Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1165
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.6K Views
تنہا نفل نماز پڑھنے میں جہر سے قراءت کرنے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
تنہا نفل نماز پڑھنے میں جہر سے قراءت کرنے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
تنہا نفل نماز پڑھنے میں جہر سے قراءت کرنے کا حکم
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکا تہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام کی سنن ونوافل نمازوں میں اتنی زور سے سورہ فاتحہ اور سورتیں پڑھنا کہ پوری مسجد میں آواز آئے کیا ایسا پڑھنا درست ہے؟ اور فرض نمازوں میں جو تسبیحات پڑھی جاتی ہے اس کواتنی زورسے پڑھنا کہ آواز بغل والے سنے تو ایسا پڑھنا درست ہے کہ نہیں؟ علماء کرام مہربانی فرما کر حدیث وقرآن کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔ المستفتی: محمد وسیم قادری چمبور ممبئی الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ رات کے سنن و نوافل کو تنہا پڑھنے والا بھی بلند آواز سے قراءت کرسکتا ہے، لیکن دن کے نوافل میں تنہا پڑھنے والے کو آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: ” (كَمُتَنَفِّلٍ بِالنَّهَارِ) فَإِنَّهُ يُسِرّ(وَيُخَيَّرُ الْمُنْفَرِدُ فِي الْجَهْرِ) وَهُوَ أَفْضَلُ وَيُكْتَفَى بِأَدْنَاهُ (إنْ أَدَّى) وَفِي السَّرِيَّةِ يُخَافِتُ حَتْمًا عَلَى الْمَذْهَبِ كَمُتَنَفِّلٍ بِاللَّيْلِ مُنْفَرِدًا؛ فَلَوْ أَمَّ جَهَرَ لِتَبَعِيَّةِ النَّفْلِ لِلْفَرْضِ زَيْلَعِيٌّ” (در مختار، کتاب الصلاة،فصل فی القراءة) فتاوی عالم گیری میں ہے: “وَأَمَّا نَوَافِلُ النَّهَارِ فَيُخْفِي فِيهَا حَتْمًا، وَفِي نَوَافِلِ اللَّيْلِ يَتَخَيَّرُ، كَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ.” (فتاوی عالم گیری ج١ ص ٧٣) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “دن کے نوافل میں آہستہ پڑھنا واجب ہے اور رات کے نوافل میں اختیار ہے اگر تنہا پڑھے، اور جماعت سے رات کے نفل پڑھے، تو جہر واجب ہے۔” (بہار شریعت ح٣ ص۵۴٩) اب یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آہستہ پڑھنے اور جہر سے پڑھنے کا کم از کم کیا درجہ ہے؟ لہذا معلوم ہونا چاہیے کہ آہستہ پڑھنے کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ اگر شور و غل نہ ہو یا پڑھنے والا اونچا نہ سنتا ہو تو اتنی آواز کم سے کم ضرور ہے کہ خود سنے،بغیر اس کے نماز ہی نہیں ہوگی اور اگر قریب کے دو ایک آدمی بھی سن لیں تو یہ آہستہ ہونے کے خلاف نہیں ہے۔اور جہر کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ دوسرے کو سنائے اور زیادہ زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: “(وَ) أَدْنَى (الْجَهْرِ إسْمَاعُ غَيْرِهِ وَ) أَدْنَى الْمُخَافَتَةِ إسْمَاعُ نَفْسِهِ) وَمَنْ بِقُرْبِهِ؛ فَلَوْ سَمِعَ رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ فَلَيْسَ بِجَهْرٍ، وَالْجَهْرُ أَنْ يَسْمَعَ الْكُلُّ خُلَاصَةٌ” فتاوی عالم گیری میں ہے: “اخْتَلَفُوا فِي حَدِّ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو جَعْفَرٍ وَالشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ أَدْنَى الْجَهْرِ أَنْ يُسْمِعَ غَيْرَهُ، وَأَدْنَى الْمُخَافَتَةِ أَنْ يُسْمِعَ نَفْسَهُ وَعَلَى هَذَا يُعْتَمَدُ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ. وَهُوَ الصَّحِيحُ، كَذَا فِي الْوِقَايَةِ وَالنُّقَايَةِ وَبِهِ أَخَذَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ كَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ.” (فتاوی ہندیہ ج١ص ٧٣) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “یہ تو پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ قراء ت میں اتنی آواز درکار ہے کہ اگر کوئی مانع مثلاً ثقلِ سماعت شور وغل نہ ہو تو خود سُن سکے، اگر اتنی آواز بھی نہ ہو، تو نماز نہ ہوگی۔ اسی طرح جن معاملات میں نطق کو دخل ہے سب میں اتنی آواز ضروری ہے، مثلاً جانور ذبح کرتے وقت بسم ﷲ کہنا، طلاق، عتاق، استثنا، آیتِ سجدہ پڑھنے پر سجدۂ تلاوت واجب ہونا۔” (بہار شریعت ح٣ ص۵۴٨) نیز تحریر فرماتے ہیں: “جہر کے یہ معنیٰ ہیں کہ دوسرے لوگ یعنی وہ کہ صفِ اوّل میں ہیں سُن سکیں ، یہ ادنیٰ درجہ ہے اور اعلیٰ کے لیے کوئی حد مقرر نہیں اور آہستہ یہ کہ خود سُن سکے۔ اس طرح پڑھنا کہ فقط دو ایک آدمی جو اس کے قریب ہیں سُن سکیں ، جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے۔ (ایضا) ہاں! تنہا پڑھنے والے کا جہر امام کے جہر سے کم ہونا چاہیے اور حاجت سے زیادہ اتنی بلند سے پڑھنا جو اپنے یا دوسرے کے لیےباعثِ اذیت ہو مکروہ ہے۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “وَلَكِنْ لَا يُبَالِغْ مِثْلَ الْإِمَامِ؛ لِأَنَّهُ لَا يُسْمِعُ غَيْرَهُ، كَذَا فِي التَّبْيِينِ، وَلَا يُجْهِدُ الْإِمَامُ نَفْسَهُ بِالْجَهْرِ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ.وَإِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ فَوْقَ حَاجَةِ النَّاسِ فَقَدْ أَسَاءَ؛ لِأَنَّ الْإِمَامَ إنَّمَا يَجْهَرُ لِإِسْمَاعِ الْقَوْمِ لِيَدَّبَّرُوا فِي قِرَاءَتِهِ لِيَحْصُلَ إحْضَارُ الْقَلْبِ۔” (فتاوی عالم گیری ج١ص٧٣) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “حاجت سے زیادہ قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسرے کے لیے باعثِ تکلیف ہو، مکروہ ہے” (بہارِ شریعت ح ٣ص۵۴٨ ) فرض نمازوں کی تسبیحات میں بھی کم سے کم اتنی آواز ہو کہ خود سن سکے اور اگر آواز بغل والے تک پہونچ جائے تو حرج نہیں۔نماز میں خشوع کے ساتھ اپنی تسبیحات و اذکار کی طرف توجہ رکھنی چاہیے۔دوسروں کی نقل وحرکت اور تسبیحات کی طرف کان نہیں لگانا چاہیے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ١٦/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٠/جنوری ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>تنہا نفل نماز پڑھنے میں جہر سے قراءت کرنے کا حکم</h2> السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکا تہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام کی سنن ونوافل نمازوں میں اتنی زور سے سورہ فاتحہ اور سورتیں پڑھنا کہ پوری مسجد میں آواز آئے کیا ایسا پڑھنا درست ہے؟ اور فرض نمازوں میں جو تسبیحات پڑھی جاتی ہے اس کواتنی زورسے پڑھنا کہ آواز بغل والے سنے تو ایسا پڑھنا درست ہے کہ نہیں؟ علماء کرام مہربانی فرما کر حدیث وقرآن کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔ المستفتی: محمد وسیم قادری چمبور ممبئی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> رات کے سنن و نوافل کو تنہا پڑھنے والا بھی بلند آواز سے قراءت کرسکتا ہے، لیکن دن کے نوافل میں تنہا پڑھنے والے کو آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>" (كَمُتَنَفِّلٍ بِالنَّهَارِ) فَإِنَّهُ يُسِرّ(وَيُخَيَّرُ الْمُنْفَرِدُ فِي الْجَهْرِ) وَهُوَ أَفْضَلُ وَيُكْتَفَى بِأَدْنَاهُ (إنْ أَدَّى) وَفِي السَّرِيَّةِ يُخَافِتُ حَتْمًا عَلَى الْمَذْهَبِ كَمُتَنَفِّلٍ بِاللَّيْلِ مُنْفَرِدًا؛ فَلَوْ أَمَّ جَهَرَ لِتَبَعِيَّةِ النَّفْلِ لِلْفَرْضِ زَيْلَعِيٌّ"</strong></span> (در مختار، کتاب الصلاة،فصل فی القراءة) فتاوی عالم گیری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَأَمَّا نَوَافِلُ النَّهَارِ فَيُخْفِي فِيهَا حَتْمًا، وَفِي نَوَافِلِ اللَّيْلِ يَتَخَيَّرُ، كَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ."</strong></span> (فتاوی عالم گیری ج١ ص ٧٣) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: "دن کے <a href="https://masailworld.com/nafil-namaz-jamat-ke-saath-padh-sakte-hain-ya-nahi/"><strong>نوافل</strong></a> میں آہستہ پڑھنا واجب ہے اور رات کے نوافل میں اختیار ہے اگر تنہا پڑھے، اور جماعت سے رات کے نفل پڑھے، تو جہر واجب ہے۔" (بہار شریعت ح٣ ص۵۴٩) اب یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آہستہ پڑھنے اور جہر سے پڑھنے کا کم از کم کیا درجہ ہے؟ لہذا معلوم ہونا چاہیے کہ آہستہ پڑھنے کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ اگر شور و غل نہ ہو یا پڑھنے والا اونچا نہ سنتا ہو تو اتنی آواز کم سے کم ضرور ہے کہ خود سنے،بغیر اس کے نماز ہی نہیں ہوگی اور اگر قریب کے دو ایک آدمی بھی سن لیں تو یہ آہستہ ہونے کے خلاف نہیں ہے۔اور جہر کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ دوسرے کو سنائے اور زیادہ زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"(وَ) أَدْنَى (الْجَهْرِ إسْمَاعُ غَيْرِهِ وَ) أَدْنَى الْمُخَافَتَةِ إسْمَاعُ نَفْسِهِ) وَمَنْ بِقُرْبِهِ؛ فَلَوْ سَمِعَ رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ فَلَيْسَ بِجَهْرٍ، وَالْجَهْرُ أَنْ يَسْمَعَ الْكُلُّ خُلَاصَةٌ"</strong></span> فتاوی عالم گیری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"اخْتَلَفُوا فِي حَدِّ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو جَعْفَرٍ وَالشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ أَدْنَى الْجَهْرِ أَنْ يُسْمِعَ غَيْرَهُ، وَأَدْنَى الْمُخَافَتَةِ أَنْ يُسْمِعَ نَفْسَهُ وَعَلَى هَذَا يُعْتَمَدُ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ.</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>وَهُوَ الصَّحِيحُ، كَذَا فِي الْوِقَايَةِ وَالنُّقَايَةِ وَبِهِ أَخَذَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ كَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ."</strong></span> (فتاوی ہندیہ ج١ص ٧٣) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "یہ تو پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ قراء ت میں اتنی آواز درکار ہے کہ اگر کوئی مانع مثلاً ثقلِ سماعت شور وغل نہ ہو تو خود سُن سکے، اگر اتنی آواز بھی نہ ہو، تو نماز نہ ہوگی۔ اسی طرح جن معاملات میں نطق کو دخل ہے سب میں اتنی آواز ضروری ہے، مثلاً جانور ذبح کرتے وقت بسم ﷲ کہنا، طلاق، عتاق، استثنا، آیتِ سجدہ پڑھنے پر سجدۂ تلاوت واجب ہونا۔" (بہار شریعت ح٣ ص۵۴٨) نیز تحریر فرماتے ہیں: "جہر کے یہ معنیٰ ہیں کہ دوسرے لوگ یعنی وہ کہ صفِ اوّل میں ہیں سُن سکیں ، یہ ادنیٰ درجہ ہے اور اعلیٰ کے لیے کوئی حد مقرر نہیں اور آہستہ یہ کہ خود سُن سکے۔ اس طرح پڑھنا کہ فقط دو ایک آدمی جو اس کے قریب ہیں سُن سکیں ، جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے۔ (ایضا) ہاں! تنہا پڑھنے والے کا جہر امام کے جہر سے کم ہونا چاہیے اور حاجت سے زیادہ اتنی بلند سے پڑھنا جو اپنے یا دوسرے کے لیےباعثِ اذیت ہو مکروہ ہے۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَلَكِنْ لَا يُبَالِغْ مِثْلَ الْإِمَامِ؛ لِأَنَّهُ لَا يُسْمِعُ غَيْرَهُ، كَذَا فِي التَّبْيِينِ، وَلَا يُجْهِدُ الْإِمَامُ نَفْسَهُ بِالْجَهْرِ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ.وَإِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ فَوْقَ حَاجَةِ النَّاسِ فَقَدْ أَسَاءَ؛ لِأَنَّ الْإِمَامَ إنَّمَا يَجْهَرُ لِإِسْمَاعِ الْقَوْمِ لِيَدَّبَّرُوا فِي قِرَاءَتِهِ لِيَحْصُلَ إحْضَارُ الْقَلْبِ۔"</strong></span> (فتاوی عالم گیری ج١ص٧٣) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: "حاجت سے زیادہ قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسرے کے لیے باعثِ تکلیف ہو، مکروہ ہے" (بہارِ شریعت ح ٣ص۵۴٨ ) فرض نمازوں کی تسبیحات میں بھی کم سے کم اتنی آواز ہو کہ خود سن سکے اور اگر آواز بغل والے تک پہونچ جائے تو حرج نہیں۔نماز میں خشوع کے ساتھ اپنی تسبیحات و اذکار کی طرف توجہ رکھنی چاہیے۔دوسروں کی نقل وحرکت اور تسبیحات کی طرف کان نہیں لگانا چاہیے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١٦/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٠/جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...