ممتنع والے اسلوبِ نگارش میں یوں زیب قرطاس کیا ہے: "اِحْتِلام: یعنی سوتے سے اٹھا اور بدن یا کپڑے پر تری پائی اور اس تری کے مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غُسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو اور اگریقین ہے کہ یہ نہ مَنی ہے نہ مذی بلکہ پسینہ یا پیشاب یا وَدی یا کچھ اورہے تو اگرچہ اِحْتِلام یاد ہو اور لذّتِ اِنزال خیال میں ہو غُسل واجب نہیں ۔ اور اگر مَنی نہ ہونے پر یقین کرتا ہے اور مذی کا شک ہے تو اگر خواب میں اِحْتِلام ہونا یاد نہیں تو غُسل نہیں ورنہ ہے" (بہار شریعت ح٢ ص ٣٢۴) میرے پیشِ نظر بہارِ شریعت کے نسخوں میں عبارت اسی طرح ہے لیکن یہاں یہ واضح رہے کہ غالباً عبارت"مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو" میں "احتمال" سے پہلے "منی کا" لفظ سہو کاتب سے چھوٹ گیا ہے، کما لا یخفی علی المتامل۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٦/رجب //٢٨/فروری ٢٠٢٢ء ۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...