Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1698 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.1K Views

تراویح میں تیسری رکعت پر سلام پھیرا تو کیا حکم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

تراویح میں تیسری رکعت پر سلام پھیرا تو کیا حکم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

تراویح میں تیسری رکعت پر سلام پھیرا تو کیا حکم ہے؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ مفتی صاحب! اگر کسی امام نے تین رکعت تراویح پڑھاٸی اور قعدہ کرکے سلام پھیر دیا ، پھر یاد آنے پر کسی سے بات چیت کیے بغیرکھڑا ہوگیا اور ایک رکعت مکمل کرکے سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلیا تو کیا ایسی صورت نماز ہوجاۓ گی اگر ہوگی تو کتنی رکعت شمار کی جاۓ گی مدلل جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرماٸیں سائل : عمر فاروق مومن الجواب: یہاں چار صورتیں ہوسکتی ہیں۔ پہلی صورت: یہ ہے کہ دوسری رکعت پر قعدہ نہ کیا اور تیسری پر سلام پھیردیا اور پھر سلام کے بعد کوئی منافی نماز (مثلا بات کرنا یا پانی پینا وغیرہ مفسد نماز) کام کے بعد چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اس صورت میں نماز نہ ہوئی اور ان رکعتوں کی جگہ چار رکعت نماز تراویح اور پڑھیں۔اوراُن رکعتوں میں جتنا قرآن مقدس پڑھا گیا ہو اُن کو پھر سے پڑھیں۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرا، اگر دوسری پر بیٹھا نہ تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رکعت پھر پڑھے۔” (بہار شریعت ح ۴ ص٦٩٩) نیز تحریر فرماتے ہیں: “اگر کسی وجہ سے نماز تراویح فاسد ہو جائے تو جتنا قرآن مجید ان رکعتوں میں پڑھا ہے اعادہ کریں تاکہ ختم میں نقصان نہ رہے۔” (ایضا) دوسری صورت: یہ ہے کہ دوسری رکعت پر قعدہ کے بعد تیسری کے لیے کھڑا اور پھر تیسری پر سلام پھیر کر منافی نماز کوئی کام کرنے کے بعد چوتھی کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اس صورت میں پہلی دو رکعتیں ہوگئیں۔ اور بعد کی دو رکعتیں نہ ہوئیں۔ان کو دوبارہ پڑھیں اور ان میں پڑھی آیتوں کو دوہرائیں۔حوالہ اوپر گزر چکا۔ کیوں کہ بہارِ شریعت کی عبارت یہ ہے: ” اگر دوسری پر بیٹھا نہ تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رکعت پھر پڑھے” جس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر دوسری پر قعدہ کرلیا تو در رکعت تراویح معتبر ہوگی۔ومفاہیم کتب الفقہ معتبرة کما نصوا علیہ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ دوسری پر قعدہ کیے بغیر تیسری کے لیے اٹھا اور سلام کے بعد کوئی منافی نماز کام کیے بغیر چوتھی کے لیے کھڑا ہوا۔ چوتھی صورت: یہ ہے کہ دوسری پر قعدہ کے بعد تیسری کے لیے کھڑا ہوا اور بعد سلام منافی نماز کوئی کام کیے بغیر چوتھی کے لیے کھڑا ہوا اور نماز پوری کی۔ ان دونوں صورتوں کا صریح ذکر کتبِ فقہ میں نظر سے نہ گزرا اور احتیاط یہ ہے کہ اگر دوسری رکعت پر قعدہ کرلیا ہے تو دو رکعتیں دوبارہ پڑھ لے اور اگر دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا ہے تو چاروں رکعتیں دوبارہ پڑھ لے۔ کیوں کہ نماز کی رکعتیں مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیرنے سے آدمی نماز سے باہر ہوجاتا ہے یا نہیں، اس بارے میں دو قول ہیں: (١): چار رکعتی نماز میں دو یا تین رکعت کو چار رکعت خیال کرتے ہوئے غلطی سے سلام پھیرا تو منافی نماز کام سے پہلے نماز سے باہر نہ ہوگا۔اور اگر چار رکعت والی نماز کو فجر یا جمعہ سمجھ کر دو رکعت پر سلام پھیردیا تو سلام پھیرنے سے نماز سے باہر ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں چار رکعت والی نماز اس طرح بن جاتی ہے کہ جب اس نے تیسری کا سجدہ کرلیا تو اب ایک رکعت اور ملانے کا حکم ہوگیا۔اس لیے اب یہ چار رکعت والی نماز قرار پائے گی۔لیکن نمازی اس نماز کو دو رکعت والی نماز سمجھ رہا ہے اور دو رکعت والی نماز سمجھ کر ہی سلام پھیرا ہے، اس لیے بہر حال یہ سلامِ عمد ہے، اور اس سلام سے وہ نماز سے باہر ہوگیا ، خواہ بعد سلام منافیِ نماز کوئی کام ہو یا نہ ہو۔ لہذا اس قول کے اعتبار سے مسئلہ دائرہ میں اگر دو پر قعدہ کرلیا ہے تو چوں کہ قعدہ اخیرہ پالیا گیا تیسری پر سلام پھیرنے سے دو رکعت تراویح درست ہوگی اور آخر والی دو رکعتیں فاسد ہیں انھیں دوبارہ پڑھے۔ اور اگر دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا ہے تو قعدہ اخیرہ نہ پائے جانے کی وجہ سے پہلی دو رکعتیں نہ ہوئیں اور سلامِ عمد ہونے کے باعث بعد کی ایک رکعت کے بعد وہ نماز سے باہر ہوگیا لہذا چاروں رکعتیں دوبارہ پڑھے۔ در مختار میں ہے: “(سَلَّمَ مُصَلِّي الظُّهْرِ) مَثَلًا (عَلَى) رَأْسِ (الرَّكْعَتَيْنِ تَوَهُّمًا) إتْمَامَهَا (أَتَمَّهَا) أَرْبَعًا (وَسَجَدَ لِلسَّهْوِ) لِأَنَّ السَّلَامَسَاهِيًا لَا يُبْطِلُ لِأَنَّهُ دُعَاءٌ مِنْ وَجْهٍ (بِخِلَافِ مَا لَوْ سَلَّمَ عَلَى ظَنِّ) أَنَّ فَرْضَ الظُّهْرِ رَكْعَتَانِ، بِأَنْ ظَنَّ (أَنَّهُ مُسَافِرٌ أَوْ أَنَّهَا الْجُمُعَةُ أَوْ كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِالْإِسْلَامِ فَظَنَّ أَنَّ فَرْضَ الظُّهْرِ رَكْعَتَانِ أَوْ كَانَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَظَنَّ أَنَّهَا التَّرَاوِيحُ فَسَلَّمَ) أَوْ سَلَّمَ ذَاكِرًا أَنَّ عَلَيْهِ رُكْنًا حَيْثُ تَبْطُلُ لِأَنَّهُ سَلَامُ عَمْدٍ. وَقِيلَ لَا تَبْطُلُ حَتَّى يَقْصِدَ بِهِ خِطَابَ آدَمِيٍّ۔” (در مختار ج٢ ص۵۵٩ ، ۵٦٠) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “قَوْلُهُ لِأَنَّهُ سَلَامُ عَمْدٍ) اسْتَشْكَلَ الْعَلَّامَةُ الْمَقْدِسِيَّ الْفَرْقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَا قَبْلَهُ فَإِنَّهُ عَمْدٌ أَيْضًا. قُلْت: وَذَكَرَ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ الْفَرْقَ بِأَنَّهُ فِي الْأَوَّلِ سَلَّمَ عَلَى ظَنِّ إتْمَامِ الْأَرْبَعِ فَيَكُونُ سَلَامُهُ سَهْوًا، وَهُنَا سَلَّمَ عَالِمًا بِأَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَوَقَعَ سَلَامُهُ عَمْدًا فَيَكُونُ قَاطِعًا فَلَا يَبْنِي. اهـ. وَفِي التَّتَارْخَانِيَّة أَنَّ السَّهْوَ إنْ وَقَعَ فِي أَصْلِ الصَّلَاةِ أَوْجَبَ فَسَادَهَا، وَإِنْ فِي وَصْفِهَا فَلَا، فَالْأَوَّلُ كَمَا إذَا سَلَّمَ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ عَلَى ظَنِّ أَنَّهُ فِي الْفَجْرِ أَوْ الْجُمُعَةِ أَوْ السَّفَرِ، وَالثَّانِي كَمَا إذَا سَلَّمَ عَلَيْهِمَا عَلَى ظَنِّ أَنَّهَا رَابِعَةٌ اهـ أَيْ لِأَنَّ الْعَدَدَ بِمَنْزِلَةِ الْوَصْفِ. وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ إذَا ظَنَّ أَنَّهَا الْفَجْرُ مَثَلًا يَكُونُ قَاصِدًا لِإِيقَاعِ السَّلَامِ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ فَيَكُونُ مُتَعَمِّدًا لِلْخُرُوجِ قَبْلَ إتْمَامِ الصَّلَاةِ الَّتِي شَرَعَ فِيهَا، بِخِلَافِ مَا إذَا سَلَّمَ عَلَى ظَنِّ الْإِتْمَامِ فَإِنَّهُ لَمْ يَتَعَمَّدْ إلَّا إيقَاعَهُ بَعْدَ الْأَرْبَعِ، فَوَقَعَ قَبْلَهَا سَهْوًا؛ وَبِالْجُمْلَةِ فَالسَّلَامُ مِنْ حَيْثُ ذَاتُهُ عَمْدٌ فِيهِمَا، وَمِنْ حَيْثُ مَحَلُّهُ مُخْتَلِفٌ فَتَدَبَّرْ.” (رد المحتار مع الدر ج٢ ص۵۵٩ ، ۵٦٠) (٢): دوسرا قول یہ ہے کہ نماز کی رکعتیں مکمل ہونے سے پہلے جو سلام پھیرا گیا اس سلام سے جب تک کسی آدمی کو سلام کے قصد سے سلام نہ پھیرے حرمتِ نماز سے باہر نہیں ہوگا۔اس دوسرے قول کے مطابق تیسری اور چوتھی دونوں صورتوں میں چاروں رکعتیں تراویح ہوجائیں گی لیکن اس قول کو مدقق علائی رحمہ اللہ تعالی نے “قیل” سے بیان کیا ہے جو عام طور پر مفید تضعیف ہے اور علامہ بحر اور شامی علیہما الرحمہ نے قول اول کو “وَالْأَوَّلُ الْمَجْزُومُ بِهِ فِي كُتُبٍ عَدِيدَةٍ مُعْتَمَدَةٍ.” سے تقویت دی ہے۔لہذا مذکورہ بالا احتیاط پر عمل مناسب ہے۔ ھذا ما ظھر لی والعلم بالحق عند اللہ تعالی۔ وھو سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٩/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١١/اپریل ٢٠٢٢۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>تراویح میں تیسری رکعت پر سلام پھیرا تو کیا حکم ہے؟</h2> اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ مفتی صاحب! اگر کسی امام نے تین رکعت تراویح پڑھاٸی اور قعدہ کرکے سلام پھیر دیا ، پھر یاد آنے پر کسی سے بات چیت کیے بغیرکھڑا ہوگیا اور ایک رکعت مکمل کرکے سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلیا تو کیا ایسی صورت نماز ہوجاۓ گی اگر ہوگی تو کتنی رکعت شمار کی جاۓ گی مدلل جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرماٸیں سائل : عمر فاروق مومن <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب:</strong></span> یہاں چار صورتیں ہوسکتی ہیں۔ پہلی صورت: یہ ہے کہ دوسری رکعت پر قعدہ نہ کیا اور تیسری پر سلام پھیردیا اور پھر سلام کے بعد کوئی منافی نماز (مثلا بات کرنا یا پانی پینا وغیرہ مفسد نماز) کام کے بعد چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اس صورت میں نماز نہ ہوئی اور ان رکعتوں کی جگہ چار رکعت نماز تراویح اور پڑھیں۔اوراُن رکعتوں میں جتنا قرآن مقدس پڑھا گیا ہو اُن کو پھر سے پڑھیں۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرا، اگر دوسری پر بیٹھا نہ تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رکعت پھر پڑھے۔" (بہار شریعت ح ۴ ص٦٩٩) نیز تحریر فرماتے ہیں: "اگر کسی وجہ سے نماز تراویح فاسد ہو جائے تو جتنا قرآن مجید ان رکعتوں میں پڑھا ہے اعادہ کریں تاکہ ختم میں نقصان نہ رہے۔" (ایضا) دوسری صورت: یہ ہے کہ دوسری رکعت پر قعدہ کے بعد تیسری کے لیے کھڑا اور پھر تیسری پر سلام پھیر کر منافی نماز کوئی کام کرنے کے بعد چوتھی کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اس صورت میں پہلی دو رکعتیں ہوگئیں۔ اور بعد کی دو رکعتیں نہ ہوئیں۔ان کو دوبارہ پڑھیں اور ان میں پڑھی آیتوں کو دوہرائیں۔حوالہ اوپر گزر چکا۔ کیوں کہ بہارِ شریعت کی عبارت یہ ہے: " اگر دوسری پر بیٹھا نہ تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رکعت پھر پڑھے" جس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر دوسری پر قعدہ کرلیا تو در رکعت تراویح معتبر ہوگی۔ومفاہیم کتب الفقہ معتبرة کما نصوا علیہ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ دوسری پر قعدہ کیے بغیر تیسری کے لیے اٹھا اور سلام کے بعد کوئی منافی نماز کام کیے بغیر چوتھی کے لیے کھڑا ہوا۔ چوتھی صورت: یہ ہے کہ دوسری پر قعدہ کے بعد تیسری کے لیے کھڑا ہوا اور بعد سلام منافی نماز کوئی کام کیے بغیر چوتھی کے لیے کھڑا ہوا اور نماز پوری کی۔ ان دونوں صورتوں کا صریح ذکر کتبِ فقہ میں نظر سے نہ گزرا اور احتیاط یہ ہے کہ اگر دوسری رکعت پر قعدہ کرلیا ہے تو دو رکعتیں دوبارہ پڑھ لے اور اگر دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا ہے تو چاروں رکعتیں دوبارہ پڑھ لے۔ کیوں کہ نماز کی رکعتیں مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیرنے سے آدمی نماز سے باہر ہوجاتا ہے یا نہیں، اس بارے میں دو قول ہیں: (١): چار رکعتی نماز میں دو یا تین رکعت کو چار رکعت خیال کرتے ہوئے غلطی سے سلام پھیرا تو منافی نماز کام سے پہلے نماز سے باہر نہ ہوگا۔اور اگر چار رکعت والی نماز کو فجر یا جمعہ سمجھ کر دو رکعت پر سلام پھیردیا تو سلام پھیرنے سے نماز سے باہر ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں چار رکعت والی نماز اس طرح بن جاتی ہے کہ جب اس نے تیسری کا سجدہ کرلیا تو اب ایک رکعت اور ملانے کا حکم ہوگیا۔اس لیے اب یہ چار رکعت والی نماز قرار پائے گی۔لیکن نمازی اس نماز کو دو رکعت والی نماز سمجھ رہا ہے اور دو رکعت والی نماز سمجھ کر ہی سلام پھیرا ہے، اس لیے بہر حال یہ سلامِ عمد ہے، اور اس سلام سے وہ نماز سے باہر ہوگیا ، خواہ بعد سلام منافیِ نماز کوئی کام ہو یا نہ ہو۔ لہذا اس قول کے اعتبار سے مسئلہ دائرہ میں اگر دو پر قعدہ کرلیا ہے تو چوں کہ قعدہ اخیرہ پالیا گیا تیسری پر سلام پھیرنے سے دو رکعت تراویح درست ہوگی اور آخر والی دو رکعتیں فاسد ہیں انھیں دوبارہ پڑھے۔ اور اگر دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا ہے تو قعدہ اخیرہ نہ پائے جانے کی وجہ سے پہلی دو رکعتیں نہ ہوئیں اور سلامِ عمد ہونے کے باعث بعد کی ایک رکعت کے بعد وہ نماز سے باہر ہوگیا لہذا چاروں رکعتیں دوبارہ پڑھے۔ در مختار میں ہے: "(سَلَّمَ مُصَلِّي الظُّهْرِ) مَثَلًا (عَلَى) رَأْسِ (الرَّكْعَتَيْنِ تَوَهُّمًا) إتْمَامَهَا (أَتَمَّهَا) أَرْبَعًا (وَسَجَدَ لِلسَّهْوِ) لِأَنَّ السَّلَامَسَاهِيًا لَا يُبْطِلُ لِأَنَّهُ دُعَاءٌ مِنْ وَجْهٍ (بِخِلَافِ مَا لَوْ سَلَّمَ عَلَى ظَنِّ) أَنَّ فَرْضَ الظُّهْرِ رَكْعَتَانِ، بِأَنْ ظَنَّ (أَنَّهُ مُسَافِرٌ أَوْ أَنَّهَا الْجُمُعَةُ أَوْ كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِالْإِسْلَامِ فَظَنَّ أَنَّ فَرْضَ الظُّهْرِ رَكْعَتَانِ أَوْ كَانَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَظَنَّ أَنَّهَا التَّرَاوِيحُ فَسَلَّمَ) أَوْ سَلَّمَ ذَاكِرًا أَنَّ عَلَيْهِ رُكْنًا حَيْثُ تَبْطُلُ لِأَنَّهُ سَلَامُ عَمْدٍ. وَقِيلَ لَا تَبْطُلُ حَتَّى يَقْصِدَ بِهِ خِطَابَ آدَمِيٍّ۔" (در مختار ج٢ ص۵۵٩ ، ۵٦٠) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "قَوْلُهُ لِأَنَّهُ سَلَامُ عَمْدٍ) اسْتَشْكَلَ الْعَلَّامَةُ الْمَقْدِسِيَّ الْفَرْقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَا قَبْلَهُ فَإِنَّهُ عَمْدٌ أَيْضًا. قُلْت: وَذَكَرَ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ الْفَرْقَ بِأَنَّهُ فِي الْأَوَّلِ سَلَّمَ عَلَى ظَنِّ إتْمَامِ الْأَرْبَعِ فَيَكُونُ سَلَامُهُ سَهْوًا، وَهُنَا سَلَّمَ عَالِمًا بِأَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَوَقَعَ سَلَامُهُ عَمْدًا فَيَكُونُ قَاطِعًا فَلَا يَبْنِي. اهـ. وَفِي التَّتَارْخَانِيَّة أَنَّ السَّهْوَ إنْ وَقَعَ فِي أَصْلِ الصَّلَاةِ أَوْجَبَ فَسَادَهَا، وَإِنْ فِي وَصْفِهَا فَلَا، فَالْأَوَّلُ كَمَا إذَا سَلَّمَ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ عَلَى ظَنِّ أَنَّهُ فِي الْفَجْرِ أَوْ الْجُمُعَةِ أَوْ السَّفَرِ، وَالثَّانِي كَمَا إذَا سَلَّمَ عَلَيْهِمَا عَلَى ظَنِّ أَنَّهَا رَابِعَةٌ اهـ أَيْ لِأَنَّ الْعَدَدَ بِمَنْزِلَةِ الْوَصْفِ. وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ إذَا ظَنَّ أَنَّهَا الْفَجْرُ مَثَلًا يَكُونُ قَاصِدًا لِإِيقَاعِ السَّلَامِ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ فَيَكُونُ مُتَعَمِّدًا لِلْخُرُوجِ قَبْلَ إتْمَامِ الصَّلَاةِ الَّتِي شَرَعَ فِيهَا، بِخِلَافِ مَا إذَا سَلَّمَ عَلَى ظَنِّ الْإِتْمَامِ فَإِنَّهُ لَمْ يَتَعَمَّدْ إلَّا إيقَاعَهُ بَعْدَ الْأَرْبَعِ، فَوَقَعَ قَبْلَهَا سَهْوًا؛ وَبِالْجُمْلَةِ فَالسَّلَامُ مِنْ حَيْثُ ذَاتُهُ عَمْدٌ فِيهِمَا، وَمِنْ حَيْثُ مَحَلُّهُ مُخْتَلِفٌ فَتَدَبَّرْ." (رد المحتار مع الدر ج٢ ص۵۵٩ ، ۵٦٠) (٢): دوسرا قول یہ ہے کہ نماز کی رکعتیں مکمل ہونے سے پہلے جو سلام پھیرا گیا اس سلام سے جب تک کسی آدمی کو سلام کے قصد سے سلام نہ پھیرے حرمتِ نماز سے باہر نہیں ہوگا۔اس دوسرے قول کے مطابق تیسری اور چوتھی دونوں صورتوں میں چاروں رکعتیں تراویح ہوجائیں گی لیکن اس قول کو مدقق علائی رحمہ اللہ تعالی نے "قیل" سے بیان کیا ہے جو عام طور پر مفید تضعیف ہے اور علامہ بحر اور شامی علیہما الرحمہ نے قول اول کو "وَالْأَوَّلُ الْمَجْزُومُ بِهِ فِي كُتُبٍ عَدِيدَةٍ مُعْتَمَدَةٍ." سے تقویت دی ہے۔لہذا مذکورہ بالا احتیاط پر عمل مناسب ہے۔ ھذا ما ظھر لی والعلم بالحق عند اللہ تعالی۔ وھو سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٩/رمضان المبارک</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ١١/اپریل ٢٠٢٢۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...