Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1065 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.1K Views

بیٹھ کر نماز پڑھنے والا رکوع کیسے کرے ؟ رکوع میں سرین اٹھاے تو نماز ہوگی یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بیٹھ کر نماز پڑھنے والا رکوع کیسے کرے ؟ رکوع میں سرین اٹھاے تو نماز ہوگی یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بیٹھ کر نماز پڑھنے والا رکوع کیسے کرے ؟

سوال : بیٹھ کر نماز پڑھے تو رکوع میں کتنا جھکے؟ اور اس حالت میں اگر سرین اٹھائے تو کیا حکم ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ بیٹھ کر نماز پڑھے تو رکوع کا درجہ کمال و طریقہ اعتدال یہ ہے کہ پیشانی جھک کر گھٹنوں کے مقابل آ جائے. علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں في حاشيه الفتال عن البرجندي لو كان يصلي قاعدا ينبغي ان يحاذي جبهته قدام ركبتيه ليحصل الركوع ١ھ قلت ولعله محمول على تمام الركوع والا فقد علمت حصوله باصل طاطاۃ الراس مع انحناء الظھر تامل (رد المحتار جلد اول صفحہ 300) اس حالت میں سرین اٹھانا فعل عبث ہے جو کم سے کم مکروہ تنزیہی ضرور ہے ۔ هكذا قال الامام احمد رضا البریلوی في الجزء الثالث من الفتاوى الرضويه ۔ هذا ما عندي وهو اعلم بالصواب کتبــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجـــــدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 250

Kutubahu & Verified by:

<h2>بیٹھ کر نماز پڑھنے والا رکوع کیسے کرے ؟</h2> سوال : بیٹھ کر نماز پڑھے تو رکوع میں کتنا جھکے؟ اور اس حالت میں اگر سرین اٹھائے تو کیا حکم ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> بیٹھ کر نماز پڑھے تو رکوع کا درجہ کمال و طریقہ اعتدال یہ ہے کہ پیشانی جھک کر گھٹنوں کے مقابل آ جائے. علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں <span style="color: #ff0000;"><strong>في حاشيه الفتال عن البرجندي لو كان يصلي قاعدا ينبغي ان يحاذي جبهته قدام ركبتيه ليحصل الركوع ١ھ قلت ولعله محمول على تمام الركوع والا فقد علمت حصوله باصل طاطاۃ الراس مع انحناء الظھر تامل (رد المحتار جلد اول صفحہ 300)</strong></span> اس حالت میں سرین اٹھانا فعل عبث ہے جو کم سے کم مکروہ تنزیہی ضرور ہے ۔ هكذا قال الامام احمد رضا البریلوی في الجزء الثالث من الفتاوى الرضويه ۔ هذا ما عندي وهو اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجـــــدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 250</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...