Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1409 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.4K Views

بیوی کی ناک کو بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینے سے ظہار ہوگا یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بیوی کی ناک کو بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینے سے ظہار ہوگا یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بیوی کی ناک کو بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینے سے ظہار ہوگا یا نہیں؟

سوال:- کسی نےاپنی بیوی سے کہا کہ تیری ناک میری بہن کی پشت کی طرح ہے تو ظہار ہوگا یا نہیں؟ الجواب بعون الملك الوهاب: بیوی کی ناک کو بہن کی پشت سے تشبیہ دینے سے ظہار نہیں ہوگا کیونکہ ناک ایساعضو نہیں ہے جس سے کل جسم کو تعبیر کیا جاتا ہو اور نہ ہی وہ جزو شائع ہے مثلا نصف،ربع وثلث،اور ظہار کہتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی یا اسکے کسی ایسے عضو کو جس کو کل جسم سے تعبیر کیا جاتا ہو یا اس کے کسی جزو شائع کو کسی محرم ابدی کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دے جسکو دیکھنا حرام ہو مثلا یہ کہے کہ تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے “الظہار ھو تشبیه الزوجة او جزء منها شائع او معبر به عن الكل بما لا يحل النظر اليه من المحرمة على التابيد ولو برضاع او صهرية كذا فى فتح القدير”(ج۱ ص۵۰۵) نیز اسی میں ہے ۔ “اذا ذكر جزء لا يعبر به عن جميع البدن كاليد والرجل لم يثبت الظهار كذا فى محيط السرخسى(ج ۱ ص ۵۰۶) اور در مختار میں ہے ۔ “وشرعا تشبیه المسلم فلا ظهار لذمي عندنا زوجته ولو كتابية او صغيرة او مجنونة او تشبيه ما يعبر به عنها من اعضائها و تشبيه جزء شائع منها بمحرم عليه تابيدا”(ج۵ ص ۱۲۵) فتاوی عالمگیری اور صاحب درمختار کے قول کے مطابق بیوی کی انف(ناک) کو کسی محرم ابدی کی ظھر(پشت)سے تشبیہ دینے سے ظہار نہیں ہوگا کیونکہ انف عربی زبان میں کوئی ایسا عضو نہیں ہے جس سے کل جسم کو تعبیر کیا جاتا ہو اور نہ ہی وہ جزو شائع ہے مگر ناک کو اردو میں کل سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اعلحضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تیری ناک کو طلاق تو طلاق ہو جانی چاہیے لہذا امام اہلسنت رحمہ اللہ کی اس تحقیق کے مطابق اگر کسی نے بیوی کی ناک کو کسی محرم ابدی کی پشت سے تشبیہ دی تو ظہار ہوجائے گا ۔ فتاوی رضویہ میں ہے ۔ ” اور ہمارے یہاں کا یہ عام محاورہ ہے کہ فلاں شخص شہر بھر کی ناک ہے،خاندان کی ناک ہے،عورت موم کی ناک ہے،تو ظاہر اس میں طلاق ہو جانا چاہیے”(فتاوی رضویہ مترجم ج۱۲ ص ۵۴۲ تا۵۴۳) واللہ تعالی أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقه الاسلامی بدار العلوم العلیمیه الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ۱۳/فروری ۲۰۲۰ء

Kutubahu & Verified by:

<h3>بیوی کی ناک کو بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینے سے ظہار ہوگا یا نہیں؟</h3> سوال:- کسی نےاپنی بیوی سے کہا کہ تیری ناک میری بہن کی پشت کی طرح ہے تو ظہار ہوگا یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب:</strong></span> بیوی کی ناک کو بہن کی پشت سے تشبیہ دینے سے ظہار نہیں ہوگا کیونکہ ناک ایساعضو نہیں ہے جس سے کل جسم کو تعبیر کیا جاتا ہو اور نہ ہی وہ جزو شائع ہے مثلا نصف،ربع وثلث،اور ظہار کہتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی یا اسکے کسی ایسے عضو کو جس کو کل جسم سے تعبیر کیا جاتا ہو یا اس کے کسی جزو شائع کو کسی محرم ابدی کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دے جسکو دیکھنا حرام ہو مثلا یہ کہے کہ تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>فتاوی عالمگیری میں ہے "الظہار ھو تشبیه الزوجة او جزء منها شائع او معبر به عن الكل بما لا يحل النظر اليه من المحرمة على التابيد ولو برضاع او صهرية كذا فى فتح القدير"(ج۱ ص۵۰۵)</strong></span> <strong><span style="color: #ff0000;">نیز اسی میں ہے ۔ "اذا ذكر جزء لا يعبر به عن جميع البدن كاليد والرجل لم يثبت الظهار كذا فى محيط السرخسى(ج ۱ ص ۵۰۶)</span></strong> <span style="color: #ff0000;"><strong>اور در مختار میں ہے ۔ "وشرعا تشبیه المسلم فلا ظهار لذمي عندنا زوجته ولو كتابية او صغيرة او مجنونة او تشبيه ما يعبر به عنها من اعضائها و تشبيه جزء شائع منها بمحرم عليه تابيدا"(ج۵ ص ۱۲۵)</strong></span> فتاوی عالمگیری اور صاحب درمختار کے قول کے مطابق بیوی کی انف(ناک) کو کسی محرم ابدی کی ظھر(پشت)سے تشبیہ دینے سے ظہار نہیں ہوگا کیونکہ انف عربی زبان میں کوئی ایسا عضو نہیں ہے جس سے کل جسم کو تعبیر کیا جاتا ہو اور نہ ہی وہ جزو شائع ہے مگر ناک کو اردو میں کل سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اعلحضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تیری ناک کو طلاق تو طلاق ہو جانی چاہیے لہذا امام اہلسنت رحمہ اللہ کی اس تحقیق کے مطابق اگر کسی نے بیوی کی ناک کو کسی محرم ابدی کی پشت سے تشبیہ دی تو ظہار ہوجائے گا ۔ فتاوی رضویہ میں ہے ۔ " اور ہمارے یہاں کا یہ عام محاورہ ہے کہ فلاں شخص شہر بھر کی ناک ہے،خاندان کی ناک ہے،عورت موم کی ناک ہے،تو ظاہر اس میں طلاق ہو جانا چاہیے"(فتاوی رضویہ مترجم ج۱۲ ص ۵۴۲ تا۵۴۳) واللہ تعالی أعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقه الاسلامی بدار العلوم العلیمیه</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ۱۳/فروری ۲۰۲۰ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...