Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1339 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.8K Views

تحریر میں لکھا میں اس کو طلاق دیتا ہوں تو حلالہ کی صورت؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

تحریر میں لکھا میں اس کو طلاق دیتا ہوں تو حلالہ کی صورت؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

تحریر میں لکھا میں اس کو طلاق دیتا ہوں تو حلالہ کی صورت؟

کیا عورت عدت میں گھر سے نکل سکتی ہے؟

مسئلہ:- از: محمد سلیم، أنصار نگر، لال گنج بازار، بستی۔ سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ غلام جیلانی نے اپنی مدخولہ بیوی کے بارے میں مندرجہ ذیل تحریر لکھی۔” غلام جیلانی کے ساتھ نور جہاں کی شادی ہوئی تھی اب تک کسی طرح سے ہم دونوں کا گزر ہوا۔ اب نہیں ہونے والا ہے کسی بھی قیمت پہ میں اس کو طلاق دیتا ہوں ۔ میں اس کا طلاق دیتا ہوں۔ میں اس کا طلاق دیتا ہوں” جب اس تحریر کے مضمون کا نور جہاں کو علم ہوا تو وہ اپنے میکہ چلی گئی اس پر غلام جیلانی بہت پریشان ہوا تو اس کے چچا تیسرے دن نور جہاں کو اس کے میکہ سے واپس لائے اور غلام جیلانی و نور جہاں دونوں کو سخت تاکید کی کہ خبردار ایک دوسرے کے قریب نہ ہونا اور نہ ایک دوسرے سے بات کرنا تو اپنے چچا کی تاکید کے مطابق دونوں ایک دوسرے کے قریب نہ ہونا اور نہ ایک دوسرے سے بات کرنا یہاں تک کہ سات دن بعد غلام جیلانی دوسرے شہر میں کمانے کے لئے چلا گیا ۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں تحریر مذکور سے غلام جیلانی کی بیوی پر طلاق پڑی یا نہیں اگر پڑی تو کون سی طلاق اور غلام جیلانی اگر رکھنا چاہیے تو کیا صورت ہے اور غلام جیلانی اسے پھر رکھنا چاہے تو کیا صورت ہے اور غلام جیلانی کے چچا جو نورجہاں کو اس کے میکے سے واپس لائے اور وہ غلام جیلانی کے گھر ایک ہفتہ رہی پھر وہ دوسرے شہر میں گیا یا تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں غلام جیلانی کی بیوی پر طلاق مغلظہ پڑگئی اب بغیر حلالہ نورجہاں اس کے لئے حلال نہیں ۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” (پ۲ ع۱۳) حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد نورجہاں کسی سنی صحیح العقیدہ سے صحیح نکاح کرے۔ دوسرا شوہر اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے۔ پھر وہ مر جائے یا طلاق دے دے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ غلام جیلانی سے نکاح کر سکتی ہے ۔ اگر شوہر ثانی نے بغیر ہمبستری طلاق دیدی یا مر گیا تو حلالہ صحیح نہیں ہوگا۔ كما في حديث العسيلة” پارہ ۲۸ سورہ طلاق کی پہلی آیت کریمہ میں ہے:” لا تخرجوهن من بيوتهم ولا يخرجن الا أن يأتين بفاحشة مبينة. “ یعنی طلاق والی عورت کو ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلے مگر یہ کی کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں۔ لہذا غلام جیلانی کے چچا نورجہاں کو عدت گزارنے کے لیے جو اس کے میکے سے واپس لائے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے قریب ہونے اور بات کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا تو قرآن مجید کے حکم پر عمل کیا۔عورت کو طلاق کے بعد زمانۂ عدت میں شوہر کے گھر سے نکالنا یا اس کو خود نکلنا اس صورت میں جائز ہے جب کہ برائی کا اندیشہ ہو۔ غلام جیلانی دوسرے شہر میں چلا گیا تو بہتر کیا اگر نورجہاں کو وہ دوبارہ اپنے نکاح میں لانا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ جب تک حلالہ کی عدت نہ گزر جائے اور وہ نور جہاں سے دوبارہ نکاح نہ کر ے۔ اپنے گھر پر رات نہ گزارے تاکہ لوگ بدگمانی میں مبتلا نہ ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>تحریر میں لکھا میں اس کو طلاق دیتا ہوں تو حلالہ کی صورت؟</h3> <h3>کیا عورت عدت میں گھر سے نکل سکتی ہے؟</h3> مسئلہ:- از: محمد سلیم، أنصار نگر، لال گنج بازار، بستی۔ سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ غلام جیلانی نے اپنی مدخولہ بیوی کے بارے میں مندرجہ ذیل تحریر لکھی۔" غلام جیلانی کے ساتھ نور جہاں کی شادی ہوئی تھی اب تک کسی طرح سے ہم دونوں کا گزر ہوا۔ اب نہیں ہونے والا ہے کسی بھی قیمت پہ میں اس کو طلاق دیتا ہوں ۔ میں اس کا طلاق دیتا ہوں۔ میں اس کا طلاق دیتا ہوں" جب اس تحریر کے مضمون کا نور جہاں کو علم ہوا تو وہ اپنے میکہ چلی گئی اس پر غلام جیلانی بہت پریشان ہوا تو اس کے چچا تیسرے دن نور جہاں کو اس کے میکہ سے واپس لائے اور غلام جیلانی و نور جہاں دونوں کو سخت تاکید کی کہ خبردار ایک دوسرے کے قریب نہ ہونا اور نہ ایک دوسرے سے بات کرنا تو اپنے چچا کی تاکید کے مطابق دونوں ایک دوسرے کے قریب نہ ہونا اور نہ ایک دوسرے سے بات کرنا یہاں تک کہ سات دن بعد غلام جیلانی دوسرے شہر میں کمانے کے لئے چلا گیا ۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں تحریر مذکور سے غلام جیلانی کی بیوی پر طلاق پڑی یا نہیں اگر پڑی تو کون سی طلاق اور غلام جیلانی اگر رکھنا چاہیے تو کیا صورت ہے اور غلام جیلانی اسے پھر رکھنا چاہے تو کیا صورت ہے اور غلام جیلانی کے چچا جو نورجہاں کو اس کے میکے سے واپس لائے اور وہ غلام جیلانی کے گھر ایک ہفتہ رہی پھر وہ دوسرے شہر میں گیا یا تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسئولہ میں غلام جیلانی کی بیوی پر طلاق مغلظہ پڑگئی اب بغیر حلالہ نورجہاں اس کے لئے حلال نہیں ۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے:<span style="color: #ff0000;"><strong> فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره."</strong></span> (پ۲ ع۱۳) حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد نورجہاں کسی سنی صحیح العقیدہ سے صحیح نکاح کرے۔ دوسرا شوہر اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے۔ پھر وہ مر جائے یا طلاق دے دے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ غلام جیلانی سے نکاح کر سکتی ہے ۔ اگر شوہر ثانی نے بغیر ہمبستری طلاق دیدی یا مر گیا تو حلالہ صحیح نہیں ہوگا۔ كما في حديث العسيلة" پارہ ۲۸ سورہ طلاق کی پہلی آیت کریمہ میں ہے:<span style="color: #ff0000;"><strong>" لا تخرجوهن من بيوتهم ولا يخرجن الا أن يأتين بفاحشة مبينة. "</strong></span> یعنی طلاق والی عورت کو ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلے مگر یہ کی کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں۔ لہذا غلام جیلانی کے چچا نورجہاں کو عدت گزارنے کے لیے جو اس کے میکے سے واپس لائے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے قریب ہونے اور بات کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا تو قرآن مجید کے حکم پر عمل کیا۔عورت کو طلاق کے بعد زمانۂ عدت میں شوہر کے گھر سے نکالنا یا اس کو خود نکلنا اس صورت میں جائز ہے جب کہ برائی کا اندیشہ ہو۔ غلام جیلانی دوسرے شہر میں چلا گیا تو بہتر کیا اگر نورجہاں کو وہ دوبارہ اپنے نکاح میں لانا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ جب تک حلالہ کی عدت نہ گزر جائے اور وہ نور جہاں سے دوبارہ نکاح نہ کر ے۔ اپنے گھر پر رات نہ گزارے تاکہ لوگ بدگمانی میں مبتلا نہ ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...