Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1720 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.7K Views

بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے

السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ۔ عرض ہے کہ زید کی بیوی کے پاس پندرہ تولہ سونا ہے جس کی زکاة اس کا شوھر ہمیشہ دیتا ہے۔ اس سال اس کے شوہر پر بیس لاکھ کا قرض ہے پھر بھی وہ زکاة دینا چاھتا ہے۔ جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔ (مولانا) محمد کلیم اشرف رضوی علیمی، بنگلور۔ الجوابـــــــــــــــ عورت اگر مالک نصاب ہے تو اس کے زیورات کی زکاة خود اسی پر واجب ہے۔یوں ہی صدقہ فطر اور قربانی بھی اسی پر واجب ہے ،یہ سب چیزیں اس کے شوہر پر واجب نہیں۔ ہاں! بیوی کی اجازت سے اس کی زکاة اور صدقہ فطر کی ادائیگی اور قربانی شوہر کرسکتا ہے۔ اس لیے جب پندرہ تولہ سونا کی مالک بیوی ہے تو اس سونے کی زکاة اسی پر واجب ہے اور شوہر کے اوپر بیس لاکھ قرض ہونے سے اس کی عورت کے اوپر سے زکاة ساقط نہ ہوگی۔ہاں! اگر یہ قرض بیوی پر ہوتا اور اس کے پاس ان سونوں کے علاوہ اور اتنا مال زکاة نہ ہوتا کہ قرض کی مقدار نکالنے کے بعد سالِ زکاة مکمل ہونے پر نصاب کی مقدار بچتا تو اس پر زکاة واجب نہ ہوتی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ، بستی۔ یوپی۔ مجریہ١٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ//١۴/اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے</h2> السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ۔ عرض ہے کہ زید کی بیوی کے پاس پندرہ تولہ سونا ہے جس کی زکاة اس کا شوھر ہمیشہ دیتا ہے۔ اس سال اس کے شوہر پر بیس لاکھ کا قرض ہے پھر بھی وہ زکاة دینا چاھتا ہے۔ جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔ (مولانا) محمد کلیم اشرف رضوی علیمی، بنگلور۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــ</strong></span> عورت اگر مالک نصاب ہے تو اس کے زیورات کی زکاة خود اسی پر واجب ہے۔یوں ہی صدقہ فطر اور قربانی بھی اسی پر واجب ہے ،یہ سب چیزیں اس کے شوہر پر واجب نہیں۔ ہاں! بیوی کی اجازت سے اس کی زکاة اور صدقہ فطر کی ادائیگی اور قربانی شوہر کرسکتا ہے۔ اس لیے جب پندرہ تولہ سونا کی مالک بیوی ہے تو اس سونے کی زکاة اسی پر واجب ہے اور شوہر کے اوپر بیس لاکھ قرض ہونے سے اس کی عورت کے اوپر سے زکاة ساقط نہ ہوگی۔ہاں! اگر یہ قرض بیوی پر ہوتا اور اس کے پاس ان سونوں کے علاوہ اور اتنا مال زکاة نہ ہوتا کہ قرض کی مقدار نکالنے کے بعد سالِ زکاة مکمل ہونے پر نصاب کی مقدار بچتا تو اس پر زکاة واجب نہ ہوتی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>مجریہ١٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ//١۴/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...