Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1057
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.2K Views
بیعانہ کی رقم واپس نہ کرنے کا شرعی حکم از فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بیعانہ کی رقم واپس نہ کرنے کا شرعی حکم از فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بیعانہ کی رقم واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
سوال : عام طور پر یہ رائج ہے کہ جب ایک شخص کسی سے کوئی مال خریدتا ہے اور بیچنے والے کو کچھ رقم بیعانہ دیتا ہے پھر کسی وجہ سے وہ مال لینے سے انکار کر دیتا ہے یعنی بیع کو فسخ کر دیتا ہے تو بیچنے والا بیعانہ کی رقم ضبط کرلیتا ہے خریدار کو واپس نہیں کرتا تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ بیچنے والے نے خریدار کے انکار کو مان لیا اور بیع کا فسخ منظورکرلیا تو بیعانہ کی رقم واپس کرنا اس پر لازم ہے ۔ اگرنہیں کرے گا تو سخت گنہگار ہوگا حق العبد میں گرفتارہوگا ۔ اعلی حضرت حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں ہیں کہ بیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کر لینا جیسا کہ جاہلوں میں رواج ہے ظلم صریح ہے ۔ قال اللہ تعالی : لا تاکلوآ اموالکم بینکم بالباطل ۔ پھر چند سطر بعد تحریر فرماتے ہیں کہ بیع کو فسخ ہونا مان کر مبیع نہ دے اور روپے اس جرم میں کہ تو کیوں پھر گیا ضبط کر لے یہ صریح ظلم ہے ۔ بلے ھل ھذا الا ظلم صریح (فتاوی رضویہ جلد ہفتم ص٧) وھوا تعالی اعلم- کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
Kutubahu & Verified by:
<h2>بیعانہ کی رقم واپس نہ کرنے کا شرعی حکم</h2> سوال : عام طور پر یہ رائج ہے کہ جب ایک شخص کسی سے کوئی مال خریدتا ہے اور بیچنے والے کو کچھ رقم بیعانہ دیتا ہے پھر کسی وجہ سے وہ مال لینے سے انکار کر دیتا ہے یعنی بیع کو فسخ کر دیتا ہے تو بیچنے والا بیعانہ کی رقم ضبط کرلیتا ہے خریدار کو واپس نہیں کرتا تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> بیچنے والے نے خریدار کے انکار کو مان لیا اور بیع کا فسخ منظورکرلیا تو بیعانہ کی رقم واپس کرنا اس پر لازم ہے ۔ اگرنہیں کرے گا تو سخت گنہگار ہوگا حق العبد میں گرفتارہوگا ۔ اعلی حضرت حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں ہیں کہ بیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کر لینا جیسا کہ جاہلوں میں رواج ہے ظلم صریح ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>قال اللہ تعالی : لا تاکلوآ اموالکم بینکم بالباطل</strong></span> ۔ پھر چند سطر بعد تحریر فرماتے ہیں کہ بیع کو فسخ ہونا مان کر مبیع نہ دے اور روپے اس جرم میں کہ تو کیوں پھر گیا ضبط کر لے یہ صریح ظلم ہے ۔ بلے ھل ھذا الا ظلم صریح (فتاوی رضویہ جلد ہفتم ص٧) وھوا تعالی اعلم- <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی </strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...