01
The questionSawaal
اصل سوالبیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل سکتی ہے یا نہیں؟
02
The responseAl-Jawab
بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل سکتی ہے یا نہیں؟اگر نکل سکتی ہے تو کن ضروریات کے لئے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ سوال عرض یہ ہے کہ کا بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل سکتی ہے یا نہیں ۔ اگر نکل سکتی ہے تو کن ضروریات کے لئے نکل سکتی ہے وضاحت فرمائیں ۔ عین و کرم ہوگا ۔ سائل: افضل حسین ۔ مرادآباد یوپی الجواب بعون الملك الوهاب اگر عورت کا مہر معجل تھا اور شوہر نے ابھی ادا نہیں کیا توتا دم ادائے مہر وہ آزاد ہے اگر شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جاتی ہے تو شوہر کو روکنے کا اختیار نہ ہوگا-لیکن اگر شوہر نے مہر ادا کر دیا ہے تو پھر چند مواضع ایسے ہیں جن میں شوہر کی اجازت کے بغیر بھی جا سکتی ہے مثلا والدین کے یہاں آٹھویں دن اور ان کے علاوہ دیگر محارم کے یہاں سال میں ایک بار وہ بھی صرف دن کو جائے اور رات کو واپس آجائے شوہر کی اجازت کے بغیر رات نہیں رہ سکتی-ان کے علاوہ کسی جگہ بھی شوہر کی اجازت کے بغیر نہیں جا سکتی اگر جائے گی تو گنہگار ہوگی اور ان دنوں کا نفقہ بھی شوہر پر واجب نہ ہوگا- ہاں غیر محارم کے یہاں جانا یا ان کی عیادت کرنا یا انکی شادی وغیرہ تقریبوں میں شرکت کرنا شوہر کی اجازت کے باوجود بھی عورت کے لئے ناجائز ہے -شوہر کو چاہیے کہ منع کرے اگر منع کرنے کے باوجود جاتی ہے تو وہ گنہگار ہوگی لیکن اگر شوہر خود ہی جانے کی اجازت دیتا ہے تو دونوں گنہگار ہونگے- در مختار میں ہے”لها الخروج من بيت زوجها للحاجة لها زيارة أهلها بلا اذنه مالم تقبض المعجل فلا تخرج الا لحق لها أو عليها أو زيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة أو لكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذالك”(ج ۳ ص ۱۵۹/المكتبة الشيعية) اور فتاوی رضویہ میں ہے “بہر حال حکم یہی ہے کہ دستاویز مذکور مہمل وباطل اور رقیہ بیگم کو تا ادائے مہر معجل اپنے ماں باپ کے گھر رہنے اور شوہر کو ہاتھ نہ لگا دینے کا خود ہی اختیار حاصل اور بعد ایفائے تمام مہر معجل رقیہ بیگم کا یہ اختیار یک لخت زائل-ہاں والدین کے یہاں آٹھویں دن بے اجازت شوہر بھی جاسکتی ہے کہ دن کے دن رہے اور رات کو چلی آئے-رد المحتار میں ہے فى البحر الصحيح المفتى به أنها تخرج للوالدين فى كل جمعة باذنه وبدونه للمحارم فى كل سنة مرة باذنه وبدونه”(ج ۵ ص۸۹۵ تا ۸۹۶) اعلی حضرت قدس سرہ العزیز مزید رقم طراز ہیں: “اگر مہر معجل نہ تھا یا جس قدر معجل تھا ادا ہوگیا تو چند مواضع حاجت شرعیہ جن کا استثنا فرمادیا گیا مثلا والدین کے یہاں آٹھویں دن دیگر محارم کے یہاں سال پیچھے دن کے دن کو جانا اور شب شوہر ہی کے کرنا وغیر ذالک ان کے سوا کسی جگہ عورت کو بے اذن شوہر جانے کی اجازت نہیں اگر جائے گی تو گنہ گار ہوگی شوہر روکنے کا اختیار رکھتا ہے”(احکام شریعت ح۲ ص ۱۸۳/ ناشر:امام احمد رضا اکیڈمی،صالح نگر بریلی شریف) حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی عليه الرحمه تحریر فرماتے ہیں “عورت اپنے والدین کے یہاں ہر ہفتہ میں ایک بار اور دیگر محارم کے یہاں سال میں ایک بار جاسکتی ہے،مگر رات میں بغیر اجازت شوہر وہاں نہیں رہ سکتی،دن ہی دن میں واپس آئے اور والدین یا محارم اگر فقط دیکھنا چاہیں تو اس سے کسی وقت منع نہیں کرسکتا-اور غیروں کے یہاں جانے یا انکی عیادت کرنے یا شادی وغیرہ تقریبوں کی شرکت سے منع کرے بغیر اجازت جائی گی تو گنہگار ہوگی اور اجازت سے گئی تو دونوں گنہگار ہوئے”(بہار شریعت ج ۲ ح ۸ ص ۲۷۲ مكتبة المدينة دعوت اسلامی) حاصل یہ ہے کہ اگر عورت کا مہر معجل تھا اور شوہر نے ادا کر دیا یا مہر معجل تھا ہی نہیں تو پھر ضرورت شرعیہ کے چند مواضع جو مذکورہ بالا سطور میں تفصیلا بیان ہوچکے ان کے علاوہ کسی بھی جگہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر نہیں جا سکتی اگر جائے گی تو گنہگار ہوگی-واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ. محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ،نیروجال،راجوری،جموں وکشمیر۔مقیم حال اجمیر معلی زادھا اللہ تعالی فضلا وشرفا الجواب صحیح :کمال احمد علیمی نظامی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.