Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1402 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.7K Views

تعویذ پہننا کیسا ہے؟ از مفتی منظور القادری

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

تعویذ پہننا کیسا ہے؟ از مفتی منظور القادری

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

تعویذ پہننا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ تمامی حضرات سے ایک سوال ہے کہ تعویذ پہننا کیسا ہے؟ حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں بہت بہت مہربانی ہوگی۔ سائل محمد سرفراز وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بتوفیق الملک الوھاب  صورت مسئولہ میں اہلسنت کے نزدیک آیات قرآنیہ، اسماۓ الہیہ اوردعائیہ کلمات کے تعویذات پہننا جائز ہے ۔ جیسا کہ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں “گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے، جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیات قرآنیہ یا اسماء الہیہ (اللہ پاک کے ناموں) یا ادعیہ (دعاؤں) سے تعویذ کیا جائے اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے، اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں، جو زمانۂ جاہلیت میں کۓ جاتے تھے، اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ کو رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شفا پلانا بھی جائز ہے۔ جنب و حائض و نفسا بھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں، بازو پر باندھ سکتے ہیں جبکہ غلاف میں ہوں۔ (بہارشریعت جلد ٣، حصہ، ١٦ ،صفحہ ٦٥٢، متفرقات کا بیان،مطبوعہ دعوت اسلامی) اور اعلی حضرت عظیم البرکت مجددین وملت الشاہ امام احمدرضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان ُ “فتاوی افریقہ” میں تحریر فرماتے ہیں، “جائز تعویذ کہ قران کریم یا اسمائے الہیہ (یعنی اللہ تعالی کے ناموں) یا دیگر اذکار و دعوات (دعاؤں) سے ہو اس میں اصلا حرج نہیں بلکہ مستحب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ایسے ہی مقام میں فرمایا کہ “من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ” یعنی تم میں جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچا سکے (تو اسے نفع) پہنچائے۔ (فتاوی افریقہ صفحہ،١٥١) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب کتبـــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>تعویذ پہننا کیسا ہے؟</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ تمامی حضرات سے ایک سوال ہے کہ تعویذ پہننا کیسا ہے؟ حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں بہت بہت مہربانی ہوگی۔ سائل محمد سرفراز وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بتوفیق الملک الوھاب </strong></span> صورت مسئولہ میں اہلسنت کے نزدیک آیات قرآنیہ، اسماۓ الہیہ اوردعائیہ کلمات کے تعویذات پہننا جائز ہے ۔ جیسا کہ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں "گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے، جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیات قرآنیہ یا اسماء الہیہ (اللہ پاک کے ناموں) یا ادعیہ (دعاؤں) سے تعویذ کیا جائے اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے، اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں، جو زمانۂ جاہلیت میں کۓ جاتے تھے، اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ کو رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شفا پلانا بھی جائز ہے۔ جنب و حائض و نفسا بھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں، بازو پر باندھ سکتے ہیں جبکہ غلاف میں ہوں۔ (بہارشریعت جلد ٣، حصہ، ١٦ ،صفحہ ٦٥٢، متفرقات کا بیان،مطبوعہ دعوت اسلامی) اور اعلی حضرت عظیم البرکت مجددین وملت الشاہ امام احمدرضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان ُ "فتاوی افریقہ” میں تحریر فرماتے ہیں، "جائز تعویذ کہ قران کریم یا اسمائے الہیہ (یعنی اللہ تعالی کے ناموں) یا دیگر اذکار و دعوات (دعاؤں) سے ہو اس میں اصلا حرج نہیں بلکہ مستحب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ایسے ہی مقام میں فرمایا کہ <span style="color: #ff0000;"><strong>"من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ"</strong></span> یعنی تم میں جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچا سکے (تو اسے نفع) پہنچائے۔ (فتاوی افریقہ صفحہ،١٥١) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...