01
The questionSawaal
اصل سوالتولہ شرعی و عرفی میں فرق از مفتی ارشد حسین فیضی
02
The responseAl-Jawab
تولہ شرعی و عرفی میں فرق زکاۃ شرعی پیمانے سے ادا کی جائے یا انگریزی پیمانے سے؟
مفتی محمد ارشد حسین الفیضی الامجدی السلام علیکم و رحمة الله و بركاته کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین کہ ایک تولہ موجودہ انگریزی پیمانے ( گرام) کے اعتبار سے کتنا ہوتا ہے؟ نیز زمانے میں رائج پیمانے کے اعتبار سے زکاة ادا کی جائےگی یا اسلام کا کوئی اپنا پیمانہ ہے؟ مزید یہ کہ ایک ماشہ کا انگریزی ( گرام یا ملی گرام) کے اعتبار سے کتنا ہوگا؟ ساتھ ہی رَتی کا وزن میں کیا اعتبار ہے؟ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتی: محمد حسن فیضی سدتھارتھ نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب۔ وعليكم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔تولہ دوقسم کا مستعمل ہے(١)تولۂ شرعی (٢)تولۂ عرفی یعنی رائج ایک تولۂ شرعی کا وزن قدیم بارہ ماشہ ہے اور ایک ماشہ (جوکہ آٹھ رتی کا ہوتا ہے) کا موجودہ وزن تقریباً١/٠٣٦٨ گرام ہے اور بارہ ماشہ یعنی ایک تولہ کا موجودہ وزن بارہ گرام چار سو اکتالیس ملی گرام چھ پوائنٹ (١٢/٤٤١.٦) ہے اس حساب سے ساڑھے سات تولہ سونا نوے ماشہ ہوا جس کا موجودہ وزن ترانوے گرام تین سو بارہ ملی گرام (٩٣/٣١٢) ہے اور ساڑھے باون تولہ چاندی چھ سو تیس ماشہ ہواجس کا موجودہ وزن تقریباً چھ سو تریپن گرام ہے.(ماخوذ از ماہنامہ اشرفیہ جنوری ٢٠٠٢ء مضمون حضرت مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ. وماہنامہ اشرفیہ شمارہ مئی ٢٠٠٤ء مضمون حضرت مفتی نظام الدین رضوی برکاتی) اور وجوب زکاۃ میں اسی تولۂ شرعی کا اعتبار ہے لہذا جس کے پاس اس تولۂ شرعی کے اعتبار ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ان میں سے کسی ایک کی مالیت کا پیسہ ہو اس پر زکوٰۃ واجب ہے اور تولۂ عرفی یعنی رائج دس گرام کا ہوتا اس لحاظ سے ساڑھے سات تولہ سونے کا موجودہ وزن پچہتر گرام ہوگا جس کا وجوب زکوٰۃ ودیت اور مہر وغیرہ میں کوئی اعتبار نہیں. بہار شریعت میں ہے”سونے کی نصاب بیس مثقال ہے یعنی ساڑھے سات تولے اور چاندی کی دوسو درم یعنی ساڑھے باون تولے یعنی وہ تولہ جس سے یہ رائج روپیہ سوا گیارہ ماشے ہے” اھ(ح٥ص٩٠٢،کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ الذھب والفضۃ،مکتبۃ المدینہ) رد المحتار میں ہے”ولذا کانت الدراھم العشرۃ وزن سبعۃ وھٰذا یجری فی کل شئی حتی فی الزکاۃ ونصاب السرقۃ والمھر وتقدیر الدیات”اھ(ج٣ص٢٦٧،کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ المال) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٣رمضان المبارک ١٤٤٣ھ
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.