Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #858 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.8K Views

بیوپاری کا مال بچواکر اس سے کمیشن لینا کیسا؟  / مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بیوپاری کا مال بچواکر اس سے کمیشن لینا کیسا؟  / مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بیوپاری کا مال بچواکر اس سے کمیشن لینا کیسا؟

الاستفتاء السلام علیکم حضرت ہمارے یہاں بکروں کا کاروبار اس طرح کیا جاتا ہے کہ ایک بیپاری بکرے لےکر آتا ہے ، ان بکروں کو بیچنے کے لیے ایک دلال ہوتا ہے اس دلال کا کام یہ ہوتا ہے وہ بکرے خریدنے والے کسائی سے بات کرتا ہے کہ یہ بکرے اتنے کے ہیں، جب کسائی پیسے بتاتا ہے تو وہ بیپاری سے کان میں بات کرتا ہے بیپاری اگر راضی ہوتا ہے تو وہ بکرے اس کسائی کو دیدیے جاتے ہے اور یہ دلال کسائی سے پندرہ بیس دن یا ایک مہینہ بعد ان بکروں کے پیسے لیتا ہے ۔ لیکن دلال اس بیپاری کو اسی وقت سارے پیسے دیدیتا ہے ۔ اب یہ دلال جو کسائیوں کو بکرے دلوارہا ہے اس بیپاری سے تین یا چار پرسینٹ منافع لیتا ہے کیا یہ منافع لینا درست ہے یا نہیں ۔ المستسفی: محمد حسن . وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجوابـــــــــــــــــ ہاں دلال اس بیوپاری سے کمیشن لے سکتا ہے جبکہ اس کابکرا بچوانے میں وہ آیا گیا ہو، محنت کی ہو اور اس کام میں اپنا وقت صرف کیاہو، ورنہ اگر گاہک سے صرف دوچار باتیں کہہ دی ہوں یا صلاح مشورہ دے دیاہو تو اجرت کا مستحق نہیں ۔ ●زید اجرت کے طور پر اجرت مثل پائےگا، یعنی اتنی مزدوری پر جتنی اجرت وہاں کے لوگ بطور کمیشن دیتے ہوں اتنی اجرت پائے گا ۔ اگرچہ اجرت کتنی ہی کیوں نہ پرسینٹ٪ طے ہوئی ہو ۔ اسی طرح اجرت اگر اجرت مثل سے کم پر طے ہوئی تھی تو جتنی طے ہوئی تھی وہی پائے گا کہ وہ اس پر خود راضی ہوا ۔ ● اس طرح کمیشن لیناجائز ہے، لیکن اگر کمیشن لینے والا دلال بیوپاری اور خریدار کے درمیان جھوٹ بول کر بیع/خریدوفروخت کرائے تو یہ ناجائز وحرام ہے ۔ مثلاً بیوپاری سے قیمت طے کیا اور خریدار سے اس سے زیادہ بتایا تو یہ جائز نہیں اور اس کا کمیشن لینا بھی ناجائز و حرام کہ اس نے جھوٹ بول کر کمیشن وصول کیا ۔ فتاوی رضویہ میں ہے :اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے، دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے مشورہ دینے کی ۔ إلخ. اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکا خانیہ میں ہے:ان کان الدلال الاول عرض تعنٰی وذھب فی ذٰلک روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ ۔ إلخ. (مترجم،ج:١٩،ص:٤٥٢،کتاب الاجارہ،رضافاؤنڈیشن،جامعہ نظامیہ لاہور،) اس مسئلے کی تفصیل کےلیے فتاوی رضویہ کا مطالعہ کیاجاسکتاہے، اس کا کچھ ذکر فتاوی فقیہ ملت،ج:٢،ص:١٩١/١٩٠،(شبیر برادرز، اردو بازار لاہور) پر بھی موجود ہے ۔ واللہ تعالی اعلم. کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا 4/دسمبر،2021بروزسنیچر. 📲+263780498811

Kutubahu & Verified by:

<h2>بیوپاری کا مال بچواکر اس سے کمیشن لینا کیسا؟</h2> الاستفتاء السلام علیکم حضرت ہمارے یہاں بکروں کا کاروبار اس طرح کیا جاتا ہے کہ ایک بیپاری بکرے لےکر آتا ہے ، ان بکروں کو بیچنے کے لیے ایک دلال ہوتا ہے اس دلال کا کام یہ ہوتا ہے وہ بکرے خریدنے والے کسائی سے بات کرتا ہے کہ یہ بکرے اتنے کے ہیں، جب کسائی پیسے بتاتا ہے تو وہ بیپاری سے کان میں بات کرتا ہے بیپاری اگر راضی ہوتا ہے تو وہ بکرے اس کسائی کو دیدیے جاتے ہے اور یہ دلال کسائی سے پندرہ بیس دن یا ایک مہینہ بعد ان بکروں کے پیسے لیتا ہے ۔ لیکن دلال اس بیپاری کو اسی وقت سارے پیسے دیدیتا ہے ۔ اب یہ دلال جو کسائیوں کو بکرے دلوارہا ہے اس بیپاری سے تین یا چار پرسینٹ منافع لیتا ہے کیا یہ منافع لینا درست ہے یا نہیں ۔ المستسفی: محمد حسن . وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــ</strong></span> ہاں دلال اس بیوپاری سے کمیشن لے سکتا ہے جبکہ اس کابکرا بچوانے میں وہ آیا گیا ہو، محنت کی ہو اور اس کام میں اپنا وقت صرف کیاہو، ورنہ اگر گاہک سے صرف دوچار باتیں کہہ دی ہوں یا صلاح مشورہ دے دیاہو تو اجرت کا مستحق نہیں ۔ ●زید اجرت کے طور پر اجرت مثل پائےگا، یعنی اتنی مزدوری پر جتنی اجرت وہاں کے لوگ بطور کمیشن دیتے ہوں اتنی اجرت پائے گا ۔ اگرچہ اجرت کتنی ہی کیوں نہ پرسینٹ٪ طے ہوئی ہو ۔ اسی طرح اجرت اگر اجرت مثل سے کم پر طے ہوئی تھی تو جتنی طے ہوئی تھی وہی پائے گا کہ وہ اس پر خود راضی ہوا ۔ ● اس طرح کمیشن لیناجائز ہے، لیکن اگر کمیشن لینے والا دلال بیوپاری اور خریدار کے درمیان جھوٹ بول کر بیع/خریدوفروخت کرائے تو یہ ناجائز وحرام ہے ۔ مثلاً بیوپاری سے قیمت طے کیا اور خریدار سے اس سے زیادہ بتایا تو یہ جائز نہیں اور اس کا کمیشن لینا بھی ناجائز و حرام کہ اس نے جھوٹ بول کر کمیشن وصول کیا ۔ فتاوی رضویہ میں ہے :اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے، دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے مشورہ دینے کی ۔ إلخ. اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکا خانیہ میں ہے:ان کان الدلال الاول عرض تعنٰی وذھب فی ذٰلک روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ ۔ إلخ. (مترجم،ج:١٩،ص:٤٥٢،کتاب الاجارہ،رضافاؤنڈیشن،جامعہ نظامیہ لاہور،) اس مسئلے کی تفصیل کےلیے فتاوی رضویہ کا مطالعہ کیاجاسکتاہے، اس کا کچھ ذکر فتاوی فقیہ ملت،ج:٢،ص:١٩١/١٩٠،(شبیر برادرز، اردو بازار لاہور) پر بھی موجود ہے ۔ واللہ تعالی اعلم. <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>4/دسمبر،2021بروزسنیچر.</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>📲+263780498811</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...