Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #968 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.3K Views

بینک سے سودی قرض لینا کیسا ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بینک سے سودی قرض لینا کیسا ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بینک سے سودی قرض لینا کیسا ہے ؟ Bank se loan lena kaisa hai

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام بڑی بڑی تجارتوں اور بس ، ٹرک وغیرہ کی خریداری کے لیے بینک سودی قرض لینا پڑتا ہے ورنہ اس سے زیادہ سرمایہ سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس میں ضائع ہوجائے گا ۔ تو کیا ایسی مجبوری کی صورت میں بینک سے سودی قرض لینا جائز ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ضرر اور اس کی تباہ کاری سے بچنے کی ضرورت اور مفسدہ مظنونہ( معاشی زبوں حالی ، اور تعلیمی و ثقافتی وسیاسی انحطاط) کے ازالہ کے لیے بینک سودی قرض لینا جائز ہے کہ یہ فی الواقع اپنے مال کو ضیاع سے بچانا ہے ، نیز ضرر اشد سے تحفظ کے لیے ضرر اخف کا ارتکاب ہے ۔ البتہ اس کے لیے درج ذیل شرائط کی پابندی لازم ہے ۔ (1) بنام انٹریسٹ، جتنی رقم زائد دینی پڑے وہ سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس کی عائد ہونے والی رقم سے کم ہو ۔ (2) ممکنہ حد تک جلد از جلد قرض کی جملہ رقم ادا کردی جائے، کوئی قرض ناغہ نہ ہو جس کی بنا پر مزید اضافی رقم دینے کی نوبت آئے ۔ (3) اعتقاد یہی رکھے کہ قرض پر یہ زائد رقم بوجہ مجبوری دے رہا ہے اور اسے دل سے برا ہی جانے یہ نہیں کہ ” اجازت بوجہ مجبور” کو اصل مباح سمجھ کر بغیر کسی ناگواری کے بطیب خاطر ایسے قرض کا لین دین جاری کرے ۔ (4) قرض اتنا ہی لے جتنے سے اس کی حاجت پوری ہوسکے کہ بوجہ حاجت جو اجازت ہوتی ہے وہ بقدر حاجت ہوتی ہے ۔ ان شرائط کی رعایت کے ساتھ بس، ٹرک وغیرہ کی خریداری اور فروغ معاش کے لیے بینک سے قرض لینے کی اجازت ہے ۔ ورنہ نہیں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب ۔ کتبــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

Kutubahu & Verified by:

<h2>بینک سے سودی قرض لینا کیسا ہے ؟ Bank se loan lena kaisa hai</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام بڑی بڑی تجارتوں اور بس ، ٹرک وغیرہ کی خریداری کے لیے بینک <strong><a href="https://masailworld.com/bank-se-intrest-lena-kaisa-hai/" target="_blank" rel="noopener">سودی قرض</a> </strong>لینا پڑتا ہے ورنہ اس سے زیادہ سرمایہ سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس میں ضائع ہوجائے گا ۔ تو کیا ایسی مجبوری کی صورت میں بینک سے سودی قرض لینا جائز ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ضرر اور اس کی تباہ کاری سے بچنے کی ضرورت اور مفسدہ مظنونہ( معاشی زبوں حالی ، اور تعلیمی و ثقافتی وسیاسی انحطاط) کے ازالہ کے لیے بینک سودی قرض لینا جائز ہے کہ یہ فی الواقع اپنے مال کو ضیاع سے بچانا ہے ، نیز ضرر اشد سے تحفظ کے لیے ضرر اخف کا ارتکاب ہے ۔ البتہ اس کے لیے درج ذیل شرائط کی پابندی لازم ہے ۔ <strong>(1)</strong> بنام انٹریسٹ، جتنی رقم زائد دینی پڑے وہ سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس کی عائد ہونے والی رقم سے کم ہو ۔ <strong>(2)</strong> ممکنہ حد تک جلد از جلد قرض کی جملہ رقم ادا کردی جائے، کوئی قرض ناغہ نہ ہو جس کی بنا پر مزید اضافی رقم دینے کی نوبت آئے ۔ <strong>(3)</strong> اعتقاد یہی رکھے کہ قرض پر یہ زائد رقم بوجہ مجبوری دے رہا ہے اور اسے دل سے برا ہی جانے یہ نہیں کہ <strong>" اجازت بوجہ مجبور"</strong> کو اصل مباح سمجھ کر بغیر کسی ناگواری کے بطیب خاطر ایسے قرض کا لین دین جاری کرے ۔ <strong>(4)</strong> قرض اتنا ہی لے جتنے سے اس کی حاجت پوری ہوسکے کہ بوجہ حاجت جو اجازت ہوتی ہے وہ بقدر حاجت ہوتی ہے ۔ ان شرائط کی رعایت کے ساتھ بس، ٹرک وغیرہ کی خریداری اور فروغ معاش کے لیے بینک سے قرض لینے کی اجازت ہے ۔ ورنہ نہیں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...