Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1379
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.2K Views
بیوی کو مارنا پیٹنا اور نہ اسے اپنے پاس رکھنا نہ طلاق دینا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بیوی کو مارنا پیٹنا اور نہ اسے اپنے پاس رکھنا نہ طلاق دینا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بیوی کو مارنا پیٹنا اور نہ اسے اپنے پاس رکھنا نہ طلاق دینا کیسا ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان ملت اس مسئلہ میں میں ایک لڑکی کی شادی ہوئے گیارہ سال بیت گئے مگر شوہر کے پاس وہ صرف تین سال رہی اور اس عرصہ میں ایک لڑکا بھی پیدا ہوا تھا مگر شوہر نے لڑکی کو بہت ستا نا مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور شراب پینا، جوا کھیلنا شروع کر دیا تھا جس سے تنگ آکر لڑکی اپنے بھائی کے پاس آ گئی اور اس کے ماں باپ بھی مر چکے ہیں صرف بھائی ہے اب بھائی کے پاس آئے ہوئے آٹھ سال ہو گئے. شوہر نہ تو طلاق دیتا ہے اور اگر لڑکی خلع مانگتی ہے تو خلع بھی نہیں دیتا ہے بلکہ ایسی حالت میں لڑتا بولتا رہتا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا ہے ہے ایسی حالت میں وہ لڑکی کیا کرے کیا وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے یا وہ کیا کرے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تو بہت نوازش ہوگی. الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ سوال میں درج باتیں صحیح ہیں تو طرفین کے پنچوں کے ذریعے دونوں میں مصالحت اور شوہر کی اصلاح کی کوشش ہونی چاہیے ۔ اگر شوہر اصلاح پذیر نہ ہو تو حکم ہوگا کہ لڑکی صبر کرے اور اگر صبر پر آمادہ نہ ہو تو وہ کسی طرح شوہر سے طلاق حاصل کرے یا خلع کرائے اس کے بعد عدت گزار کر دوسرا نکاح کر سکتی ہے بغیر اس کے دوسرا نکاح باطل محض ہوگا. اور شوہر پر فرض ہے کہ یا تو صحیح طریقے پر اسے رکھے یا طلاق دے دے ۔ اگر وہ خود ایسا نہ کرے تو تمام مسلمان اس کا سماجی بائیکاٹ کر دیں اور اسے اس بات پر مجبور کر دیں کہ دونوں میں سے ایک کو اختیار کرے اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو وہ بھی گناہ گار ہوں گے. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی فیض محمد قادری مصباحی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
Kutubahu & Verified by:
<h3>بیوی کو مارنا پیٹنا اور نہ اسے اپنے پاس رکھنا نہ طلاق دینا کیسا ہے؟</h3> سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان ملت اس مسئلہ میں میں ایک لڑکی کی شادی ہوئے گیارہ سال بیت گئے مگر شوہر کے پاس وہ صرف تین سال رہی اور اس عرصہ میں ایک لڑکا بھی پیدا ہوا تھا مگر شوہر نے لڑکی کو بہت ستا نا مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور شراب پینا، جوا کھیلنا شروع کر دیا تھا جس سے تنگ آکر لڑکی اپنے بھائی کے پاس آ گئی اور اس کے ماں باپ بھی مر چکے ہیں صرف بھائی ہے اب بھائی کے پاس آئے ہوئے آٹھ سال ہو گئے. شوہر نہ تو طلاق دیتا ہے اور اگر لڑکی خلع مانگتی ہے تو خلع بھی نہیں دیتا ہے بلکہ ایسی حالت میں لڑتا بولتا رہتا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا ہے ہے ایسی حالت میں وہ لڑکی کیا کرے کیا وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے یا وہ کیا کرے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تو بہت نوازش ہوگی. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> سوال میں درج باتیں صحیح ہیں تو طرفین کے پنچوں کے ذریعے دونوں میں مصالحت اور شوہر کی اصلاح کی کوشش ہونی چاہیے ۔ اگر شوہر اصلاح پذیر نہ ہو تو حکم ہوگا کہ لڑکی صبر کرے اور اگر صبر پر آمادہ نہ ہو تو وہ کسی طرح شوہر سے طلاق حاصل کرے یا خلع کرائے اس کے بعد عدت گزار کر دوسرا نکاح کر سکتی ہے بغیر اس کے دوسرا نکاح باطل محض ہوگا. اور شوہر پر فرض ہے کہ یا تو صحیح طریقے پر اسے رکھے یا طلاق دے دے ۔ اگر وہ خود ایسا نہ کرے تو تمام مسلمان اس کا سماجی بائیکاٹ کر دیں اور اسے اس بات پر مجبور کر دیں کہ دونوں میں سے ایک کو اختیار کرے اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو وہ بھی گناہ گار ہوں گے. واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی فیض محمد قادری مصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...